• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر۔سیدعلی جیلانی۔سوئٹزر لینڈ
واقعہ معراج ایک عظیم واقعہ ہے جس پر عشق رسول ﷺ سے سرشار مسلمان فخر کرتے ہیں کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ اس واقعہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے آج تک شش وپنج میں مبتلا ہیں اور اس واقعہ کی گتھیاں سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ معجزات وہی ہیں جو عقل سے بالا تر ہوں اور درحقیقت معجزات کو عقل سے پرکھناہی بے عقلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام انبیاء سے ممتاز کرنے کے لئے جسمانی معراج شعور کی حالت میں کرائی اور آپ ﷺراتوں رات مکہ المکرمہ، بیت المقدس ، مسجد اقصی اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے جہاں جبرائیل ؑ نے فرمایا کہ اگر میں اس سے ایک قدم بھی آگے بڑھاتو میرے پَر جل جائیں گے ۔ لوگوں نے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تمہارا دوست کہہ رہا ہے کہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گیا اور واپس بھی آگیا کیا اس چیز کو کوئی عقل سلیم رکھنے والا قبول کرے گا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا حضور اکرم ﷺ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، اسی وقت آسمانوں سے ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا کا پیغام اور وحی لاتا ہے، معراج کی تصدیق کرنے پر آپ ﷺ نے آپؓ کو صدیق کا لقب دیا ، معراج النبیﷺ تکمیل انسانیت کی علامت ہے اور اس واقعہ سے خدا تعالیٰ نے ثابت کردیا کہ خدا اپنے محبوب بندے کو تمام مادی تقا ضوں کے باوجود کس قدر بلندیوں پر پہنچاسکتے ہیں، آپ ﷺ کی شان کیونکہ تمام انبیاء سے اعلیٰ ارفع اور افضل تھی اس لئے آپﷺ کے معجزے بھی بے شمار تھے ،حضور اکرم ﷺ کا ہر انداز معجزہ تھا، حضور کا چلنا ، بیٹھنا ، کھانا پینا، انگلیوں کا معجزہ لیکن مشہور بڑے معجزے چار ہیں پہلا معجزہ قرآن پاک ہے جو کتاب خدا نے حضورﷺ کو دی اس سے قبل کسی کو نہ دی ، دوسرا معجزہ صحابہ کرامؓ ہیںجو جماعت خدانے حضورﷺ کو دی کسی کو نہ دی، تیسرا معجزہ ختم نبوت ہے جواس سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور چوتھا معجزہ معراج ہے جو ایک اعزاز تھا، یہ بحث اب تک جاری ہے کہ معراج جسمانی تھی یا خواب لیکن پختہ ایمان والوں کے لئے اس میں کوئی الجھن نہیں وہ حضرت ابو بکر صدیق ؓکی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضورﷺ کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور ہر امتی یہ دن عبادت میں گزارتا ہےاور حضورﷺ پر درود سلام بھیجتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا، جو سفید تھا اور اتنا تیز تھا کہ جتنی دور انسان کی نظر پڑتی اتنا اس کا قدم پڑتا تھا میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس آیا اس پتھر کے ساتھ اسے باندھ دیا گیا جس کے ساتھ دیگر انبیاء اپنی سواریاں باندھا کرتے ، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی گئی جبرائیل نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ پتہ ہے تمہارے پیچھے کس نے نماز پڑھی ہے یہ تمام انبیا کرام ہیں اس کے بعد جبرائیل نے دو پیالے پیش کئے ایک شربت کا اور دوسرا دودھ کا تو آپ ﷺ نے دودھ کو پسند فرمایا جب آپﷺ آسمان پر پہنچے تو پوچھا گیا کون ہیں بتایا جبرائیل ہوں پھر پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں جبرائیل نے کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کیا ان کو بلایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہاں دروازہ کھولنے پر فرشتوں نے استقبال کیا پہلے حضرت آدمؑ کو دیکھا جنہوں نے مرحبا کیا اور دعا خیر دی، اس کے بعد حضرت یوسفؑ سے ملاقات ہوئی پھر حضرت ادریس ، حضرت ہارون اور ساتھ میں آسمان پر حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی اس کے بعد آپ ﷺ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا یہاں اللہ رب العزت کے ساتھ کلام کا