آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

4اپریل 2016، ناروے کے قصبے بودو کا اسپتال، ڈیوڈ نامی پھیپھڑوں کا مریض، لمحہ بہ لمحہ بگڑتی صحت، مسلسل نگرانی کرتے ڈاکٹر، آخرکار ڈاکٹروں کا فیصلہ، اب آپریشن بنا چارہ نہیں۔

اسی دوران پتا چلنا آپریشن کیلئے ای سی ایم مشین کا ہونا ضروری اور اسپتال میں یہ مشین نہیں، اِدھر اُدھر فون ہوئے، رابطے کیے گئے، معلوم ہوا 12سو کلومیٹر کی دوری پر سینٹ آلوس اسپتال میں ای سی ایم مشین موجود، اب مسئلہ یہ۔

ڈیڑھ گھنٹے کے اندر مشین اسپتال نہ پہنچی تو مریض کی جان جا سکتی ہے، بائی روڈ ایک دن لگ جاتا، ہیلی کاپٹر کے ذریعے 5سے سات گھنٹے، مریض کی حالت ایسی کہیں شفٹ کرنا ناممکن، آخرکار صلاح مشورے کے بعد ڈاکٹروں نے وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا۔

وزارتِ دفاع حکام کو بتایا گیا اگر یہ مشین سینٹ آلوس اسپتال سے ڈیڑھ گھنٹے میں بودو اسپتال میں پہنچا دیں تو ایک شخص کی جان بچ سکتی ہے، وزارت دفاع کا فوراً ہاں کر دینا، بالآخر ایف 16طیارے کے ذریعے اگلے 45منٹوں میں ای سی ایم مشین بودو اسپتال پہنچا دی گئی۔

مریض کا آپریشن ہوا، آپریشن کامیاب ہوا، اس کی جان بچ گئی، یہاں یہ ذہنوں میں رہے کہ نہ صرف اس تمام پروسس پر مریض کا ایک روپیہ نہ لگا بلکہ اسپتال داخلے سے صحت یابی تک سب کچھ مفت تھا۔

ناروے، شاہی محل سے حکومت کو درخواست آنا، محل کے صوفے خستہ حال ہو چکے، انہیں تبدیل کیا جائے، حکومت کا جواب آیا، اس سال سرکاری بجٹ میں گنجائش نہیں، اگلے سال دیکھیں گے۔

شاہی محل سے کہا گیا، چلو صوفوں کی پالش کروا دیں، حکومت کا جواب تھا، چونکہ اس سال شاہی محل کا بجٹ ختم ہو چکا، اس لیے اگلے سال تک انتظار کیا جائے، بادشاہ سلامت کو بات ماننا پڑی، ناروے، بادشاہ ہارالڈ پنجم کے عزیز اوسلو میں آنکھوں کے معائنے کیلئے ’رکس اسپتال‘ جائے۔

معائنے کے بعد ڈاکٹر اسے بتائیں ایک آنکھ کا آپریشن کرنا پڑے گا، یہ کہے، جی بالکل میں حاضر، آپریشن کریں، ڈاکٹر کہیں، سوری ابھی آپ کا آپریشن نہیں ہو سکتا، آپ سے پہلے 32مریض اور، پہلے ان کے آپریشن پھر آپ کا، ابھی آپ جائیں، ہم بلا لیں گے، بادشاہ کا قریبی عزیز ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرکے شاہی محل آگیا اور پھر 32مریضوں کے آپریشن کے بعد دوبارہ بلا کر اس کا آپریشن کیا گیا۔ناروے، شہزادہ ہاکون جو ولی عہد بھی۔

سب نے دیکھا، ایک روز اوسلو کے ڈسکو کی لائن میں لگا اپنی باری کا انتظار کر رہا، یہی شہزادہ ہاکون چند ہفتے قبل ایک ’بوٹ ٹور‘ پر گیا، یہ لائف جیکٹ پہننا بھول گیا، اس پر اتنی تنقید ہوئی کہ اسے عوام سے معافی مانگنا پڑی، ناروے، سیاستدان جان پی سیسے، اس نے ایک سال دانستہ طور پر اپنے انکم ٹیکس گوشوارے اس طرح بھرے کہ 20ہزار کرون (ڈھائی لاکھ روپے) بچا لیے، چند سالوں بعد یہ ناروے کا وزیراعظم بن گیا۔

یہ ایک مہینہ وزیراعظم رہ کر استعفیٰ دیدے، استعفیٰ دینے کی وجہ یہ بتائے، چند سال پہلے میں نے جان بوجھ کر اپنے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن ایسے بھرے کہ 20ہزار کرون بچا لیے تھے، میں جب سے وزیراعظم بنا ایک رات بھی سکون سے نہیں سو سکا، میرے ذہن میں ہر وقت یہ خیال آ رہا کہ جس قوم نے مجھے اپنا وزیراعظم بنایا۔

