آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تصور نہیں کیا تھا، زندگی میں کوئی ایسی عید بھی آئے گی

کورونا نامی ایک چھوٹے سے وائرس نے لگ بھگ ہر مُلک کے معمولاتِ زندگی تتّر بتّر کرکے رکھ دئیے ہیں۔ رواں برس اُمّتِ مسلمہ نے جہاں رمضان المبارک انتہائی افسردگی کے عالم میں گزارا کہ مساجد میں باجماعت نمازوں، اجتماعی افطاری اور تراویح کی رونقیں نہ ہونے کے برابر تھیں، تو وہیں عید الفطر کا تہوار بھی شایانِ شان طریقے سے منانے کی تیاریاں ماندرہیں۔ مُلکی تاریخ کی یہ پہلی ’’لاک ڈاؤن عید‘‘ شوبز انڈسٹری کے فن کار کیسے منارہے ہیں ، یہ جاننے کے لیےہم نے ایک ٹیلی فونک سروے کا اہتمام کیا، جواباًجواظہارِ خیال کیا گیا، نذرِ قارئین ہے۔

سہیل اصغر:لیجنڈ ،وَر سٹائل اداکار سہیل اصغر نے بتایاکہ مَیں عید پر نئے کپڑے نہیں خریدتا،البتہ بچّے ضرور شاپنگ کرتے ہیں، لیکن اس بار عید پر ایک اُداسی سی ہے۔ یہ زندگی کا کوئی نیا ہی رنگ ہے۔کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا کہ زندگی میں کوئی عید ایسی بھی آئے گی۔ بہرحال، انسان کو ہر حال میں مالکِ کون و مکاں کا شُکرادا کرناچاہیے اور اگر اللہ نے ہمیں نوازا ہے، تو مستحقین کی بھی ضرورمدد کرنی چاہیے ،کیوں کہ ہمارے رزق میں اُن کا بھی حصّہ شامل ہوتا ہے،جو نہ دیں، تو رزق میں کمی ہوجاتی ہے۔مَیں بحریہ ٹاؤن میں رہایش پذیر ہوں، جہاں ہم نے مختلف گروپس بنائےرکھےہیں اور بہت منظّم طریقے سے مستحقین کی مدد کررہے ہیں۔ پرستاروںکے لیے بھی میرا یہی پیغام ہے کہ زندگی کا جویہ ایک نیا انداز سامنے آیا ہے، اس کے پروٹوکول کا پورا پورا خیال رکھیں۔

حنا خواجہ بیات:معروف اداکارہ، سماجی کارکن حنا خواجہ بیات نے کہا کہ مَیں اور اہلِ خانہ بہت سادگی سے عید منا رہے ہیں اور میری سب سے یہی درخواست ہے کہ عید کے اصل مفہوم اور روح کو سمجھیں اور بحیثیت مسلمان اپنا کردار ادا کریں۔ جو کچھ بھی میسّر ہے، اُس پر اللہ کا شُکر ادا کریں۔ مجھے یاد ہے، جب مَیں چھوٹی تھی،تو سیلاب آیا تھا،جس نے کئی علاقے اجاڑ دئیے تھے، تو ہر شخص بےگھر لوگوں کی مدد کررہا تھا۔ امّی نے ہمیں لوگوں کے حالات بتاکر پوچھا کہ نئے کپڑے بنوانے ہیں یا مستحقین کی مدد کرنی ہے؟تو ہم نے یک زبان نئے کپڑے بنوانے سے صاف انکار کردیا اور اپنی عیدی بھی سیلاب فند میںدے دی۔ آج کی ماؤں کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ اپنے بچّوں کو آن لائن شاپنگ کی ترغیب دینے کی بجائے، سفید پوش افراد کی مدد کی جانب راغب کریں، تاکہ ان میں انسانیت کا جذبہ پیدا ہو۔ اور اگر آپ کے معاشی حالات کسی کی مدد کی اجازت نہیں دیتے، تو جو ہے، وہ بانٹ لیں، چاہیں وہ نرم الفاظ ہوں یا میٹھی مُسکراہٹ۔

سمیع خان:شوبز انڈسٹری کے جانے مانے فن کار ،سمیع خان کا کہنا ہےکہ اس وقت جو حالات ہیں، اُن کا تقاضا یہی ہے کہ عید بالکل سادگی سے منائی جائے اور ضرورت مندوں کی اس طور مدد کی جائے کہ ان کی عزّتِ نفس مجروح نہ ہو، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اپنی کی گئی نیکیوں کی تصاویر ہرگز شئیر نہ کریں۔ ہمارے آس پاس 10،12 ضرورت مند افراد تو لازماً ہوتے ہیں، تو دُور دُور سے لوگ تلاش کرنے کی بجائے ،آس پاس رہنے والوں کی مدد اس طرح کریں کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔ تو اللہ کے حکم سے اپنے طور پر مَیں یہی کررہا ہوں،آپ بھی ایسا ہی کریں کہ اگر ان حالات سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا، توخدانخواستہ ان سے بھی بُرے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑجائے۔

