آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کیا جائے

فکر فردا … راجہ اکبرداد خان
تادم تحریر میرا مقامی سپر اسٹور بھی ملک کے بیشتر دیگر اسٹورز کی طرح اشیاء خوردونوش اور دیگر اشیاء ضرورت سے خالی پڑا ہے۔ ملک بھر کے اخبارات اور دیگر میڈیا چینلز اس بات کا ذکر گزشتہ چند دنوں سے کررہے ہیں کہ ’’کورونا وائرس‘‘ کے پھیلائو کی وجہ سے لوگ زخیرہ اندوزی کررہے ہیں۔ اس بیماری کے تیز پھیلائو سے نمٹنے کے مسائل نے حکومتوں کے لیے بھی مسائل پیدا کردئیے ہیں۔ برطانیہ ا گرچہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، لیکن یہاں کی وزارت خزانہ بھی اتنی ہی دبائو میں ہے جتنی کہ اپنے آبائی ملک پاکستان کی ہے، ہر ملک اس وباء کے جانی اور معاشی نقصانات سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں پا رہا اور ہر ملک ایک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔19مارچ کےThe Timesمیں شاپنگ رپورٹ فوٹو گرافس کی مدد سے ایک ’’وٹیروز اسٹور‘‘ میں لوگوں کی بڑی تعداد کو داخل ہوتے دکھا رہی اور دوسری تصویر میں ایک بزرگ فرد جو اپنی تراش خراش سے مسلمان لگتے ہیں، ٹائیلٹ رولز سے بھری ایک بڑی ٹرالی دھکیلتے نظر آتے ہیں۔ اس رپورٹ کی شہ سرخی Elederly Denied By Shop Locusysہے، جس کا سادہ اردو ترجمہ یہ ہے کہ ’’بزرگ لوگوں کے لیے مختص اشیاء درمیانہ درجہ کے کیڑے لے اڑے‘‘ اور ایک تیسری تصویر میں اسٹور کے خالی شیلف دکھائی دے رہےہیں، حکومتی وزراء کی

