آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل23؍جمادی الثانی 1441ھ 18؍ فروری2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چین میں کورونا وائرس سے مزید 26 افراد ہلاک

چین میں کورونا وائرس سے مزید 26 افراد ہلاک


چین میں کورونا وائرس سے مزید 26 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد 132 ہو گئی۔

چین بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار ہو گئی ہے۔

امریکا نے چین کے کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان Wuhan سے اپنے 240 شہریوں کو طیارہ بھیج کر نکال لیا ہے جبکہ جاپان نے بھی اپنے 200 شہریوں کو چین سے نکال لیا ہے۔

اس سے قبل وائرس پھیلنے سے روکنے کے لیے منگولیا نے چین اور شمالی کوریا کے ساتھ اپنی سرحد مکمل بندکر دی تھی۔

چین کے 17 شہروں میں ٹرین، بس اور فضائی سروس مکمل بند ہے، ہانگ کانگ کے ریلوے اسٹیشنز سنسان پڑے ہیں، وائرس کے باعث ہانگ کانگ حکومت نے سرکاری ملازمین کو چھٹیوں کے بعد گھروں سے ہی کام کرنے ہدایت کر دی ہے۔

جرمنی اور کمبوڈیا میں بھی کورونا وائرس کے کیس سامنے آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: کراچی میں کورونا وائرس کے 8 مشتبہ کیسز رپورٹ

ہانگ کانگ اور ملائیشیاء نے اپنے شہریوں کو چینی صوبے ہیبی کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فلپائن نے چینی شہریوں کے لیے ویزہ آن ارائیول کی سہولت ختم کر دی ہے۔

اس خطرناک اور لاعلاج وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کا پہلے کیسز جاپان اور جرمنی میں بھی سامنے آچکے ہیں، متاثرہ مریضوں نے چین کے شہر ووہان کا دورہ نہیں کیا، لیکن پھر بھی اس وائرس کا نشانہ بن گئے۔

ادھر امریکا، جاپان اور فرانس کے بعد آسٹریلیا، بھارت، جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسپین نے بھی اپنے شہریوں کے ووہان سے انخلاء کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ہانگ کانگ نے چین سے جڑی اپنی کچھ سرحدوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک بھی پازیٹو نہیں آیا جبکہ کوئی کیس عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی بیان کردہ تعریف پر پورا نہیں اترتا۔

یہ بھی پڑھیئے: جرمنی میں کورونا وائرس کا پہلا کیس

ڈی جی صحت سندھ نے مشتبہ کیسز پر سرویلینس سیل کو مزید فعال کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

صوبائی محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے محکمۂ صحت سے 25 جنوری کو رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے پاس کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

مجموعی طور پر 8 مشتبہ کیسز آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں رپورٹ ہوئے ہیں جو چینی باشندے ہیں، ان میں سے 5 مشتبہ کیسز کو یونیورسٹی نے بیماری کی تعریف سے شناخت کیا ہے جبکہ باقی 3 کیسز کو 27 مریضوں کے لیے گئے نمونوں سے الگ کیا گیا ہے۔

اس صورتِ حال پر محکمۂ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان 8 مشتبہ کیسز میں سے ایک نے چین کا سفر نہیں کیا تاہم چینی باشندوں سے رابطہ و میل جول رکھا جبکہ باقی 7 نے جنوری میں چین کا سفر کیا اور ان تمام افراد کو نزلہ تھا۔

ان 8 میں سے 7 افراد کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ (کینپ) پر ملازم ہیں جن میں سے 4 کو صحت مند ہونے پر اسپتال سے ڈس چارج کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مریض ڈاکٹروں کی تجویز کے برخلاف علاج مکمل کیے بغیر روانہ ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق باقی 2 مریضوں کو کلیئر قرار دیا گیا ہے جن کو کورونا وائرس نہیں لیکن ان کا آبزرویشن کے بعد علاج کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے وفاق کا صوبوں کو خط

محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق ان 2 داخل مریضوں کے خون کے نمونے لے کر قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھیجے گئے ہیں تاہم ان کے پاس کورونا وائرس کی تشخیص کی سہولت نہ ہونے پر چین سے کِٹس منگوائی گئی ہیں جن کے آنے کے بعد مزید کچھ کہا جاسکے گا، اس دوران مریضوں کو صحت مند ہونے پر گھر بھیج دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق مشتبہ کیسز کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (کینپ) سے سامنے آئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں چینی باشندے رہائش پذیر ہیں۔

کیسز مشتبہ ہونے پر درجنوں چینی شہریوں نے اتوار کو آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے اپنا معائنہ کرایا جن کی کونسلنگ کی گئی اور تسلی کرائی گئی کہ انہیں وائرس نہیں اس لیے وہ خوفزدہ نہ ہوں۔

ذرائع کے مطابق محکمۂ صحت کے حکام نے ایئر پورٹ اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا ہے اور ممکنہ یا مشتبہ کیسز کی صورت میں تعاون کرنے اور مسافروں کی فہرست کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپتال اور محکمۂ صحت کے افسران میں رابطہ مزید بہتر کیا گیا ہے جس سے کیسز کے ڈیٹا کی نگرانی کا نظام مؤثر ہوا ہے جبکہ اس ضمن میں جاری ہیلتھ ایڈوائزری پر صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔

رپورٹ میں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر 24 گھنٹوں تک گھر پر رہیں جب تک بخار ختم نہ ہو جائے، ایک دوسرے سے زیادہ قربت و میل جول سے گریز کریں، کھانستے وقت منہ اور ناک کو ٹشو پیپر سے ڈھانپ لیں، ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، ملاقاتیں محدود کر دیں، جن اشیاء کو چھوئیں انہیں انفیکشن دور کرنے والے محلول سے صاف کرلیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
صحت سے مزید