آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Rohzin Story Of Unnamed Relations
فاضل جمیلی....رحمٰن عباس کا ناول’روحزن‘ ایک ایسا طلسماتی جزیرہ ہے جس میں داخل ہونےکے لیے بھیدوں سےبھرے سمندرکی نہ جانے کتنی پرتوں ،اتھاہ گہرائیوں، سرپٹختی طغانیوںاور کتنے ہی مدو رگردابوں سے گزرنا پڑتا ہے۔قرنوں کے دوران سمندرنے ان گنت کہانیوں، لاتعدادافسانوں،بے پناہ رازوں اوربے انتہا واقعات کو جنم دیا لیکن خود سمندرکب اور کیسےوجود میں آیا، تاریخ انسانی اس کا احاطہ نہیں کرتی البتہ یہ بات قیاس کی جاسکتی ہے کہ سمندر نسائی توانائی سے بھرپورایسےنمکین پانیوں کا مجموعہ ہے جس پر کبھی مقدس دیویوں کی حکمرانی رہی ہوگی۔

رازوں بھرے ان نمکین پانیوں کا ذائقہ چکھنے سے پہلے اگر آپ رحمٰن عباس کے پہلے ناول ’’نخلستان کی تلاش‘‘میں محبت کے تپتے ریگستان سے نہیں گزرے، دوسرے ناول’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘کا آخری گیت آپ نے نہیں سنااور تیسرے ناول’’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘‘ کرنے والے عبدالسلام سے نہیں ملے توچوتھے ناول ’روحزن‘ کاذائقہ آپ کو بے مزہ بھی کرسکتا ہے۔ویسے بھی سمندرجس کسی کو اپنے راز میں شریک نہیں کرتا، اُسے باہر اُچھال دیتا ہے۔

ناول کے مرکزی کردار کا نام بھی اسرار ہے اور سمندر کی پراسرار دنیا میں اپنے والدکی گمشدگی کے باوجود اسے سمندر سے وحشت محسوس نہیں ہوتی بلکہ سمندر اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔وہ سمندر سے مکالمہ کرتا ہےاور فطرت سمندر کے روپ میں اس پر منکشف ہونے لگتی ہے۔اس کا باپ کوئی دیوتا نہیں تھا اور نہ ہی اسے کسی اپسرا سے جنگ میں شکست ہوئی تھی ۔اس کے باوجود وشنو کے حکم پرسمندر کو ایک بار پھراس کےلیے بلویا گیا اورسمندر کا نمکین پانی اسرار کے لیےایسا امرت بن گیاجس میں اشنان کے بعد وہ کئی ایک اپسرائوں کو تسخیر کرنے والا تھا۔

کہانی کی اول و آخر افرودیتی تو حنا ہے جو حاجی علی کی درگاہ پر حاضری کے دوران ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں اس کے روح و بدن سے ہمکلام ہوتی ہےاورپھرنفس کے غائب حاضر غائب لمحےمیں داخل ہونے تک اس کے وجود کا دائمی حصہ بن جاتی ہےلیکن حسن اور محبت کی یہ دیوی حنا کے ساتھ ساتھ کئی اور شکلوں اورصورتوں میں بھی اس کی تکمیل کرتی دکھائی دیتی ہے۔حاجی علی کی درگاہ میں ہونے والی ہلکی ہلکی پھوار سے بہت پہلے تیزطوفانی بارش کی ایک رات یہی دیوی اسے مس جمیلہ کی شکل میں ملی تھی اور دونوں نے روح و بدن کاپہلا گیت مل کر گایاتھا۔

جسموں اور روحوں کے کورس میں گائے جانے والے اس گیت میںشامل ایک شانتی بھی ہے جو اسرارکو اپنا کسٹمر نہیں سمجھتی۔یہی وجہ ہے کہ حنا سے ملنے کے باجوداس کے قدم خود بہ خودشانتی کی طرف اُٹھنے لگتے ہیں۔روحوں اورجسموں سے جڑی اس کہانی میں حنا کا باپ یوسف بھی ایک مضبوط کردار کے طور پر سامنے آتا ہے اورپھر ایمل ، مس تھامس،حنا کی سہیلی ودی اور ’کتاب الحکمت بین الآفاق ‘کے تعلیم کردہ نصاب کے ذریعے ایک ایسے طرزِ فکر اور طرزِ زندگی کی تشکیل سامنے آتی ہے جس نے اس کہانی کوحزن و ابنساط کی ایسی جدلیات میں تبدیل کردیا ہے جس سے گزرے بغیر اُردوناول کے تجریدی ارتقاء کو سمجھنااور ناول نگاری کے نئے معیارات کا تعین انتہائی مشکل ہے۔

رحمٰن عباس پر فرائڈ اور ڈی ایچ لارنس کے اثرات نمایاں ہیںلیکن اس ناول میں ان کے کرداروں کی نفسیاتی تجسیم ممتاز مفتی کے رنگ میںرنگی ہوئی ہے۔ممتاز مفتی کے طویل ناول ’علی پورکے ایلی‘میں ایلی کے کردار کےارتقائی سفراور رحمٰن عباس کے ناول’روحزن‘کی تفہیم ایک جیسے انداز میں ہوئی ہے۔لیکن اپنے اپنے کلائمکس اور تھیسس میں دونوں کہانیاں الگ الگ دنیائیں ہیں۔’علی پورکاایلی‘ میں ایلی کا باپ ہر جگہ نفسانی فتوحات حاصل کرتا ہے جس سے بچے کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہےاور وہ نفسانی خواہشات سے متنفر ہو جاتا ہے۔ممتاز مفتی کا ایک اور ناول ”الکھ نگری“ ہے۔ اگر علی پور کا ایلی اور الکھ نگری کوایک ساتھ پڑھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک ہی کردارہے جو نفسانیت سے تصوف کی طرف محوِ سفر دکھائی دیتاہے۔

جبکہ رحمٰن عباس کے کردار جنسی عمل کو ہی’ روحزن‘ کا آسان علاج قراردیتے ہیں۔ناول میں اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔’’والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی کسی اور سے وابستگی کو اگر بچہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو یہ منظر اس کی روح کو پرحزن کر دیتا ہے۔یہ حزن روح میں چھید کردیتا ہے۔چھید کا رقبہ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔یہ خالی رقبہ اپنے خالی پن کے سبب روح کا ایک مرض بن جاتاہے ۔اس مرض کا آزمودہ اور آسان علاج انبساط ِ اختلاطہے۔اختلاط محبت کی فطری پناہ گاہ ہے۔اس سے انکارنفس اور محبت دونوں کا انکار ہے۔اختلاط بدن کی کھڑکیاں کھولتا ہےجس سے روح میں روشنی پھیلتی ہے ۔اس روشنی سے روح کی کئی ایک بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں‘‘۔

رحمٰن عباس اپنی کردارنگاری،جزئیات پر گہری نظراورزبان و بیان پر مکمل گرفت کے حوالے سے روسی ناول نگاروں کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں۔کہیں کہیں مارکیز کا عکس بھی اس ناول میں ملتا ہے اور جب ’ممبادیوی‘ کی جلوہ گری سامنے آتی ہے تو مصنف کا بیانیہ میرامن دہلوی کے’قصہ چہاردرویش ‘ کی زبان جیسا لطف دینے لگتا ہے۔حزن و ملال اور لطف و انبساط میں گندھی بے نام رشتوں کی یہ کہانی ایک نئی داستان اوربے نام کیفیتوں،انسانی جبلتوں اور نفسیات کی نئی تفہیم ہے۔ اُردوزبان کی خوش بختی ہے کہ اسے رحمٰن عباس کی شکل میںسماجی و سیاسی شعوررکھنے والا ایک نیا داستان گو مل گیا ہے۔
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں