• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہروں کو 5 سال میں 6 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قلت کا خطرہ

فیصل آباد (شہباز احمد) پاکستان کے شہری علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو آئندہ پانچ سال کے دوران روز مرہ استعمال کے لئے چھ ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

سرکاری رپورٹس کے مطابق اس وقت شہروں میں گھریلو اور میونسپل استعمال کے لئے درکار پانی کی مقدار چار ملین ایکڑ فٹ ہے جو 2025ء میں بڑھ کر 10.5 ملین ایکڑ فٹ ہو جائے گی۔ دوسری طرف زیر زمین پانی ریچارج نہ ہونے کی وجہ سے اس کا معیار اور سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ 

آبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال ایک میٹر سے زائد نیچے جا رہی ہے کیونکہ ملک بھر میں مجموعی طور پر ہر سال 65 ارب کیوبک میٹر پانی زمین سے نکالا جاتا ہے جبکہ اس میں اوسط اضافے کی شرح 55 ارب کیوبک میٹر کے قریب ہے۔ 

ان حالات میں شہری علاقوں میں بارشی پانی کو روز مرہ کے کاموں میں استعمال کرنے کے لئے ذخیرہ کرنے یا زیر زمین بھیجنے کی اشد ضرورت ہے۔ 

واضح رہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریبا 22 فیصد 10 بڑے شہروں میں آباد ہے۔ ان میں سے کراچی میں سالانہ 6.87 انچ، لاہور میں 23.9 انچ، فیصل آباد میں 13.6 انچ، راولپنڈی میں 37 انچ، گوجرانوالہ میں 22.8 انچ، پشاور میں 15.1 انچ، ملتان میں 4.1 انچ، حیدر آباد میں 5.36 انچ، اسلام آباد میں 31.13 انچ اور کوئٹہ میں ہر سال اوسط 9.6 انچ بارش ہوتی ہے۔ 

تاہم پاکستان کے ان بڑے شہروں سمیت کسی بھی شہر کی ضلعی انتظامیہ اور وفاقی یا صوبائی حکومت کی طرف سے اس بارشی پانی کو محفوظ کر کے استعمال میں لانے کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ 

آبی ماہرین کا دعوی ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں ہر سال بارشوں سے حاصل ہونے والا 40 ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی سیوریج کے پانی میں شامل ہو کر بلیک واٹر کی شکل میں ضائع ہو رہا ہے۔ 

واٹر مینجمنٹ کے عالمی ماہر اور سابق وائس چانسلر بارانی یونیورسٹی ڈاکٹر رائے نیاز کا کہنا ہے کہ شہروں میں ہم زمین سے جس مقدار میں پانی نکال رہے ہیں اس حساب سے زمین میں واپس پانی جا نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے زیر زمین پانی ریچارج نہ ہونے کے سبب تیزی سے آلودہ اور ناقابل استعمال ہوتا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر شہروں میں بارش کے پانی کو سیوریج کے پانی میں شامل کر کے ضائع کرنے کی بجائے مختلف علاقوں میں تالاب یا کنوئیں بنا کر ذخیرہ کرنے کے علاوہ براہ راست زیر زمین بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ 

ذخیرہ کئے گئے بارشی پانی سے پارکوں کی گھاس اور پیڑ، پودوں کی آبپاشی بھی کی جا سکے گی۔ اسی طرح شہریوں کو بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ بارش کا پانی ضائع کرنے کی بجائے اسے زیر زمین بھیجنے کے لئے گھروں میں انتظام کریں۔

تازہ ترین