آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میو اسپتال میں کورونا مریض کی موت کا معاملہ

میو اسپتال میں کورونا مریض کی موت کا معاملہ 


اسلام آباد(فخردرانی) میو اسپتال میں کورونا مریض کی موت کا معاملہ، انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے۔ جب کہ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کبھی امراض قلب کا مسئلہ نہیں ہوا۔ 

تفصیلات کے مطابق، کورونا وائرس کا مریض محمد حنیف، جس کا جمعے کے روز انتقال ہوا ہے۔ اس کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ امراض قلب میں کبھی بھی مبتلا نہیں رہا۔ 

جب کہ حکومت پنجاب کی انکوائری کمیٹی نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا قرار دیا تھا۔ جمعے کے روز سوشل میڈیا پر محمد حنیف کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں اسے روتے ہوئے اور مدد کے لیے پکارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، میڈیکل اسٹاف میں سے کوئی بھی اس کی مدد کےلیے نہیں آیا۔

 یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کی میڈیا بریفنگ کے دوران اٹھایا گیا ، جنہوں نے آزاد انکوائری کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم، انکوائری کمیٹی جو کہ اپنی رپورٹ کل جمع کرے گی، اس نے موت کی وجہ کورونا نہیں بلکہ حرکت قلب بند ہونا ٹھہرایا ہے۔

حکومت پنجاب کے چیئرمین کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ، پروفیسر ڈاکٹر محمود شوکت نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کمیٹی نے مریض کی فائل کا جائزہ لیا ہے اور تمام میڈیکل اسٹاف سے جانچ پڑتال کی ہے۔ 

جس کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مریض کی موت کورونا وائرس کے سبب نہیں بلکہ حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داری یہ تھی کہ محمد حنیف کی موت کی وجہ کا پتہ لگایا جائے۔ میڈیکل کنسلٹنٹ نے معمول کے مطابق، صبح ساڑھے گیارہ بجے وارڈ کا دورہ کیا تھا، جب کہ نرسوں نے مریضوں کی فائل مرتب کی تھی۔ 

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپتال کے عملے نے اسے چھوڑا نہیں تھا۔ محمد حنیف لاہور ہائی کورٹ کا ایک ریٹائرڈ ریڈر تھا۔ اس کے بھائی نذیر نے دی نیوز کو بتایا کہ لیبارٹری ٹیسٹ میں کورونا وائس کی تصدیق کے بعد وہ اپنے بھائی کو میئو اسپتال لائے تھے۔ 

جہاں رات گیارہ بجے اسے ایڈمٹ کرلیا گیا تھا اور ہمیں کورونا وارڈ میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم، ہم نے موبائل فون کے ذریعے ان سے رابطہ رکھا تھا۔

ملک بھر سے سے مزید