آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پولیو سے پاک پاکستان: مشکلات اور حکمتِ عملی

1790 ء کی دہائی میں ویکسین کی دریافت امراض کی روک تھام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بنی جس کے بعد ایک انسان سے دوسرے کو لگنے والی بیماریوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہوا۔

گزشتہ دوسوسالوں کے دوران جس بیماری کا سب سے پہلے خاتمہ کیا گیا، وہ چیچک تھی۔ آج یہ متعدی مرض دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں۔ چیچک کا آخری مریض 1980 ء میں دیکھنے میں آیا تھا۔

یہ شاندار کامیابی بہت امید افزا تھی۔ 1988میں عالمی ادارہ صحت دنیا سے پولیو کے خاتمے کے لئے کمر بستہ ہوا۔

چیچک کا خاتمہ نسبتاً ایک سادہ عمل تھا، کیونکہ ا س کے لئے صرف دو بنیادی اقدامات درکار تھے: تلاش اورخاتمہ۔ مریض کی تلاش آسان تھی کیونکہ چیچک سے متاثرہ شخص کی جلد پر اس کے نشانات آسانی سے دیکھےجاسکتے تھے ۔

بیماری پر قابو پانا بھی اتنا مشکل نہ تھا ،اس پر قابو پانےکے لئےصرف قوت ِ مدافعت بڑھانےکی ویکسین دی جاتی جس پر گرم موسم کا اثرنہیں ہوتا تھا، پولیو کی ابتدائی علامات دو سو میں سے بمشکل ایک مریض پر ظاہر ہوتی ہیں اسلئے تشخیص ایک مشکل مرحلہ ہے۔

نیز درجہ حرارت کے اثرات سے فوری متاثر ہونے والی اس حساس ویکسین کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا آسان کام نہیں۔

بہرحال عالمی سطح پر کی جانے والی سرمایہ کاری ، وسائل کامناسب استعمال اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں پولیو کے 99 فیصد کیسز میں کمی آئی ہے۔

1988میں دنیا کے 125ممالک میں پولیو پایا جاتا تھا جبکہ آج صرف دو ممالک میں پولیو کے مریض ملتے ہیں اور یہ دو ممالک ہیں افغانستان اور پاکستان۔

1988ء میں دنیا بھر میں پولیو سے یومیہ 1000بچے معذور ہورہے تھے۔ 2019 ء میں یہ تعداد یومیہ ایک بچے سے بھی کم تھی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس بیماری کے خلاف بھی بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی گئی ہے ۔

پاکستان نے 1994 ء میں پولیو کے خاتمے کے لئے منظم کوششیں شروع کیں۔ ہمارے بہادر کارکنوں نے پولیو سے ہونے والے فالج اور اموات جن کی تعداد 875,000تھی میںکمی لاتے ہوئے انہیں 1980ءاور 1990ء کی دہائیوں کے دوران 20,000 تک محدود کردیا۔

اس دوران ٹائپ 2 اور ٹائپ 3 پولیو وائرس کا بالترتیب 1997 ء اور 2012ء میں خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ اب صرف ٹائپ 1 کا وائرس ( WPV1) باقی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنوں کوتحفظ فراہم کیا۔ سائنسی بنیاد، موثر تعاون ، حکومت اور عالمی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں نے پولیو کے کیسز کو2017 میں 8اور 2018ء میں 12تک محدود کردیاگیا تھا۔

پاکستان اور عالمی برادری کی یہ کوشش ہوگی کہ بے پناہ کاوشوں کے بعد حاصل ہونے والی کامیابی کو برقراررکھاجائے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ موثر حکمت ِعملی ترتیب دے کرپولیو وائرس کے خاتمے کی فیصلہ کن کوششیں کی جائیں ۔

