آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اذہان خان

مِس والڈرن کا ریڈ کولوبس (گھانا اور آئیوری کوسٹ)

زنزیبار ریڈ کولوبس معدوم ہوجانے والے مس والڈرن ریڈ کولوبس کا قریب ترین رشتے دار ہے۔حال ہی میں معدوم ہوجانے والے اس درمیانے سائز اور سرخ بالوں والے بندر کو 2000 کی دہائی کے اوائل سے معدوم تصور کیا جاتا ہے۔گھانا اور آئیوری کوسٹ کی سرحد پر رہنے والا مِس والڈرن کا ریڈ کولوبس سب سے حیرت انگیز جانوروں میں سے تھا کیونکہ اس کے انگوٹھے نہیں ہوتے تھے۔

بڑے گروہوں کی صورت میں اونچے درختوں کے اوپر حصوں میں رہنے والا یہ نرم مزاج جانور انسانوں کی جانب سے جنگلات کی کٹائی کے سبب اپنا طرزِ زندگی تبدیل کرنے پر مجبور ہوا۔جب جنگلات سکڑنے لگے تو ریڈ کولوبس کے گروہ بھی چھوٹے ہوتے گئے،

یینگتسی ریور ڈولفن (چین)

بیجی کہلانے والی چین کی یینگتسی ریور ڈولفن دنیا کے قدیم ترین ممالیہ جانوروں میں سے ایک تصور کی جاتی تھی ۔ 2006 میں معدوم قرار دی جانے والی یینگتسی ریور ڈولفن ایک پھیکے خاکستری رنگ والی ممالیہ تھی جو سمندر میں نسبتاً کم پروقار دکھائی دیتی۔اس کے سادہ جسم کے نیچے انتہائی ارتقا یافتہ ایکو لوکیشن سسٹم موجود تھا جو کہ دیگر ڈولفنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتر تھا۔ 

اس کا یہ نظام اتنا باریکی سے کام کر پاتا کہ یہ اکلوتی مچھلی تک کی لوکیشن معلوم کر سکتی تھی،مگر اس کی یہی حساسیت اس کے لیے اس وقت خطرہ بنی جب دریا مچھیروں کی کشتیوں، کنٹینر بردار جہازوں، ٹرالروں اور انسان کی پھیلائی گئی آلودگی سے بھر گیا۔اس شدید مصروف ٹریفک سے گھبراہٹ کی شکار ہوجانے والی یینگتسی ریور ڈولفن کے پاس بقا کے لیے کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔

کیریبیئن مونک سیل (جمیکا اور نکاراگوا کے درمیان سیرانیلا کنارا)

اس دریائی بچھڑے جیسے دیگر بچھڑے کیریبیئن میں رہا کرتے تھے۔خطہءِ کیریبیئن کا یہ مقامی دریائی بچھڑا کسی زمانے میں وسطی امریکہ کے مشرقی کنارے، جنوبی امریکہ کے شمالی ساحلوں اور خلیجِ میکسیکو میں پایا جاتا تھا۔

 مگر ان کی چربی میں پائے جانے والے تیل کے حصول کے لیے ان کا بے رحمانہ انداز میں شکار کیا گیا، جبکہ ان کی غذا بننے والی مچھلیوں کے بے تحاشہ شکار کی وجہ سے بچ جانے والے دریائی بچھڑوں کے لیے خوراک کی کمی ہوگئی۔انھیں آخری مرتبہ 1952 میں جمیکا اور نکاراگوا کے درمیان سیرانیلا کنارے کے قریب دیکھا گیا تھا۔

ایلابامہ پِگٹو (امریکہ)

یہ دریائی سیپ جمہوریہ چیک میں پائے جاتے ہیں۔یہ معصوم سا نظر آنے والا سیپ 2006 تک امریکی ریاست ایلابامہ کے دریائے موبائل میں پایا گیا۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ سور کے پیر جیسا دکھائی دیتا، مگر یہ آلودہ دریا کا پانی فلٹر کیا کرتا۔ 

آلودگی پھر اتنی زیادہ ہوگئی کہ پگٹو اسے مزید نہ جھیل پایا۔اس ننھی سی مخلوق کے خاتمے نے پانی کے بارے میں کئی تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا، جو فیکٹریوں کے زہریلے مادوں سے آلودہ ہو رہا تھا اور دریا کے ساتھ رہنے والے افریقی امریکی برادری میں ہلاکت انگیز بیماریوں کا سبب بن رہا تھا۔

ڈوڈو (ماریشیس)