پریشانیاں اور ان سے جڑی باگ دور قابل فہم ہے، کیونکہ اس قومی ہنگامی صورت حال سے نمٹنا ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اتنی کمیونٹی کے درمیان بنیادی سطح پہPanicماحول کا پایا جانا جہاں حالات سے نمٹنے میں ہماری کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے، وہاں ایسا ماحول ہماری صحت اور ویل بینگ کے لیے بھی موزوں نہیں۔ ’’کورونا وائرس‘‘ کی برطانیہ انٹری کو دو ہفتے ہو چلے ہیں۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پہ وزیراعظم اور ماہرین کی موجودگی میں صورت حال پر لوگوں کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ مساجد کو بھی اپنے معمولات بدلنے پڑ رہے ہیں اور لوگوں کو اجتماعات میں جمع نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے، تاکہ دوسرے اقدامات کے ساتھ مل کر مزید پھیلائو کو روکا جاسکے۔ Panic Buyingجس میں ہماری کمیونٹیز کا بھی حصہ ہے، ایک ایسا ایشو ہے جو حکومت کو پریشان کیے ہوئے ہے، نہ ہی حکومت اور نہ ہی بڑے فوڈ اسٹور مالکان یہ توقع کررہے تھے کہ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے فوڈ شیلف اتنے جلدی خالی ہوجائیں گے۔ AsdaاورSainsbury ایک ہی پراڈکٹ کی تین آئٹمز سے زیادہ تعداد کسی گاہک کو فروخت نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہیں۔ دوسرے بڑے اسٹورز بھی اسی طرح کا اعلان کررہے ہیں، حکومت اور اسٹورز اگر آغاز میں ہی کسیAnti Hordingاسکیم کا اعلان کردیتے تو لوگوں کو موجودہ پریشانیوں کا نہ سامنا کرنا پڑتا، اپنی کارنر شاپس سے بھی لوگوں نے آٹا، چاول، گوشت اور اٹالین پیسٹا پچھلے چند دنوں میں بہت زیادہ اکٹھا کرکے کئی دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔میرے شہر (لوٹن) میں کافی دکانوں پر گوشت نہیں مل رہا اور جو مل رہا ہے، اس کی قیمت معمول سے تقریباً دگنی ہے۔ بیشتر کارنر شاپس اپنے گاہکوں کی خریداری عادتوں سے بالعموم آگاہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا انہیں بھی ہر کسٹمر کو ایک مناسب حد تک ہی گوشت اور دیگر ضروری اشیاء فروخت کرنی چاہیں،
تاکہ کمیونٹی میں ہر کسی کی ضروریات پوری ہوتی رہیں، نہ ہی حکومت اور نہ ہی کوئی اور ادارہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی جسارت کررہا ہے۔ امید ہے دنیا جلد اس ایشو پر کنٹرول حاصل کرلے گی، اس وقت تک ہم سب کو تعاون کے ماحول میں جینا پڑے گا، تاکہ نظام معاشرت تہہ و بالا نہ ہوپائے، آج برطانیہ بھر میں حالات مشکل ہیں۔ حکومت کے کئی اعلانات سمجھنے لوگوں کو دشواریوں کاسامنا ہے۔وزیرخزانہ (چانسلر) کے معاشی اور ایمپلائمنٹ سپورٹ کی مکمل تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہیں، لیکن وزیراعظم جانسن کا یہ اعلان کہ تمام کمپنیاں اپنے ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، کیونکہ ہر کمپنی کی ورک فورس اس کا قیمتی سرمایہ ہے اور حکومت ہر قدم پہ کارپوریشن اور کمپنی مالکان کی ہر ممکن مالی مدد کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے اسے کسی بھی حد تک جانا پڑے، لوگوں کے لیے اطمینان کا باعث ہے، حکومت اس وقت تک350بلین پونڈ کے بجٹ پیکیج کا اعلان کرچکی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ سپورٹ پیکیج میں مزید اضافہ کی توقعات کی جارہی ہیں، کیونکہ روزگار کی دنیا میں ہر فرد اور ہر چھوٹی بڑی کمپنی پر ہر نیا دن گزرنے کے ساتھ مزید مشکلات واضح ہورہی ہیں۔آج پورا معاشرہ ایک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ حکومتی اعلانات کے مطابق یہ وباء ابھی مزید بڑھنے کی طرف جارہی ہے اور ان ہی اعلانات میں یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ وباء کی یہ اٹھان آئندہ چند ہفتوں میں تھم جانے کی توقع ہے۔ وزیراعظم جانسن توقع کرتے ہیں کہ آنے والے3ماہ اس بیماری پر قابو پالیا جائے گا۔ کئی مبصرین کی رائے میں انہیں ٹائم اسکیل کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، کیونکہ حالات بورس جانسن کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور ایسے بیانات ان کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم پوری قوم بورس کے قومی مزاج اوپر اٹھانے کی کوششوں میں ان کے ساتھ کھڑی محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگSocial Distancingمتواتر ہاتھ دھونے کی مشق اور بڑے ہجوموں سے دور رہنے کی ہدایات پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ہم بھی اسی معاشرہ کا حصہ ہیں، ہم میں سے اکثریت حکومت وقت کی ہدایات پر عمل کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔ ہمارا دین اور معاشرت بھی غیر ضروریSocial Engagementکر پروموٹ نہیں کرتے، اس لیے ہمارے لیے حکومتی آئیسولیشن گائیڈ لائنز پر عمل کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ گھروں سے کام کرنے کی اجازت سے اور کرائوڈنگ بھی ہوسکتی ہے اور گھروں میں پرائیویسی ایشوز بھی اٹھیں گے۔ آنے والے کئی
ہفتوں میں ہر گھر اور ہرNieghbourhoodمیں ہمیں ایک دوسرے کے لیےSpaceپیدا کرنی ہوگی۔ پچھلے جمعہ سے بچوں کی اکثریت بھی چھٹیوں پر ہوگی۔ لہٰذا زیادہ اسپیس دینے اور زیادہ بردباری دکھانے کی ضرورت ہوگی۔ ہم میں سے بھاری اکثریت اچھے والدین بھی ہیں اور اچھے گرینڈ پیرنٹس بھی اور اچھے کمیونٹی افراد بھی۔ دنیا اس وباء کے علاج کی تلاش میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے، یقین ہے ہم میں سے اکثریت چند ماہ بعد بھی موجود ہوگی۔ چند ہفتوں کی چھوٹی موٹی مشکلات سے نمٹ لینا جہاں مشکل ہوگا، وہاں ہماری طرح کی Resicantکمیونٹی کے لیے یہ کوئی بڑا چیلنج نہیں ثابت ہونا چاہیے۔ ’’کورونا وائرس‘‘ پر روزانہ بریفنگز دی جارہی ہیں۔ اپنے تمام بہن، بھائیوں کو ان تمام اطلاعات پر توجہ دے کر اپنے روزمرہ کی روٹینز طے کرنی چاہئیں۔ آپ تمام بہن، بھائی اپنا اور اپنے اردگرد عزیزواقارب کا خیال
رکھیں اور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

یورپ سے سے مزید