پاکستان کو جن چیلنجزکا سامنا ہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کمزور قوت ِ مدافعت، غذائی قلت ،بچوں کی خراب صحت، آلودہ پانی اور صفائی کے ناقص انتظامات پولیو وائرس پر قابو پانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان میں سرحد کے آر پار نقل و حرکت بھی معاملے کو مزید الجھارہی ہے ۔

قطرے پلانے والے کارکنوں کے حوصلے، اعتماد اور غیر متزلزل ارادے کے ساتھ پولیو کے خاتمے کیلئے منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں ، حکومت اور پاک فوج اور سول سوسائٹی کی مشترکہ لگن کا اظہار دسمبر 2019 ء میں قطرے پلانے کی ایک بھرپور ملک گیر مہم کی صورت دیکھنے میں آیا۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ویکسین کے خلاف مزاحمت کم ہوتی جارہی ہے ۔ اپریل 2019 ء میں قطرے نہ پینے والے بچوں کی تعداد 999,415 سے کم ہوکر دسمبر 2019 ء میں 228,179 رہ گئی ۔ مہم کے دوران ہمارے کارکنوں نے 363,000 ایسے بچوں کی شناخت کی ۔

جنہیں کسی قسم کی ویکسین کبھی نہیں ملی تھی ایسے علاقوں کی یونین کونسلوں سے حاصل کردہ اعدادوشمار ’’حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام‘‘ کے حوالے کئے گئے، تاکہ ان تک رسائی حاصل کی جاسکے ۔

یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قطرے پلانے پر مزاحمت کرنے والے زیادہ تر خاندانوں کا تعلق کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اس کے مضافات، پشین اور قلعہ عبدﷲ کے علاوہ جنوبی خیبرپختونخواکے اضلاع سے ہے۔

ا ن علاقوں میں رہنے والے بچوں کو نہ صرف معذوری کے خطرے کا سامنا ہے بلکہ وہ وائرس کی دیگر مقامات پر منتقلی کا باعث بھی بنتے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کی بطور مشترکہ کاوش تشہیر اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان 2020 ء بنایا گیاتاکہ پولیو وائرس کی روک تھام کے لئے موثر حکمت ِعملی اپنائی جاسکے ۔

ہم نے پولیو کے خطرے سے دوچار چالیس یونین کونسلز کی نشاندہی کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کئے جاسکیں۔ ان علاقوں میں ہم انفراسٹرکچر ، انسانی وسائل ، جانچ اور جائزے کے عمل کو ترقی دے کر فعال بنا رہے ہیںتاکہ پولیو مہم کے معیارمیں اضافہ ہو اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے جاسکیں۔ احساس پروگرام اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ وسیع تر شراکت داری قائم کی جارہی ہے ۔

پولیو ویکسین پلانے کے طریق ِ کار میں تبدیلی کی گئی ہے ۔ اب مہم کے لئے مخصوص دنوں کے اندر تمام بچوں کو لازمی طور پر قطرے پلائے جائیں گے ، ان مہموں کے درمیان وقفہ ہوگا۔ اس وقفے کے دوران اگلی مہم کی تیاری اورآگاہی کے لئے کافی وقت مل جائے گا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر ایک حکمت ِعملی ترتیب دی ہے تاکہ مستعدی ، مہارت اور دلجمعی کے ساتھ پولیو اور دیگر متعدی امراض سے اپنے وطن کو پاک کیا جاسکے۔

پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن اس کاوش میں ہمارا ہراول دستہ ہیں۔ میں اُن کی بہادری، دلیری اور عزم کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں ہر پاکستانی سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس مقدس کوشش کو اپنی زندگی کا مشن بنالے ۔

آئیے بطور ایک قوم مل کر پاکستان کو پولیو سے پاک کریںتاکہ آنے والی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے بچا یا جاسکے۔ صرف اسی صورت میںہم پاکستان کو عالمی برداری میں ایک باوقار مقام دلاسکتے ہیں۔

(صاحب ِمضمون وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ہیں)