سب سے مشہور مگر معدوم پرندہ ہونا شاید ایک عجیب سا اعزاز ہو مگر ڈائنوسارز کے علاوہ ڈوڈو ایک طویل عرصے سے معدوم ہو چکی ایسی نسل ہے، جسے سبھی جانتے ہیں۔

کارٹون کردار ڈیفی ڈک جیسے دکھائی دینے والا یہ پرندہ کسی زمانے میں جزیرہ ماریشیس پر رہا کرتا۔ اڑ نہ سکنے والے اس پرندے کے فطرت میں کوئی شکاری نہیں پائے جاتے تھے۔جب انسان ماریشیس تک پہنچے تو اپنے ساتھ دیگر جانور اور گوشت کے لیے اپنی بھوک بھی اپنے ہمراہ لے کر آئے۔ ان کے سامنے ڈوڈو زیادہ عرصے تک باقی نہ رہ سکے۔ آخری ڈوڈو 18 ویں صدی کے اوائل میں ہلاک ہوا تھا۔

سٹیلرز سی کاؤ (الاسکا اور روس کے درمیان بحیرہ بیرنگ)

1741 میں جب جارج سٹیلر کشتی ڈوبنے کے سبب جزیرہ بیرنگ پر پھنس گئے تو انھوں نے اس حیران کُن جانور کو معدوم ہونے سے قبل دیکھا تھا۔یہ سمندری گائے میناٹی اور ڈوگونگ کی طرح ہی نظر آتی، مگر یہ ان سے کہیں زیادہ بڑی ہوا کرتیں۔ سٹیلر کی سمندری گائے کا سائز نو میٹر تک بھی ہو سکتا تھا۔

اس کی شاندار وضع قطع، کھال اور قیمتی چربی کی وجہ سے یہ شکاریوں کا ہدف بنا رہا۔ بظاہر اس کا ذائقہ بادام کے تیل میں بھگوئے ہوئے بیف کے جیسا تھا۔

مانا جاتا ہے کہ ان کا خاتمہ شکار اور ان کے غذائی ماحول میں تبدیلیوں کی وجہ سے ڈوڈو کے معدوم ہونے کے کچھ ہی عرصے کے بعد ہوا۔

کواگا (جنوبی افریقہ)

Iمادہ ایمسٹرڈیم کواگا جو 12 اگست 1883 کو ایمسٹرڈیم کے آرٹیس چڑیا گھر میں ہلاک ہوئی۔بیچارے کواگا کی غیر معمولی خوبصورتی ہی اس کی معدومیت کی وجہ بنی۔ اس دلآویز افریقی جانور کا سامنے کا آدھا حصہ زیبرا کی طرح دھاری دار تھا ،مگر یہ دھاریاں پیچھے کی جانب مٹتی مٹتی ختم ہوجاتیں اور پچھلا حصہ گھوڑے کی طرح سادہ اور بھورا ہوتا۔

اس کی حیران کُن وضع کی وجہ سے اس کا اس قدر غیر قانونی شکار کیا گیا کہ یہ معدوم ہوگئے۔ ان میں سے آخری 1880 کی دہائی میں قید میں ہلاک ہوا۔

آئرش ایلک (آئرلینڈ)

آئرش ایلک یا آئرش ہرن آج موجود ہرن جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دو میٹر تک بلند ہوسکتے ،جبکہ ان کے سینگوں کا پھیلاؤ 3.65 میٹر تک ہوتا۔

ان کا خاتمہ تقریباً 7700 سال پہلے ہوا اور ممکنہ طور پر اس کی وجہ شکار اور تبدیل ہوتا ہوا موسم بنا۔

وائٹ ٹیل ایگل (برطانیہ)

سفید دُم والے عقابوں کو 20 ویں صدی کے اوائل میں برطانیہ میں تقریباً معدومیت تک پہنچا دیا گیا تھا، مگر زیادہ عرصے کے لیے نہیں۔تقریباً دو میٹر تک پروں کا پھیلاؤ رکھنے والے اس شاندار پرندے کا برطانیہ میں کئی سالوں تک بے رحمانہ انداز میں شکار کیا گیا۔ درحقیقت اسے مارنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔

جب تک پرندوں کا قتل غیر قانونی قرار پایا، تب تک معدومیت کو روکنے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی،مگر خوش قسمتی سے سفید دُم والے عقاب یورپ میں دیگر جگہوں پر بستے تھے اور انھیں برطانیہ میں دوبارہ متعارف کروانا ممکن ہو سکا۔مگر تمام جانور اتنے خوش نصیب نہیں ہوتے۔