امریکا میں اسرائیل سے متعلق پالیسی آئندہ انتخابات میں ایک اہم موضوع بن چکی ہے، خصوصاً ریاست الی نوائے کے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں پرو اسرائیلی گروپس نے شکاگو کے علاقے میں امیدواروں کے حق اور مخالفت میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ امریکی عوام میں اسرائیل کی مقبولیت تاریخی کم سطح پر آ گئی ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پیک) اور اس سے منسلک گروپس نے تقریباً 13.7 ملین ڈالر انتخابی مہم پر خرچ کیے ہیں، ان میں کچھ ایسے ’خفیہ فنڈز‘ والے گروپس بھی شامل ہیں جو اپنے مالی ذرائع ظاہر نہیں کرتے۔
رپورٹس کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کا اس سے متعلق کہنا ہے کہ اے آئی پیک اب براہِ راست کے بجائے مختلف ناموں سے بنائی گئی سیاسی ایکشن کمیٹیوں (پی اے سیز) کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ڈیموکریٹ ووٹرز میں اس کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شکاگو کے ایک اہم حلقے میں 26 سالہ سرگرم کارکن کت ابو غزالہ نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں جو غزہ جنگ کو ’نسل کشی‘ قرار دے چکی ہیں۔
ان کا مقابلہ ڈینیئل بس اور لورا فائن سے ہے جن میں فائن کو پرو اسرائیل امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
ابتدائی طور پر اے آئی پیک سے منسلک گروپس نے ڈینیئل بس کے خلاف مہم چلائی تاہم بعد میں حکمت عملی بدل کر ابو غزالہ کو ہدف بنایا گیا۔
ایک متنازع اقدام میں ایک گروپ نے ایک کمزور امیدوار بشریٰ امی والا کی حمایت میں اشتہار بھی چلایا تاکہ ووٹ تقسیم کیے جا سکیں جسے امی والا نے مسترد کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق دیگر نشستوں پر بھی پرو اسرائیل اور ترقی پسند امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
سینیٹ کی دوڑ میں بھی اسرائیل پالیسی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے جہاں مختلف امیدواروں کے مؤقف میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 17 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز اسرائیل کے حق میں زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں جو ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اے آئی پیک اب بھی مالی طور پر مضبوط ہے لیکن طویل مدت میں اس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی اخراجات بھی ووٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور ڈیموکریٹک ووٹرز مزید جنگوں کے حق میں نہیں ہیں۔