• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکام کو 41 ہزار تبلیغی جماعت کے افراد کی تلاش

اسلام آباد (زاہد گشکوری) کورونا وائرس عالمی وباء کی نگرانی کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 41 ہزار افراد کی تلاش کر رہے ہیں جورائیونڈ کے بڑے اجتماع میں شرکت کرنے کے بعد ملک بھر میں مشنز پر چلے گئے۔

5 ہزار 2 سو ٹیمیں جو آٹھ، آٹھ ارکان پر مشتمل ہیں، انہیں ان کے ترتیب شدہ پلان کے مطابق 15 مارچ کو تمام چار صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد جموں اینڈ کشمیر اور وفاقی دارالحکومت کے 14 سے زائد علاقوں میں سینکڑوں متعین مساجد میں چار ہفتے گزارنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کورونا وائرس مہم پر موثر رابطے کی نگرانی کرنے والے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی سی سی) سے منسلک ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار افراد سے 60 شہروں میں کووڈ 19 پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور دو درجن تبلیغی مراکز میں کورونا کے مثبت کیسز کی اطلاعات ہیں۔ تبلیغی جماعت کے کُل ایک لاکھ بارہ ہزار میں سے چار ہزار پانچ سو کے لگ بھگ افراد تقریباً 26 شہروں سے رائیونڈ آئے تھے۔

افسر کے مطابق سالانہ اجتماع وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر دو دن پہلے ہی ختم کردیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب سے حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا ہے تب سے صوبائی حکام نے اب دو سو سے زائد مساجد کو کلیئر کردیا ہے جہاں لگ بھگ 9 سو غیرملکی اور 14 ہزار سے زائد مقامی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے جماعتی مراکز میں نئے لوگوں کو بھی داخلے سے روک دیا ہے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے تمام ارکان کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق کم سے کم 170 تبلیغی افراد کا ٹیسٹ اب تک مثبت آیا ہے جبکہ ڈیڑھ سو زائد ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 70 فیصد غیرملکی اپنے اپنے ملک لوٹ گئے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ جماعت کے ارکان کے 221 ٹیسٹ کے نتائج آگئے ہیں جن میں سے 94 کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ 15 ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔

صوبے میں تقریباً 453 غیرملکیوں کو مختلف آئیسولیشن مراکز میں رکھا گیا ہے۔ 296 غیرملکیوں کو لاہور کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے جبکہ 10 کو شیخوپورہ، 45 کو گوجرانوالہ، 23 کو سرگودھا، 17 کو فیصل آباد، 41 کو ملتان اور 21 غیرملکیوں کو ڈی جی خان کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تبلیغی جماعت کے 8 ہزار افراد کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔

لاہور میں 2 ہزار 2 سو سے زائد مقامی افراد جبکہ راولپنڈی میں 9 سو افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جن میں سے 80 فیصد میں علامات پائی گئی ہیں۔ 550 ارکان بشمول چین، انڈونیشیا، تیونس، نائیجیریا، افغانستان، ترکی اور دیگر ممالک کے 26 افراد کو سکھر اور حیدرآباد کی مساجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ 50 ارکان بشمول پانچ نائیجیرین خواتین کو قصور میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔

جماعت کی قیادت نے اپنی ٹیموں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاشرتی اجتماعات نہ کریں اور سماجی فاصلے کا مشاہدہ کریں۔ 250 سے زائد ارکان کو مرکز میں قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں ایک رکن کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور لیہ میں 106 کے نتائج کا انتظار ہے اور 4 سو سے زائد کو ملتان میں قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں کئی غیرملکیوں کو ابدالی مسجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں 17 مثبت کیسز ہیں جن میں سے چھ افراد کرغزستان اور دو فلسطین کے ہیں۔

70 سے زائد تبلیغی افراد کو کوٹ ہتھیال میں مکی اور بلال مسجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ 3 ہزار سے زائد تبلیغی بشمول 2 سو غیرملکی بلوچستان اور کے پی کے میں چار ماہ کے تبلیغی مشنز پر چلے گئے ہیں۔

راولپنڈی میں تبلیغی جماعت کے معروف رکن فاروق عباسی کا کہنا ہے کہ جماعت کی اعلیٰ قیادت تمام ارکان کی اسکریننگ کیلئے حکام سے تعاون کر رہی ہے۔

جماعت کے رہنماء نعیم بٹ کا کہنا ہے کہ یہ سچ نہیں کہ ہمارے ارکان ملک میں اس وائرس کو پھیلانے کی اصل وجہ ہیں، ہم حکومت کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ جماعت اور اس کے ارکان پر تنقید کرنا بند کردیں۔

تازہ ترین