شمعون علی عباسی:فلم، ٹی وی انڈسٹری کے سینئر اداکار اور ہدایت کار شمعون علی عباسی کا کہنا ہے کہ جب آدھی سے زیادہ آبادی معاشی پریشانی کا شکار ہے ،تو عید کی تیاریاں کیسے کی جاتیں؟ لہٰذا مَیں بھی اپنی استطاعت کے مطابق نادار افراد کا خیال رکھنے کے ساتھ بہت سادگی سے عید منا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک موقع دیا ہے کہ ہم اس کی مخلوق کی خدمت کریں اور ’’ہلیپنگ ہینڈ‘‘ بنیں، تو اس موقعے کو گنوانا نہیں چاہیے۔

فضیلہ قیصر:ٹی وی انڈسٹری کی سدا بہار اداکارہ فضیلہ قیصر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم عیدالفطر کے موقعے پرسادگی اختیار کریں، بہت زیادہ نمود ونمایش سے اجتناب برتیں۔ہمارے پیارے نبیﷺ نے عیدین کے موقعے پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی ہدایت دیتے ہوئے دوسروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی، تو ہم سب کو اس سال ہی نہیں،بلکہ ہرسال اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ہی عید منانی چاہیے۔ خاص طور پر اس عید پہ اپنے سفید پوش رشتے داروں، آس پڑوس کا لازماً خیال رکھیں۔ محض دُنیا دکھاوے کے لیے نہیں،اللہ کی خوشنودی کے لیے خاموشی سے نادار افراد کی مدد کریں اور یہ بات اپنے بچّوں کو بھی سمجھائیں۔

سونیا حسین:معروف اداکارہ سونیا حسین کا کہنا ہے کہ مَیں تو ہر سال ہی’’شیئر اسمائل‘‘نامی مُہم میں غریب، نادار افراد کی مدد کرتی ہوں، تو اس سال اس کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔میرے نزدیک ایسی عید، عید کہلانے کے قابل ہی نہیں، جس میں مستحق افراد شامل نہ ہوں۔ماہِ صیام میں ’’شئیر اسمائل‘‘ کی جانب سے راشن تقسیم کیا تھا اور عید کے موقعے پر کپڑے، چوڑیاں اور دیگر سامان تقسیم کیا۔ ہم بہت منظّم ہوکر سفید پوش افراد کی مدد کرتےہیں، اس کے لیے مساجد میں بکس رکھ دیا ہے، جو ضرورت مند اس بکس میں اپنی این آئی سی کی کاپی ڈال دے،ہماری ٹیم خاموشی سے اُس کی مدد کردیتی ہے۔ البتہ عید ہمارا دینی اسلامی تہوار ہے، لہٰذا ضرور منائیں۔ صاف ستھرا لباس پہنیں، نماز پڑھیں اور اپنے پیاروں سے رابطے میں رہیں۔

فرحان علی آغا:نجھے ہوئے اداکار فرحان علی آغا نے کہا کہ مَیں حالات کی مناسبت سےانتہائی سادگی سے عید منا رہا ہوں۔ اگر اللہ نے آپ کو توفیق عطا کی ہے، تب بھی سادگی ہی سے عید منائی جائے کہ مُلک کے زیادہ تر لوگ اس وقت سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جو پالیسی مرتّب کی، اس کےنتیجے میں اس وبا نے یہاں زیادہ تباہی نہیں مچائی،لہٰذا حکومتی ہدایات پر عمل ہی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ ایک وقت تھا، جب لوگ بھاگ بھاگ کر بیرونِ مُلک جاتے تھے، مگر اب اپنے مُلک آنے کے لیے ترس رہے ہیں، تو خدار!ا اپنے مُلک کی قدر بھی کریں۔

زاہد احمد:معروف اداکارزاہد احمد کہتے ہیں،مَیں اپنی فیملی کے ساتھ بہت سادگی سے عید منارہا ہوں کہ کئی گھرانے ایسے ہیں، جن کے بچّوں کی آنکھوں سے حسرتیں،محرومیاں چھلکتی دکھائی دیتی ہیں۔بہتر تو یہی ہے کہ جس قدر ہوسکے ،ان نادار افراد میں خوشیاں بانٹیں۔ویسےاس موقعے پر ہمیں اپنا محاسبہ بھی ضرور کرنا چاہیےکہ ہم سے ایسی کیا کوتاہی ہوئی ہے کہ ہمیں یہ وقت دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

