آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عشرت علی خان

مہران آرٹس کونسل کا قیام 1964ء میں عمل میں آیا، اس وقت ایس ایم وسیم شہر کے ڈپٹی کمشنر اور ابونصر کمشنر حیدر آباد تھے۔ ابونصر سے پہلے نیاز احمد کے دور میں حیدر آباد شہر نے بے مثال ترقی کی تھی۔ ان کے دور میں ثقافتی طور پر عباس بھائی پارک، نئی عیدگاہ، کھیلوں کے لیے نیاز اسٹیڈیم تدریس کے لیے پبلک اسکول اور سٹی کالج کی نئی عمارت اور فن و فن کار کے لیے رانی باغ میں خُوب صورت اوپن ایئر تھیڑ بنایا گیا تھا۔ نیاز احمد سے پہلے ایسے شان دار کام نول رائے شوتی رام نے کیے تھے۔ ابتدا میں مہران آرٹس کونسل کو محکمہ تعلیم کی جانب سے گرانٹ ملی اور کمشنریٹ کے تحت اس کا انتظام بعد میں شاید 1975،1976میں اسے محکمہ ثقافت و ٹورازم کے حوالے کردیا گیا۔ 

اس آرٹس کونسل کے شروع میں مقصد تھا کہ یہاں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جائیں بعد میں اس کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا اور اس کو فائن آرٹس کے علاوہ میوزک، علاقائی دستکار کی ترویج کے ساتھ ساتھ فن کاروں کے فن کی ترقی، فن کاروں کی تلاش اور پھر ان کی تراش خراش علاقائی ادب کی چھپائی، جس سے مراد قطعاً کوئی مخصوص زبان نہیں، بلکہ ان ادیبوں کی تخلیقات کو چھاپنا، جو اس آرٹس کونسل کی حدود میں آتے ہوں۔ فائن آرٹس کا میوزیم بنانا، لائبریری کا قیام عمل میں لانا اور ایسی تمام تقاریب کا انعقاد جو ادب، فن ثقافت کے زمرے میں آتی ہوں۔ مہران آرٹس کونسل جن مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ 

ان میں سے وہ کسی ایک کام میں بھی پوری نہیں اُتری۔ مہران آرٹس کونسل میں اس وقت تین عمارتیں، ایک بڑا آڈیٹوریم، جس میں تقریباً چار سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ، اسی آڈیٹوریم میں ایک ھال بھی ہے، جہاں دو سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، اس طرح ایک ایڈمنسٹریشن بلاک ہے، جہاں تقریباً چار چھوٹے اور دو بڑے کمرے ہیں۔ اسی طرح ایک اوپن ایئر تھیڑ ہے، جس میں تقریباً ساڑھے تین سو افراد پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔ ایک وسیع و عریض گھاس کا میدان بھی ہے، جہاں گرمیوں کی راتوں میں خوب صورت فنکشن ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

مہران آرٹس کونسل، حیدر آباد کے تقریباً وسط میں اور مین شاہراہ پر واقع ہے۔ اس کے ایک طرف لطیف آباد کی تقریباً آٹھ لاکھ آبادی ہے، تو دوسری طرف قاسم آباد ہے ، جس کی تقریباً چار لاکھ آبادی ہے۔ تیسری طرف حیدرآباد اور کینٹ کی تقریباً بارہ لاکھ کی، چوتھی سمت سائٹ ایریا کی طرف ہے اور تقریباً دو ڈھائی لاکھ آبادی اس طرف بھی ہے گویا اتنی بڑی آبادی کے لیے سندھ میوزیم کے ممتاز مرزا آڈیٹوریم کے بعد یہ دوسری بڑی ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مناسب ترین جگہ ہے۔ اس لیے کہ اوپن ایئر تھیڑ جیسے معیاری ثقافتی مرکز کو قاسم آباد تعلقے کی انتظامیہ نے بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے، حالاں کہ جس وقت یہ تھیڑ بنا تھا۔ 

اس وقت پورے سندھ میں اس سے زیادہ معیاری ثقافتی مرکز کوئی دوسرا نہیں تھا، یہاں کا بنایا ہوا اورنگ کلب اپنی نوعیت کا واحد کلب تھا، جس کے ممبران نہ صرف بہت زیادہ پڑھے لکھے، بلکہ ثقافت ادب اور ڈرامے سے بہت زیادہ واقفیت رکھنے والے تھے۔ ان میں علی احمد چھاگلہ، ڈاکٹر الیاس عشقی، حمایت علی شاعر، فلم اسٹار محمد علی، محمود صدیقی، قربان جیلانی، ایم بی انصاری، بینش سلیمی، ارشاد علی، سید نایاب حسین، مرزا عابد عباس، طاہر رضوی، مصطفیٰ قریشی جیسے فن کار، ادیب اور شاعر شامل تھے۔ 

حیدر آباد کے ادیبوں، شاعروں، فن کاروں، موسیقاروں، گلوکاروں کی یہ خواہش کہ یہ کونسل، کراچی آرٹس کونسل کی طرز پر ہے ، یہاں شام کو شہر بھر کے ادیب شاعر فن کار جمع ہوں، یہاں انٹرٹینمنٹ کے لیے کینٹین میں بیٹھنے کے بینچز، کرسیاں اور میز بھی ہوں، یہاں روزانہ آرٹس کے حوالے سے اصل پروگرامز ہوں، یہاں شادی بیاہ یا دوسرے ایسے پروگرامز جو فن کے زمرے میں نہیں آتے بالکل ممنوع ہوں۔ یہاں اندر داخل ہونے والوں کے لیے کارڈز کا اجراء ہو۔ ان تمام چیزوں کی موجودگی میں ہی اس کا وہ اعتبار برقرار ہو گا جو ایک آرٹس کونسل کے لیے ضروری ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید