آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست

سینئر فکری کلرکوں کے اعدادوشمار اور بھانت بھانت کی بولیاں سن سن کر لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چینی آٹے کے بارے تحقیقاتی رپورٹ کو تو ماریں گولی کہ یہ سب کچھ بھی بالآخر گول ہی ہو جائے گا لیکن اس خرکار اور بدکار نظام کی باٹم لائن صرف اتنی ہی ہے کہ یہاں سب کچھ ہے ہی اس لئے کہ امیر، امیر ترین اور غریب غریب ترین ہوتا چلا جائے جبکہ ریاستِ مدینہ کے لافانی مبانی نے صدیوں پہلے فرمایا ’’جب کچھ لوگوں کے پاس ضرورتوں سے بہت زیادہ جمع ہو جائے تو یہ جان لو کہ بہت سے لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو گئے‘‘

(مفہوم)دولے شاہ کے پوردگان اکھاڑ پچھاڑ اور برطرفیوں پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ افراد کے خلاف کارروائیوں کو ’’علاج‘‘ سمجھ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایکشن سے بھرپور اس قسم کے شہکار کبھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور ہماری پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ’’کائو بوائے ازم‘‘ سنسنی تو بہت پھیلاتا ہے لیکن کام کبھی نہیں آتا۔

بیڑہ اسی روز غرق ہو گیا تھا جب عشروں پہلے ڈاکٹر محبوب الحق نام کا ایک’’جینیئسں‘‘اور اقتصادی جادوگر منظر عام پر آیا اور اس نے ٹریکل ڈائون تھیوری کے نام پر سرعام عوام کو گالی دی اور خواص نے اس پر تالیاں بجائیں۔

اس تھیوری کا خلاصہ یہ تھا کہ اس ملک کے اقتصادی ڈائنا سوروں، مگر مچھوں اور بگھیاڑوں کو کھل کھیلنے اور رج کے کھانے دو۔ اس لکڑ ہضم پتھر ہضم خوش خوراکی کے دوران جو کچھ ان کے مقدس جبڑوں سے گرے گا، غیور اور باشعور عوام کے پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہو گا اور اگر پھر بھی چند کروڑ بھوکے رہ گئے تو وہ خطِ غربت کی رونق بڑھانے کے کام آئیں گے تاکہ قرضے امدادیں بٹوری جا سکیں۔

تب سے اب تک یہی ہو رہا ہے اور پیدائشی طور پر ’’سینئر تجزیہ کار‘‘ ’’افراد‘‘ پہ چاند ماری کر کے فکری جہاد کا شوق پورا کر رہے ہیں جبکہ مجھ جیسے کودن کے نصیب میں اس المیہ پر کڑھنا لکھا ہے کہ یہ لوگ ’’بوکے‘‘ تو بہت زور و شور سے نکال رہے ہیں لیکن مرا ہوا کتا نکالنے کی طرف شاید ہی کوئی دھیان دے رہا ہو۔

سادہ لوحوں کا وہ گروہ یاد آتا ہے جس نے پکڑ دھکڑ کر بہت سے زیبرے کسی احاطے میں قید کئے۔ کچھ زیبروں کے فرار ہو جانے پر احاطہ کی دیوار بلند کر دی، چوکیدار بھی ’’تبدیل‘‘ کر دیے لیکن زیبروں کا فرار پھر بھی نہ رُکا تو احاطہ کی دیوار مزید اونچی کر دی لیکن صورتحال جوں کی توں رہی تو کسی سیانے سے رجوع کیا۔ اس نے موقع واردات کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ’’بھلے مانسو! تم دیوار تو اونچی کئے جا رہے ہو لیکن احاطہ کا دروازہ تم نے کبھی بند نہیں کیا۔‘‘

اصل مسئلہ اس ’’پرو ایلیٹ‘‘ نظام کا ہے جس نے سیاست سے لے کر معیشت تک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ سیاست اور معیشت دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جس طرح ملکی سیاست پر اک مخصوص اقلیت کی بےلگام اجارہ داری ہے، اسی طرح ملکی معیشت بھی ان کے اشاروں پر ناچنے والی رقاصہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں...

حیرت ہے ان کی عقلوں پر جو باپ کے بعد بیٹی، بیٹی کے بعد داماد اور داماد کے بعد نواسے کی حکمرانی کو ’’جمہوریت‘‘ سمجھتے ہیں تو یہی حال اس نام نہاد ’’معیشت‘‘ کا بھی ہے جس میں چھوٹا کاروبار تو انڈے بچے نہیں دیتا لیکن سیاسی فیکٹریاں، ملیں اور پلانٹس یوں بچے دیتے ہیں کہ خرگوش بھی شرما جائیں۔

ایک بار پھر خود کو ’’ری پیٹ‘‘ کرنے پر مجبور ہوں کہ یہ پورا نظام ’’دولت بذریعہ سیاست اور سیاست بذریعہ دولت‘‘ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ ممکن ہے کوئی ارسطو متوسط طبقہ کے حوالہ سے ملک معراج خالد، حنیف رامے، فضل حسین راہی جیسوں کا ذکر لے بیٹھے تو یاد رہے کہ یہ ’’پرو ایلیٹ‘‘ شیطانی نظام اپنے اندر جان بوجھ کر نظر بٹوئوں کی گنجائش رکھتا ہے یا یوں سمجھ لیں کہ یہ سب یوں ہی ہے جیسے کوئی بچہ ایک گردے کے ساتھ پیدا ہو جائے۔

کسی کی 6انگلیاں یا دو انگوٹھے ہوں اور کبھی کبھی ایسی خبریں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں آدمی کا دل سینے کے بائیں نہیں دائیں طرف ہے۔اس تمام تر رطب و یاس کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ آٹا چینی تحقیقاتی رپورٹ کے نتیجہ میں ہونے والی ’’تبدیلیوں‘‘ اور ’’ردوبدل‘‘ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ’’افراد‘‘ پر بھی نظر ضرور رکھیں لیکن اگر کسی کو سچ مچ کی حقیقی، بنیادی اور جوہری تبدیلی درکار ہے تو وہ اس نظام پر فوکس کرے جو وضع ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ طاقتور، طاقتور ترین اور کمزور، کمزور ترین ہوتا چلا جائے۔

اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس ملک کے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے میں فیصلہ کن تبدیلیوں کا اہتمام یقینی نہیں بنایا جاتا لیکن ذاتی طور پر مجھے دور دور تک ایسا کوئی معجزہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا جو ’’سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست‘‘ کا یہ کریہہ کلچر تبدیل کر سکے کیونکہ یہی تو سرمایہ دارانہ نظام کی روح ہے جبکہ ہم جیسے ملک اس نظام کے بہت ہی معمولی پرزے بلکہ نٹ بولٹ ہیں بلکہ شاید وہ بھی نہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

تازہ ترین