• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ رمضان، ماہِ قرآن بھی ہے کہ اِسی ماہ یہ کتابِ ہدایت نازل ہوئی۔ وہ کتاب کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :’’ یہ وہ کتاب ہے، جس میں کوئی شک نہیں اور یہ ہدایت ہے متّقی لوگوں کے لیے۔‘‘ایمان ہر قسم کے شک ،ریب ،تردّد اور تذبذب کی کیفیات کی ضد کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمانی کیفیت کا ذکر قرآنِ کریم میں یوں کیا ہے’’کہہ دو میرا جینا، مرنا، مالی اور بدنی عبادات، سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔‘‘سورۂ یونس کی آیت نمبر58میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’کہہ دو کہ اللہ کی رحمت اور فضل سے اُس نعمت پر تمہیں خوشیاں منانی چاہئیں۔

یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے، جسے لوگ جمع کررہے ہیں۔ ‘‘لوگ اِس مادّہ پرست دنیا میں مال و دولت ، شہرت و عزّت اور جاہ و جلال کے حصول میں مگن ہیں اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہ قرآن اُن سب چیزوں سے بہتر ہے، جنھیں لوگ جمع کر رہے ہیں۔ سورۃ الرحمٰن میں دنیا جہان کی رحمتوں کا ذکر ہے، مگر اُس کے آغاز میں یہ ارشادِ ربّانی ہے’’رحمٰن کی سب سے بڑی رحمت یہی ہے کہ اُس نے قرآن کی تعلیم دی ہے۔‘‘خود قرآنِ کریم میں بے شمار مرتبہ اِس عظیم الشّان کتاب کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور اِس کی اہمیت ذہن نشین کروائی گئی ہے۔ اِس کے فضائل پر قرآن و حدیث میں بار بار توجّہ دِلائی گئی ہے کہ قرآن کے ہر اُس انسان پر 5حقوق ہیں، جو اِسے کتابِ ہدایت سمجھتا ہے۔

(1) ایمان لانا:قرآنِ پاک کا پہلا حق اِس پر ایمان لانا ہے۔ ایمان کسی چیز کو جاننے، ماننے اور اُس پر اقرار کرکے عمل کرنے کا نام ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور حضور نبی کریمﷺکے ذریعے قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیاگیا ہے۔

(2)تلاوت کرنا:لفظ تلاوت کا مادّہ ت۔ ل۔ و ہے، جس کے لغوی معنی’’ پیچھے پیچھے چلنے‘‘ کے ہیں۔ یعنی زبان جن الفاظ کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے، انسان کا دِل و دماغ، جسم کا رُواں رُواں اُس کے پیچھے پیچھے چلے، تو تلاوت کا حق ادا ہوتا ہے۔ آج بھی جب کوئی درست مخارج کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا ہے، تو رُوح وجد میں آجاتی ہے۔

(3) تدبّر کرنا:سورۂ محمدؐ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دِلوں پر تالے پڑے ہیں۔‘‘درحقیقت، قرآنِ کریم ہمیں کائنات اور اپنی ذات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ چوں کہ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور عربی ہماری اپنی زبان نہیں ہے، لہٰذا اِس کے مطالب سمجھنے اور اِس پر تدبّر کرنے کے لیے ہمیں کم ازکم قرآنی عربی تو آنی چاہیے، جو سیکھنے میں بہت آسان ہے۔

(4)عمل کرنا :اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح کی بھی شرط لگائی ہے۔ جب تک ہم قرآنِ پاک پر ایمان کا عملی ثبوت فراہم نہیں کریں گے، ایمان مکمل نہ ہوگا۔

(5) اشاعت : قرآنِ کریم کا آخری حق یہ ہے کہ اسے دوسرے لوگوں تک پہنچایا جائے اور اتنے لوگوں تک تو ضرور ہی اس کا ابلاغ ہوجائے کہ یہ دنیا کا غالب نظام بن جائے۔

حضور نبی کریم ﷺنے اُمّت کے نام اپنی آخری وصیّت میں فرمایا تھا کہ’’ مَیں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اُنھیں تھامے رہو گے، تو کبھی گم راہ نہ ہوگے۔ایک کتاب اللہ اور دوسری میری سنّت۔‘‘ علماء فرماتے ہیں کہ’’ یہ کتاب اللہ کی رسّی ہے، جس کا ایک سِرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا بندے کے ہاتھ میں، جب تک ہم اسے تھامیں رہیں گے، کبھی بھی نہیں بھٹکیں گے۔ ‘‘علّامہ محمّد اقبال ؒ نے اسی بات کو یوں بیان کیا ہے؎’’تومی دانی کہ آئین تو چیست…زیر گردوں سر تمکین توچیست…آن کتاب زندہ قرآن حکیم…حکمت اُو لایزال است و قدیم ۔‘‘یعنی’’تجھے علم بھی ہے کہ تیرا دستور کیا ہے؟اور آسمان کے نیچے تجھے مقام کیا چیز بخشے گی؟ یہ زندہ وجود قرآنِ حکیم ہے، جس کی حکمت نہ ختم ہونے والی اور قدیم ترین ہے۔‘‘

 حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے قرآنِ کریم کے بارے میں خطبہ ارشاد فرمایا کہ’’ خبر دار! ایک بڑا فتنہ سَر اُٹھانے والا ہے۔‘‘ حضرت علی ؓ نے پوچھا’’ یارسول اللہ ﷺ! اُس سے کیا چیز نجات دلائے گی؟‘‘ اللہ کے رسولﷺنے جواب دیا’’ اللہ تعالیٰ کی کتاب۔ اس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے حالات ہیں۔ تم سے بعد میں ہونے والی باتوں کی خبر ہے اور تمہارے آپس میں معاملات کا فیصلہ ہے۔ یہ ایک دو ٹوک بات ہے۔ کوئی ہنسی دِل لگی کی بات نہیں، جو سرکش اسے چھوڑ دے گا، اللہ اُس کی کمر کی ہڈی توڑ ڈالے گا اور جو کوئی اسے چھوڑ کر کسی اور بات کو اپنی ہدایت کا ذریعہ بنائے گا، اللہ اسے گم راہ کردے گا۔‘‘ 

بلاشبہ اللہ کی مضبوط رسّی یہی ہے۔ یہی حکمتوں سے بَھری یاد دہانی ہے۔ یہی بالکل سیدھی راہ ہے، اِس کے ہوتے ہوئے خواہشات گم راہ نہیں کرتیں اور نہ زبانیں لڑکھڑاتی ہیں۔ اہلِ علم کا دل اِس سے نہیں بھرتا۔ اِسے کتنا ہی پڑھو، طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ اِس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ جس نے اِس کی سند پر سچ کہا، جس نے ان پر عمل کیا، وہ اجر پائے گا۔ جس نے اِس کی بنیاد پر فیصلہ کیا، اُس نے انصاف کیا۔ جس نے اِس کی طرف بلایا، اُس نے سیدھی راہ کی طرف بلایا۔ یہ قرآنِ حکیم ایک زندہ وجود اور ازلی ابدی حقیقت ہے۔ کوئی کتاب اِس کی طرح نہیں ہوسکتی۔ اِس کی آیات میں سیکڑوں نئے جہان آباد ہیں اور اِس کے ایک ایک لمحے میں کئی صدیاں پوشیدہ ہیں۔ اِس قرآن نے قرونِ اولیٰ کے اُن سادہ، بے وسیلہ لوگوں کو دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ اِس لیے کہ اُنہوں نے اِس کی آیات کو صرف ثواب سمجھ کر ایک طرف نہیں رکھ دیا تھا، بلکہ اِس کا عملی نمونہ بن گئے تھے۔

رمضان کے مبارک مہینے میں لاکھوں حفّاظ اُمّت کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دِلاتے ہیں۔ مساجد، گھروں، منّبرومحراب اور میڈیا پر اِس کے سبق دُہرائے جاتے ہیں، لیکن سوچنے کا مقام ہے کہ پھر بھی رُوح کے تار نہیں بجتے، آنکھیں خشک رہتی ہیں، دِل و دماغ ویسے خالی کے خالی اور عمل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، آخر ایسا کیوں ہو رہاہے؟ کورونا وائرس کے نتیجے میں اللہ کی ناراضی کا خوف اور بھی زیادہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس دفعہ کے رمضان المبارک میں اللہ نے اپنے گھر کے دروازے بھی بند کردیے۔ بدنصیبی سی بدنصیبی ہے ۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ نعمتیں ایسے ہی ہمارے پاس رہیں گی۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی تھا کہ حرمِ پاک اور مساجد ہم پر یوں بند کردی جائیں گی؟ قرآنِ کریم کا دورہ، اجتماعی تراویح کا انعقاد شک میں پڑ جائے گا؟ آئیے! ہم سب اللہ کے سامنے فریاد کریں، انفرادی اور اجتماعی استغفار کریں کہ قرآن آج بھی وہی قرآن ہے۔ 

یہ ہمارا ماضی کا ہی نہیں، لمحۂ موجود کا بھی رہنما ہے۔ قرآن کے راستے پر چل کر جنّت اور اپنے ربّ کی رضا کی منزل تک پہنچنا ہے۔ پھر سے قرآن کو اِس طرح سے پڑھیں، جیسے اِس کے اولین مخاطبین نے اِسے پڑھا تھا۔ یہ اِس دجل کے دَور میں ہماری آخری پناہ گاہ ہے۔ یہ اُمّت کے کم زور ہوتے وجود کا آخری سہارا ہے۔ طاقت ہے، عزت ہے۔ روشنی ہے، شفاء ہے۔ یہ قرآنِ کریم مسلمانوں کی بیداریٔ کا سرچشمہ ہے۔ یہ قرآنِ کریم انسان کے دماغ سے زیادہ اُس کے دل کو مخاطب کرتا ہے۔ قلب، انقلاب کا سرچشمہ ہے، لہٰذا اِس رمضان میں اپنے قلب کو اللہ کے ذکر سے دھو ڈالیں اور قرآن سے دِلوں کے زنگ دُور کرڈالیں تاکہ اللہ پھر سے اپنی رحمت برسا دے۔اپنے گھر اور ساری مساجد کے دروازے کھول دے۔

تازہ ترین