آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا حاملہ خواتین کووڈ19 کا آسان شکار ہیں ؟

عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر ماہر نسواں کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو کورونا وائرس سے جاری دنیا بھر میں کشیدہ صورتحال سے لڑنے، اپنی اور بچے کی صحت کے لیے کچھ اضافی اقدامات کرنے ہوں گے۔

امیریکن سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن ’سی ڈی سی‘ اور رائل کالج آف اوبسٹیٹریاٹک اینڈ گائیناکولوجسٹ کے مطابق کورونا وائرس ایک نئی وبا ہے جس کی حاملہ خواتین سے متعلق تا حال کوئی ریسرچ نہیں کی گئی ہے مگر اس وبا کے دوران حاملہ خواتین کچھ اضافی بچاؤ کے اقدامات کرتے ہوئے اس وبا سے خود اپنے بچے کی صحت کی حفاظت کر سکتی ہیں ۔

ماہر نسواں کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین خود کی صفائی پر زیادہ سے زیادہ دھیان دیں اور جیسے اس وبائی بیماری سے بچاؤ کے لیے عام عوام کو احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں ان پر عمل کریں۔

سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کرتے ہوئے دوسروں سے فاصلہ رکھیں اور ملنا جلنا یا کسی کے گھر آنا جانا بند کر دیں خاص کر ان سے فاصلہ رکھیں جنہیں زکام یا فلو کی شکایت ہے۔

اپنے روٹین چیک اپ ملتوی کر دیں اور اسپتال جانے سے اس وقت تک گریز کریں جب تک ایمر جنسی محسوس نہ کریں یا آپ کا ڈاکٹر خود آپ کو نہ بلائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کی گئی تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین میں کوئی خاص علامات نہیں پائی گئی ہیں ، حاملہ خواتین میں بھی تشخیص انہیں علامات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے جیسے کہ دوسرے افراد مگر امیون سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے حاملہ خواتین کا اس وائرس کا شکار بننا آسان ہے۔

کیا کورونا وائرس سے مس کیرج کا امکان بڑھ جاتا ہے ؟

کورونا وائرس کا حمل ضائع ہو جانے یا ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے تا حال کوئی شواہد نہیں ملے ہیں ۔

کیا کورونا وائرس حاملہ خاتون سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے ؟

چینی ماہرین کے مطابق چین میں اس وبا کے دوران ایسے بہت سے کیسز سامنے آئے ہیں کہ ماں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی مگر بچے کی پیدائش کے بعد جب نوازائیدہ بچے کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو  وہ منفی آیا۔

ایسی صورتحال میں ماں کو بچے کی پیدائش کے بعد 14 دن تک دور رکھا گیا تاکہ اس عرصے میں ماں صحتیاب ہو جائے اور بچہ اس وائرس سے محفوظ رہے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے ؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ زچہ صحتیابی کے بعد اپنے بچے کو اپنا دودھ بھی پلا سکتی ہے مگر بہت احتیاط کے ساتھ، کیوں کہ کورونا ماں سے بچے کو چھینکنے یا کھانسنے کے دوران لگ سکتا ہے۔

 تحقیق کے دوران اس بات کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی خاتون اپنے بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتی، ماں کا دودھ محفوظ ہے مگر بچے کو ماں کے صحتیاب ہو جانے تک قریب نہ ہی لایا جائے تو بہتر ہے ۔

محققین کے مطابق ماں کے دودھ میں کورونا وائرس نہیں پایا گیا ہے جو کہ ایک نوازئیدہ بچے کے لیے خوش آئند بات ہے ۔

صحت سے مزید