آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’کورنگی روڈ‘ ‏ماضی میں یہ سڑک میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے نام سے موسوم تھی

کراچی کے علاقے کورنگی جانے والی مرکزی شاہراہ جوشاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی [FTC] پل سے شروع ہوکر کورنگی کراسنگ پر ختم ہوتی ہے، جبکہ کورنگی کراسنگ کے بعد اس سڑک کا نام راجا صاحب محمود آباد روڈ ہو جاتا ہے۔

ماضی میں یہ سڑک پاک فوج کے عظیم سپوت میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے نام سے موسوم تھی۔ کورنگی کے بارے میں “کراچی تاریخ کے آئینے میں” کے مصنف عثمان دموہی لکھتے ہیں،’’ کورنگی کے معنی ہندی زبان میں چھوٹی الائچی کے ہیں، قوی امکان ہے کہ کورنگی کی بندرگاہ سے کسی زمانے میں الائچی کا کاروبار ہوتا ہوگا یا یہاں اس کی کاشت ہوتی ہوگی۔

میجر ضیاء الدین عباسی (ستارئہ جرأت) کے خاندان کا تعلق بھارت کے شہر جونپور سے تھا، تاہم ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں الہ آباد منتقل ہوگئے تھے۔ میجر ضیاء الدین عباسی ۱۹۲۸ء میں الہ آباد میں مولوی حسین محی الدین عباسی کے گھر پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے کراچی چلے آئے اور ناظم آباد کے علاقے میں رہائش پذیر ہوئے، انہوں نے مزید تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ 

پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرکے افسر بھرتی ہوئے اور کوئٹہ انفنٹری اسکول کے انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ ۲؍ستمبر کو سیالکوٹ بارڈر پر بھارتی فوج نے پیش قدمی شروع کردی تھی جس پر انہیں سیالکوٹ بارڈر پر تعینات کیا گیا۔ ۱۱؍ستمبر۱۹۶۵ء کو بھارتی فوج نے ٹینکوں کے ساتھ چونڈہ پر حملہ کیا۔ میجر ضیا ء الدین کو انہیں روکنے کا حکم ملا جس پر انہوں نے اپنی رجمنٹ کے ہمراہ انتہائی بہادری سے بھارتی ٹینکوں کا مقابلہ کیا، آخرکار سیالکوٹ پھلورا محاذ پر دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے شہیدہوگئے۔ اس وقت ان کی عمر ۳۱ سال تھی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے عظیم شہید کو ستارہ جرأت سے نوازا گیا، جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں ان کے نام سے کئی شاہراہوں کو بھی موسوم کیا گیا۔ علاوہ ازیں ناظم آباد، کراچی کا ایک اسپتال بھی اُن کے نام سے موسوم و مشہور ہے۔

محلِ وُ قوع و حدودِ اَربَعَہ:

کراچی میں ایف ٹی سی بلڈنگ سے قیوم آباد پل تک جانے والی کورنگی روڈ کا نام میجر ضیا الدین عباسی شہید کے نام سے موسوم کیا گیاتھا، تاہم اس سڑک پر اب کوئی بورڈ آویزاں نہیں، سرکاری ریکارڈ اور گوگل میپ میں اس سڑک کا نام اب بھی عباسی شہید روڈ ہے۔ اس سڑک پر گورا قبرستان، آرمی قبرستان، سی ایس ڈی ڈپو [CSD Depot]، مسجدطوبیٰ اور نیشنل اسپتال، پہاڑی پر قائم نواب آف ستارہ کے محل ہنی مون لاج (جسے محمدی ٹیکری بھی کہا جاتا ہے) جیسے اہم مقامات واقع ہیں۔ اس پر فضا مقام پر ۲؍نومبر۱۸۷۷ء کو سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کی ولادت ہوئی تھی، جبکہ اس سڑک پر ۴؍جولائی۱۹۷۷ء کو کالا پل کے نزدیک سابق گورنرر خمان گل نے ایک نئے پل کا افتتاح کیا تھا اس پل کو ۹ لاکھ ۱۰ ہزار روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ 

یہ سڑک ڈیفنس سوسائٹی سے ہوتی ہوئی ملیر ندی کے اوپر سے کورنگی ٹاؤن شپ تک جاتی ہے اسی وجہ سے اس سڑک کو کورنگی روڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حکومت سندھ کی طرف سے ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۵ء کے دوران میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی، بس نمبر 17A, 17B, 17D, 17F صدر سے لانڈھی، کورنگی براستہ ڈیفنس چلا کرتی تھیں۔ آج بھی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ریکارڈ میں ان بسوں کے روٹس موجود ہیں، تاہم سڑکوں پر ان دنوں بسوں کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ 

اس سڑک کا شمار کراچی کی خطرناک ترین شاہراہوں میں ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ سڑک یک طرفہ ( سنگل ٹریک روڈ) ہوا کرتی تھی، جس کا ناتو حفاظتی جنگلہ تھا اور نا ہی یہاں اسڑیٹ لائٹ کا کوئی انتظام ہوا کرتا تھا، تاہم اب اس سڑک پر کے پی ٹی انٹر چینج [KPT Interchange] اور جام صادق پل قائم ہے جس کی از سر نو تعمیر کردی گئی ہے اور سڑک کو مزید کشادہ بھی کردیا گیا ہے۔

: شاہ ولی اللہ جنیدی کی کتاب’’ یہ شارع عام نہیں‘‘ سے انتخاب

کولاچی کراچی سے مزید