آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جاوید علی

نوجوانوں کے لیے من پسندروزگار کا حصول ہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے،لیکن موجودہ صورتحال میں من پسند تو کجا روزگار ہی مل جائے تو بڑی بات ہے۔ نوجوان خواہ تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ، انہیں روزگا رکے لئے مشکلات کا سامنا ہے ، پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے نئی صنعتوں کا قیام عمل میں نہیں آیا دوسری طرف سیاسی حکومتوں نے پہلے سے تباہ حال سرکاری اداروں میں اپنے چند ہزار کارکنوں کو کھپانے کی کوششیں تو کیں لیکن ہوتا یہی آیا ہے کہ نئی آنے والی حکومت ،گزشتہ حکومت کے فیصلوں کو واپس لے لیتی ہے جس کی وجہ سے پالیسیوں میں تسلسل کا عمل رک جاتا ہے اور بر سر روزگارا فراد پھر سے بے روزگاری کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 5.79 فی صدہے۔ ہر10میں سے ایک نوجوان بے روزگاری کا شکا رہے۔ 

پاکستان خطے میں بیروزگاری کی شرح کے حوالہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیروزگاری کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی منصوبوں سے جو ملک کو ترقی اور فائدہ ہونا چاہیے تھا وہ سب بیکار اور ضائع ہو رہا ہیں۔پاکستان میں بے روزگاری کی ایک اہم وجہ نظام تعلیم بھی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے،ساتھ ہی کالجوں اور اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے ،تعلیمی ادارے پڑھے لکھے نوجوان معاشرے کو دے رہےہیں، لیکن ملازمت حاصل کرنے میں چند نوجوان ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔بیشتر نوجوان نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں ہر سال کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے یہ مسئلہ روز بروز بڑھتاجا رہا ہے۔

دیہی علاقوں کی حالت تو بہت ہی تشویش ناک ہے۔ ان علاقوں میں بسنے والے نوجوانوں کی اکثریت نسبتاً کمزور معاشی پس منظر کی حامل ہوتی ہے۔ یہ نوجوان بھاری خرچ اٹھا کر شہروں میں تعلیم کے حصول کے لیے آتے ہیںلیکن ڈگری کی تکمیل کے بعد انہیں بہتر مستقبل کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی،جبکہ شہری علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں اس وقت جو نوجوان زیر تعلیم ہیں جب وہ عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور ذریعہ معاش کی تلاش میں خاک چھانتے ہیں ، ناکامی کے بعدمعاشرے میں انتشار کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ 

اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت وائٹ کالر جاب ہی چاہتی ہے۔تاہم اوسط تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے کوئی بھی ملازمت مل جائے وہ اسے غنیمت جانتے ہیں۔ میٹرک پاس نوجوان یا توکوئی بھی ہنر سیکھ کر اپنے معاش کا انتظام کرلیتے ہیں ۔ ایک وہ نوجوان ہے جو کسی وجہ سے تعلیم کی دولت سے مالا مال نہیں ہیںوہ ان پڑھ کی صف میں شامل ہیں،وہ کوئی بھی کام یا نوکری کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، روزگار کی بڑی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ نجی شعبہ بھی ہےمگر اب اس کے پاس نوجوانوں کو روزگار دینے کا وسیلہ نہیں، وہ کم افرادی قوت کے ساتھ اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔

’’نو ویکینسی‘‘کی وجہ سے نوجوانوں کی مایوسی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے ، جرائم میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کا ملوث ہونا اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ ان کے پاس کمانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے وہ کم وقت اور مدت میں امیر بننے کا شارٹ کٹ راستہ تلاش کرچکے ہیں، ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا ایک سبب بے روزگاری کی عفریت بھی ہے، بڑھتی ہوئی آبادی بھی روزگار کی محدود فراہمی میں بڑی رکاوٹ شمار کی جاتی ہے۔ملک کے وسائل محدود ہیں اس لئے آبادی کے ہر فرد تک بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔

روزگار کی عدم فراہمی کی ایک اور وجہ تعلیمی ادارے بھی ہیں ،جو نوجوانوں کی کیرئیر کونسلنگ نہیں کرتے، جدید مشینوں اور سافٹ وئیرز کا استعمال بھی انسانی افرادی قوت پر انحصار کم کررہا ہے، ایک آدمی سے تین تین آدمیوں کا کام لیا جاتا ہے اور کم تنخواہ میں بھرتی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اگر نوکری دی جاتی ہے تو سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں ۔کیرئیر کے انتخاب میں بھی ہمارا نوجوان غلط سوچ اور سمت اختیار کرتا ہے اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ہو تو پھر وہ اپنی محدود سوچ کے ساتھ کسی ایک شعبے کا انتخاب کرلیتا ہے جو بعد میں ثابت کرتا ہے کہ اس نے غلط فیصلہ کیا۔

ہمارے تباہ ہوتے سرکاری ادارے اس قابل نہیں کہ وہ روزگار فراہم کرسکیں ان کے لئے تو موجودہ افرادی قوت کے لئے تنخواہ کا انتظام کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے، ان حالات میں نوجوان کسی دوسرے ملک میں جا کر اپنے روزگار کا بندوبست کرنے کا سوچتے ہیں، تو معاشی مسائل اور دوسری سفری رکاوٹیںآڑے آتی ہیں، پھر بیرون ملک میں اچھا روزگار ملنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جیب میں پیسہ ہو تووہاں جانے کا ارادہ کیا جاسکتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی غیر ملکیوں کوروزگار فراہم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

معیشت بہتر ہو تو روزگار کی فراہمی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ہمارا نوجوان مشکلات سے دوچار ہے، وہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگاروں کی صف میں کھڑا ہے اس کا مستقبل سنوارنے کے لئے کوئی آگے بڑھ کر اس کی مدد کو تیار نہیں، اس کے خواب ادھورے ہیں، وہ اپنی صلاحیتیں ضائع کررہا ہے، خدشہ ہے اگر ہمارا نوجوان یونہی مایوس رہا اور اس کے دکھ کا مداوا نہ کیا گیا تو پھر کوئی اسے مذموم اور غلط مقاصد کے لئے استعمال نہ کرلے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ہم ایک دوسرے کو معاف نہ کرسکیں گے۔