آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس نے مغرب میں مشرق کیلئے نفرتیں پیدا کردیں

چین میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اب مغرب میں رہنے والے انتہا پسندوں نے مشرقی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کردیا۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک شخص نے تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص پر حملہ کرکے اسے زخمی کردیا جس کی وجہ اس نے کورونا وائرس کو قرار دیا۔

کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے، نہ صرف چینی حکومت بلکہ خود اقوام متحدہ نے بھی اسے عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی سے بھی زیادہ مہلک مسئلہ کہا ہے۔

چین سمیت پوری دنیا میں 16 سو سے زائد افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 60 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہیں جن میں زیادہ تر چینی باشندے ہی شامل ہیں۔

یہ وائرس چین کی سرحدوں سے نکل کر دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے لگا ہے جن میں مغرب میں امریکا، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

تاہم اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے مغربی انتہا پسندوں میں مشرقی لوگوں کے لیے نفرت کے جذبات ابھرنے لگے ہیں جس کا نمونہ لندن کے فلہام روڈ پر دیکھنے میں آیا جب کچھ سفید فام لوگوں نے تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ نوجوان پاوٹ سلاواٹاکن کو تشدد کا نشانہ بناڈالا۔

اس تھائی نوجوان نے بتایا کہ فلہام روڈ پر جب وہ بس سے اترا تو ایک شخص اس کی طرف ’کوروناوائرس‘ کہتے ہوئے آگے بڑھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور نوجوان اس کی جانب بڑھا اور اس کا ہیڈفون چھین کر بھاگ گیا۔

اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے ان پر حملے کرنے والے اور قیمتی سامان چھین کر بھاگنے والوں کو پیچھا بھی کیا لیکن وہ ہاتھ نہ آسکے۔

پاوٹ سلاواٹاکن کا کہنا تھا کہ اس تمام واقعے کی نوجوانوں نے ویڈیو بھی بنائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں موجود لوگوں نے نہ انہیں بچانے کی کوشش کی اور نہ ہی حملہ آوروں کے بھاگ جانے کے بعد ان کی مدد کی لیکن وہاں موجود صرف 2 راہ گیر ایسے تھے جنہوں نے نہ صرف انہیں ان کا عینک ڈھونڈ کر دیا بلکہ انہیں ٹیکسی میں بیٹھا کر اسپتال کی جانب روانہ بھی کیا۔

غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب وہ ٹیکسی میں بیٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ ان پر حملہ کرنے والا ایک شخص روڈ کی دوسری جانب کھڑا ہے جبکہ اس نے بھاگنے یا چھپنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

واضح رہے کہ یہ کورونا وائرس سامنے آنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی مشرقی ایشیائی باشندے پر اس وائرس کو جواز بنا کر حملہ کرکے اسے زخمی کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید