آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میری منت سماجت کے بعد سرکار چہرے پر مونچھیں اور فرنچ کٹ داڑھی رکھنے پر آمادہ ہوئے۔ غور سے سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ’’اس وقت آپ ہو بہو امیتابھ بچن جیسے لگ رہے ہیں‘‘۔’’خبردار‘‘۔ سرکار نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا ’’پھر کبھی میرا موازنہ دشمن ملک کے کسی آدمی سے مت کرنا۔ تم میرا موازنہ عمران اسماعیل سے کرو۔ اس نے بھی حال ہی میں فرنچ کٹ داڑھی رکھی ہے‘‘۔میں نہیں چاہتا تھا کہ کراچی کی سڑکوں، گلی کوچوں میں میرے ساتھ گھومتے ہوئے سرکار کو کوئی پہچانے۔ میں چاہتا تھا کہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کی طرح چمڑا پوش ہو کر سرکار اپنی آنکھوں سے پاکستان کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی کرپشن کی جھلک دیکھے۔ سرکار کا اپنا تعلق چونکہ بالائی منزلوں سے ہے اس لئے وہ بالائی منزلوں پر ہونے والی کرپشن کو پاکستان کی میگا کرپشن سمجھتے ہیں۔ آج تک سرکار نے بھولے سے بھی نظر اٹھا کر، بلکہ نظر جھکا کر پاکستان کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹنے والی کرپشن کی طرف نہیں دیکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بالائی منزلوں کو پاک صاف کرنے سے عمارت پائیدار ہو جائے گی۔ وہ اس حقیقت کو اہم نہیں سمجھتے کہ پائیدار عمارتیں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ پراسرار ادارے نے مجھے یہی بات سرکار کو سمجھانے کی ذمہ داری دی تھی۔

ایک گلی کے نکڑ پر ایک بدحال شخص ریڑھی پر مونگ پھلی بیچ رہا تھا۔ سرکار کو ریڑھی والا دکھاتے ہوئے میں نے کہا ’’اس بدحال شخص کا بدحال پڑدادا آج سے بہتر برس پہلے اسی جگہ ریڑھی پر مونگ پھلی بیچتا تھا۔ اس کے مرجانے کے بعد اسی جگہ، اسی ریڑھی پر، بدحال شخص کا بدحال دادا مونگ پھلی بیچتا تھا۔ دادا کے مرجانے کے بعد اسی جگہ، اسی ریڑھی پر بدحال شخص کا بدحال باپ مونگ پھلی بیچتا تھا۔ بدحال باپ کے مرجانے کے بعد یہ بدحال شخص اس ریڑھی پر، اسی جگہ مونگ پھلی بیچ رہا ہے۔ صبح دس بجے سے رات دس بجے تک، لگاتار بارہ گھنٹے مونگ پھلی بیچنے کے باوجود اس شخص کے بال بچے ایک وقت کا روکھا سوکھا کھانا کھا سکتے ہیں اور دوسرے وقت کے کھانے کو ترستے ہیں‘‘۔’’بڑے ہی احمق اور جاہل لوگ ہیں‘‘۔ سرکار نے کہا ’’کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ میں نے ان جیسے لوگوں کے لئے لنگر لگوائے ہیں جہاں ان کو تین وقت کا کھانا مفت میں مل سکتا ہے‘‘۔میں نے کہا ’’سرکار، کروڑوں کی تعداد میں بھکاری اور بے روزگار آپ کے لنگر کا کھانا کھا جاتے ہیں‘‘۔’’یہ کیا دھرا پچھلی حکومت کا ہے۔ مجھے ورثے میں دنیا بھر کے قرض، خسارے، بے روزگار، بھکاری اور اپنے جیسے چور اچکے دیے گئے ہیں‘‘۔ سرکار نے غصہ سے کہا ’’اب میں ملک کے چپے چپے پر لنگر لگوا رہا ہوں۔ بےسرو ساماں مردوں کیلئے مسافر خانے اور عورتوں کیلئے سائبانوں کا ملک بھر میں جال بچھا رہا ہوں۔ جب تک بےروزگاروں کو میں ملازمت سے لگائوں، وہ مسافر خانوں اور سائبانوں میں رہیں گے اور لنگر سے کھانا کھاتے رہیں گے‘‘۔اتنے میں ایک شخص موٹر سائیکل پر آیا۔ ریڑھی والے کے قریب رکا۔ ریڑھی والے نے اسے جیب سے بیس روپے نکال کر دیے۔ سرکار نے پوچھا ’’ریڑھی والے نے اسے کس چیز کے بیس روپے دیے؟‘‘میں نے سرکار سے کہا ’’یہ شخص روزانہ بھتہ خور ہے۔ نکڑ پر ریڑھی لگانے کا بھتہ لیتا ہے‘‘۔

