آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خواجہ سرا کی کہانی سُن کر دل ٹوٹ گیا، علی ظفر


معروف گلوکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر سماجی کارکن خواجہ سرا جولی خان کی کہانی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جولی خان کی کہانی سُن کر میرا دل ٹوٹ گیا۔

گزشتہ روز پاکستان کے معروف گلوکار علی ظفر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں جولی خان نامی سماجی کارکن خواجہ سرا بتا رہا ہے کہ پوری دُنیا کو قرنطینہ میں رکھنے سے اُن کی زندگیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

علی ظفر کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں خواجہ سرا جولی خان نے کہا کہ ’معاشرہ اب قرنطینہ میں گیا ہے تو اِس وجہ سے سب کو پریشانی ہو رہی ہے لیکن ہمارے لیے یہ نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہم تو پہلے سے قرنطینہ میں رہ رہے ہیں۔‘

جولی خان نے کہا کہ ’ہم کونسا اپنے گھروں میں  اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور کونسا ہمارے بہت زیادہ دوست احباب ہیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’معاشرے میں کوئی ہمیں ایک دوست کی حیثیت سے قبول نہیں کرتا، اِس لیے ہم تو پہلے سے ہی قرنطینہ میں رہ رہے تھے۔‘

جولی خان نے کہا کہ ’کورونا پوری دُنیا میں آیا ہے تو اب پوری دنیا قرنطینہ جیسی مشکل کو دیکھ ر ہی ہے، اب آپ لوگ محسوس کریں کہ سب سے الگ رہ کر ہم کیسا محسوس کرتے ہیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’آپ لوگوں کے لیے تو یہ جنگ لڑنا بہت آسان ہے کیونکہ ابھی تو آپ لوگوں کے پاس کوئی تعصب نہیں ہے ۔‘

جولی خان نے کہا کہ ’قرنطینہ میں رہتے ہوئے اگر آپ یہ سب سوچیں کہ میرے پاس گھر نہیں ہے، ماں باپ نہیں ہیں، پیسہ نہیں ہے، کھانے کو رزق نہیں ہے، نوکری نہیں ہے، تعلیم نہیں ہے تو آپ لوگ کیسا محسوس کریں گے؟‘

اُنہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اِس معاشرے میں بہت سے مسائل ہیں، اِس معاشرے میں نہ تو انسانیت ہے، نہ عدل ہے، نہ انصاف ہے، نہ تمیز ہے، نہ شعور ہے۔‘

جولی خان نے کہا کہ’اگر اِس معاشرے میں اسلام اور انسانیت آجائے گی تو ہمارا خوف ختم ہوجائے گا۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’جو لوگ دنیا میں خدا بنے بیٹھے ہیں اور بھول گئے ہیں کہ اُن کو مرنا ہے تو یہ کورونا وائرس اُن کو یہ احساس دلانے آیا ہے تُم اللّہ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہو۔‘

علی ظفر نے یہ ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہماری اجتماعی ذمہ دای بنتی ہے کہ ہم معاشرے میں تمام خواجہ سراؤں کو برابری اور محبت کا احساس دلائیں، اُنہوں نے لکھا کہ ’سب کو اللّہ نے بنایا ہے۔‘

انٹرٹینمنٹ سے مزید