شرف حاصل ہوا یہاں 50 نمازوں کا امت کے لئے کہا گیا حضرت موسیٰؑسے ملاقات ہوئی آپؑ نے کہا کہ نمازوں میں تخفیف کرائو آپﷺ کی امت اتنی نمازیں نہیں پڑسکتی آپﷺ بار بار تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کمی کرتے گئے آخر میں 5 نمازیں فرض کی گئیں لیکن ثواب 50 نمازوں کا ملے گا، معراج کے موقع پر نماز کے ساتھ دو مزید تحائف عطا ہوئے ایک تحفہ سورۃ بقرہ کی آخری آیات جس میں اسلام کے عقائد اور ایمان کی تکمیل کا بیان ہے اور دوسری یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اب مصائب وآلام کا دور ختم ہونے والا ہے اور جو شخص شرک سے بچا رہے گا اس کی مغفرت ہوجائے گی اس سفر کے دوران حضور ﷺ کو جنت وجہنم کا مشاہدہ بھی کروایا گیااور مرنے کے بعد اعمال کے اعتبار سے جن مراحل سے گزرنا ہے وہ سارے مناظر بھی آپﷺ کے سامنے پیش کئے گئے ۔آسمان سے واپس آنے کے بعد آپﷺ پھر بیت المقدس تشریف لائے اور ایک بار پھر انبیاء نے آپﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی پھر آپﷺ اپنے مقام پر واپس آگئے اور صبح حسب معمول اپنے مقام سے بیدار ہوئے ، معراج کے سفر پر جاتے ہوئے آپﷺ کو پھر امت کی یاد آئی جب آپﷺ براق پر سوار ہونے لگے تو تھوڑاتوقف فرمایا تو جبرائیل نے کہا
اس توقف کا کیا سبب ہے آپﷺ نے فرمایا میں سوچ رہاہوں کہ آج میرے اوپرنواز شات کا خصوصی وقت ہے فرشتے میری خدمت کے لئے موجود ہیں براق میری سواری کے لئے موجود ہے حشر کے دن میری امت کا کیا حال ہوگا؟ پل صراط جو پچاس ہزار سال کی راہ ہے بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے اورہر ایک کو اس سے گزرنا ہے میری امت اس سفر کو کیسے طے کرے گی اس وقت خدا نے بشارت دی اے محبوب آپ اپنی امت کی ہر گز فکر نہ کیجئے ہم آپ کی امت کو پل صراط سے یوں گزاریں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا، امام احمد رضا خان بریلوی نے خوب فرمایاپل سے گزرو راہ گزر کو خبر نہ ہو، جبرائیل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو۔ حضور اکرم ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے وہاں ان کا گزر کچھ ایسےلوگوں پر سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ نوچ کر زخمی کررہے تھے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے فرمایا یہ لوگ انسانوں کا گوشت کھایا کرتے تھے یعنی ان کی غیبتیں کرتے تھے ان کی آبروریزی کیا کرتے تھے شافع مزمل نے جب بیت المقدس میں نماز پڑھائی تو انبیاء کی سات صفیں تھیں اور تین صفیں مرسلین کی تھیں فرشتوں نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی اس میں یہ حکمت تھی کہ ظاہر کیاجائے کہ آپﷺ انبیاء کے امام ہیں اور میدان حشر میں آپ ہی اللہ تعالیٰ کے حضور سب کی شفاعت فرمائیں گے یہ ہی مقام محمود ہے جو آپﷺ کے سوا کسی کو حاصل نہیں، معراج کی رات حضور اکرم ﷺ نےلوگوں کی ایسی جماعت دیکھی جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ایسے لوگ مقرر تھے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتے، پھر ان کے ہونٹوں میں آگ کے پتھر ڈالتے تھے جبرائیل نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے تھے، معراج کی رات حضور اکرم ﷺ خدا تعالیٰ کے قریب ہوئے اور فاصلہ صرف اتنا رہ گیا جتنا کہ کمان کا تیر سے ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی قریب، اس قرب کے مقام پر پہنچ کر حضور اکرم ﷺ مطمئن رہے لبوں پر تبسم تھا،آپ ﷺ جو دیکھتے تھے قلب مبارک اس کی تصدیق کرتا تھا خدا نے یہ کمال ادب سکھایا کہ نگاہ مبارک ادھر ادھر نہ ہوئی یعنی پلک نہ جھپکی اور جلوہ ربویت بغور دیکھا اس مہینے میں روزہ رکھنے کا بڑا ثواب ہے جس شخص نے 27 ویں رجب کا روزہ رکھا اس کو 60 مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا ہمیں چاہئے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے خدا کی خوشنودی حاصل کریں، آقاﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں اور اپنی اولادوں میں محبت رسولﷺ پیدا کریں۔
تازہ ترین