میں نے اسی قوم سے بےایمانی کی، لہٰذا میں سمجھتا ہوں، میں اپنی قوم کی نمائندگی کے قابل نہیں، وزیراعظم جان پی سیسے کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔

یہ تو چند مثالیں، باقی ملکوں کو چھوڑیں، ناروے کی ہی ایسی سینکڑوں مثالیں اور بھی، گو کہ مجھے ناروے جیسے زندہ ملک یا ناروے جیسے زندہ معاشرے کی مثالیں نہیں دینا چاہئے تھیں۔

ہمارا ان سے کیا لینا دینا، ہم مردہ ضمیر، مردار بیچنے، مردار کھلانے والی قوم، ہم جھوٹ، منافقت، ملاوٹ کے ورلڈ چیمپئن، لیکن آج دل چارہ رہا تھا کہ آپ کو بتاؤں کہ کیسے ہوتے ہیں انسان، کیسی ہوتی ہے انسانیت، ایک طرف عام شہری کی جان بچانے کیلئے ایف 16طیارہ مشین لینے نکل پڑے جبکہ دوسری طرف حکومت اپنے بادشاہ کو کہے چونکہ آپ کا بجٹ ختم ہو گیا لہٰذا ہم آپ کے خستہ حال صوفے نہیں بدل سکتے، 20ہزار بچانے والا شخص وزیراعظم بنے۔

ضمیر ملامت کرے، مستعفی ہو جائے، ناروے کا شہزادہ لائنوں میں لگا ہوا، غلطی ہو جائے، قوم سے معافی مانگ لے، اپنے ہاں۔۔۔ جعلی شہزادوں، نقلی شہزادیوں کی تو بات ہی نہ کریں، یہی سن لیں، نواز، شہباز دونوں بھائیوں نے اپنی سیکورٹی اور کیمپ دفتروں پر 14سو 13کروڑ اڑا دیے۔

جی ہاں! 14ارب 13کروڑ سیکورٹی اور کیمپ دفتروں کا خرچہ دو بھائیوں کا، زرداری اینڈ کمپنی کے مبینہ منی لانڈرنگ جعلی اکاؤنٹس 25والیومز اور سرے محلوں کو چھوڑ دیں، شریفوں کی 5براعظموں میں جائیدادوں کو رہنے دیں، بڑی وارداتیں۔

بڑے ڈاکے ایک طرف رکھیں، حالت یہ، شریفوں کی سیکورٹی کیلئے کتے بھی ہمارے پیسوں سے خریدے گئے جبکہ بلاول کے کتوں کی خوراکیں بھی ہمارے پیسوں سے، واہ رے ہمارے نصیب، جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں۔

ابھی چند دن پہلے لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 8صفحاتی فیصلے میں لکھا، 2003میں آپ کے اثاثے 51.507ملین جبکہ 2018میں اثاثے 417ملین، اثاثے بڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔

181.153ملین تحفے کیوں، 181.64ملین بیرونِ ملک سے بینک اکاؤنٹ میں کہاں سے آئے، بھائی سلمان شہباز نے جو چینوٹ میں 153 کنال زمین تحفتاً دی اس کی ادائیگی بھی جعلی زرِمبادلہ سے جبکہ جوڈیشل کالونی میں 8کنال کا بنگلہ بھی بظاہر بےنامی، یہ چھوڑیں، سندھ سرکار کے پاس گندم خریدنے، کراچی سے کوڑا اٹھانے حتیٰ کہ کتا کاٹنے کی ویکسین کیلئے پیسے نہیں مگر سندھ سرکار کراچی میں ایم پی اے ہاسٹل بنا رہی۔

14منزلہ اور 10منزلہ دو ٹاور، ابتدائی بجٹ تھا ایک ارب 70کروڑ، 2017میں اس کی لاگت ہوئی ساڑھے 5ارب، چندہ ماہ پہلے ڈھائی ارب اور مانگ لیے گئے مطلب اب لاگت پہنچی 7ارب پر، یہ چھوڑیں، ٹھٹھہ میں سندھ سرکار نے مبینہ طور پر اپنے ایک لاڈلے سے گندم گودام کا ایسا معاہدہ کیا کہ دس سال کیلئے گودام میں گندم رکھی ایک ارب 40کروڑ کی جبکہ گندم گودام کا دس سالہ کرایہ 3ارب 60کروڑ، یعنی ایک ارب 40کروڑ کی گندم رکھنے کا کرایہ 3ارب 60کروڑ، کیا کیا رونا روئیں۔

اب تو رو رو آنسو خشک ہوگئے، کہاں ہم، کہاں ناروے، بھلا زندوں، مُردوں کا کیا موازنہ، کیا مقابلہ۔