سرکار نے ہنس کر کہا ’’ایسی چھوٹی موٹی کرپشن سے عمارت کی بنیاد نہیں ہلتی‘‘۔میں نے سرکار سے کہا ’’ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ آدمی ٹھیلوں، ریڑھیوں، فٹ پاتھوں اور سر پر ٹوکری میں پکوڑے، چھولے اور چنے اٹھائے مارے مارے پھرتے ہیں اور روزانہ بیس روپے بھتہ دیتے ہیں۔ اس طرح پانچ کروڑ آدمی بیس روپے کے حساب سے روزانہ بیس کروڑ روپے کی کرپشن ہوتی ہے‘‘۔سرکار نے کہا ’’بونگی تو نہیں مار رہے ہو؟‘‘

میں نے کہا ’’سرکار پانچ کروڑ ریڑھی والے اور ٹھیلے والے ہفتہ وار بھتہ فی کس سو روپے دیتے ہیں۔ حساب لگائیں۔ ہر ہفتہ پچاس کروڑ یا پانچ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ مجھے حساب کتاب نہیں آتا‘‘۔’’نچلی سطح پر اس قدر کرپشن؟‘‘ سرکار نے کہا ’’ناممکن‘‘۔میں نے کہا ’’پانچ کروڑ ریڑھی والے اور ٹھیلوں والے ماہانہ بھتہ فی کس پانچ سو روپے دیتے ہیں۔ حساب لگائیں سرکار۔ پانچ کروڑ ضرب پانچ سو۔ آپ اپنے مالی امور کے مشیروں سے پوچھیں کہ پانچ کروڑ ضرب پانچ سو کا میزان کل کتنا بنتا ہے‘‘۔سرکار نے کہا ’’اپنے مشیروں سے تصدیق کروانے کے بعد میں فیصلہ کرسکوں گا کہ تم سچ کہہ رہے ہو، یا کہ مجھے چکر دے رہے ہو؟‘‘

میں نے کہا ’’آپ نے سرکار کبھی پٹواری اور پٹواریوں کے محکموں کے بارے میں سنا ہے؟ ایک پٹواری دس زرداری اور دس نواز شریف خرید سکتا ہے‘‘۔

سرکار نے کہا ’’تم کچھ بڑھا چڑھا کر بتا رہے ہو۔ اگر بنیادی سطح پر اس قدر کرپشن ہے تو پھر یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟‘‘’’امدادوں اور قرضوں پر چل رہا ہے‘‘۔ میں نے کہا۔ ’’آپ نے ایکسائز اور ٹیکسیشن، کسٹم، پولیس، ریونیو، بلڈنگ اتھارٹیز اور درآمدی اور برآمدی اداروں کے چھوٹے موٹے بنیادی افسروں کے ٹھاٹ بھاٹ دیکھے ہیں؟ساری گڑبڑ بنیادوں میں ہے۔ یہی لوگ کرپٹ لوگوں کو ووٹ دے کر حکمراں بناتے ہیں‘‘۔

’’چلو‘‘۔ سرکار نے مونچھیں اور فرنچ کٹ داڑھی اتار کر میرے ہاتھ پر رکھ دی اور اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا۔

تازہ ترین