آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار


گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، جس میں شرح سود کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں بہتر ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کے شعبے میں بھی اچھی پرفارمنس ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے اچھے اشاریے سامنے آرہے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی پروڈکشن بھی بڑھ رہی ہے اور مقامی مارکیٹ میں اس کی کھپت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ کافی ایسے سیکٹرز ہیں جن کی پروڈکشن اور سیلز بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں رواں سال منہگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی تاہم سپلائی کا عمل بہتر ہونے سے مہنگائی کی شرح میں کمی بھی متوقع ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے ریٹس رینج میں ہیں۔

رضا باقر نے کہا کہ رواں سال ہدف سے کم زرعی پیداوار ہونے کا خدشہ ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے تجویز پیش کی کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے برآمدات کی صنعت کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صنعتیں لگیں گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ اسکیمز کے لیے 200 ارب روپے کا اضافہ کر رہے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ ینک نے ملک میں چھوڑے برآمد کنندگان کے لیے بھی آئندہ پالیسی لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

رضاباقر کا کہنا تھا کہ ایل ٹی ایف کی حد ڈھائی ارب سے بڑھا کر 5 ارب کردی ہے، جبکہ کمرشل امپوٹرز 10 ہزار ڈالر کی ایڈوانس پیمنٹ کر سکیں گے۔

تجارتی خبریں سے مزید