نازلی نصر:ڈراما’’دھواں‘‘سے مُلک گیر شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نازلی نصر کا کہنا ہے کہ دینِ اسلام میں صفائی نصف ایمان ہےاور اب یہ وبا پھیلنے کے سبب ہم اس نصف ایمان پر زیادہ توجّہ دے رہے ہیں،جو اچھی بات ہے۔لاک ڈاؤن کے باعث ہم سب اپنے اپنے گھروں میں ہیں،لیکن بے زاری نہیں ہورہی ۔شایداس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مثبت سوچ کے ساتھ اس وبا کا سامنا کررہے ہیں۔اب یہی دیکھ لیں کہ ہم جس شعبے سے وابستہ ہیں، اُس میں کام کریں گے، تو ہی معاوضہ ملے گا اور مَیں پورے دو ماہ سے گھرمیں ہوں،اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گھر کا دستر خوان مختلف نعمتوں سے بَھرا ہے۔ مَیں تو یہی سمجھتی ہوں کہ یہ اللہ کا عذاب نہیں، آزمایش ہے،جس سے ہم سب کو بخوشی گزرنا ہے۔ مَیں پہلے بھی نماز کی پابند تھی، ظہر یا عصر میں قرآنِ پاک کی تلاوت اور سونے سے قبل شُکرانے کے نفل بھی پڑھتی تھی، اب زیادہ خشوع و خضوع سے دُعائیں مانگ رہی ہوں۔ گرچہ عید پر نئے کپڑوں، جوتوں اورچوڑیوں وغیرہ کا تو اب شوق نہیں رہا، البتہ گزری عیدوں کی رونقیں ضرور یاد آرہی ہیں۔

ژالے سرحدی:منجھی ہوئی اداکارہ ژالے سرحدی نے بتایا کہ مَیں نے عید کی کوئی تیاری نہیں کی ،بلکہ عید کی شاپنگ کے لیے جو بجٹ تھا، وہ ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اس وقت دُنیا بَھر میں لوگ پریشان ہیں، تو ایسے میں بھلا عید کی خوشیاں کیسے منائی جاسکتی ہیں۔ ہم سب سخت آزمایش سے گزر رہے ہیں،تو ہم سب نے مل جُل کر ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ یہاں تک کہ معمول کی زندگی بحال ہونے پر بھی احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کی جائیں کہ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

عفّان وحید:ہر دِل عزیز اداکار عفّان وحید کا کہنا ہے کہ مُلک کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیشِ نظر بَھر پور طریقے سے عید منانا سنگ دِلی ہوگی۔ 

ایسی بات نہیں کہ مَیں عید کی خوشیاں منانا نہیں چاہتا، بس اُن کا خیال آجاتا ہے، جن کے گھروں کے چولھے عید کے روز بھی ٹھنڈے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ یہ کڑا وقت خیریت سے گزر جائے۔

جنید خان:معروف اداکار،گلوکار جنید خان کہتے ہیں کہ عام حالات میں بھی مَردوں کی عید پر کوئی خاص تیاری نہیں ہوتی اور اب تو حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ مَیں سادگی ہی سے عید منا رہا ہوں۔عموماًعید کا اہتمام لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ہی کرتے ہیں، مگر اس بار تو عید کی رونقیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں ہمارا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اگر اللہ نے ہمیں نوازا ہے، تو شُکرانے کے طور پر کسی کے گھر کا چولھا ٹھنڈا نہ ہونے دیں ۔ میری تو کوشش ہے کہ مَیں زیادہ سے زیادہ مستحقین کی مدد کروں۔

صائمہ قریشی:سنیئر اداکارہ صائمہ قریشی نے انتہائی افسردگی سے کہا کہ اس وبا سے بچاؤ کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار نے جہاں لوگوں کو گھروں تک محصور کیا، وہیں معاشی سرگرمیاں رُک جانے سےروز کمانے والے، دیہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ پریشان ہیں ۔توایک ایسے وقت میں جب پورا مُلک معاشی مشکلات کا شکار ہے، عید بَھرپور طریقے سے منانا کسی طور مناسب نہیں۔ 

ہمیں چاہیے کہ اپنےآس پاس نظر دوڑائیں کہ کتنے لوگ اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہیں کہ ایسے افراد کے ہوتے ہم خواہ کتنے ہی اچھے کپڑے پہن لیں،لذیذ پکوان بنالیں اور عیدیاں بانٹتے پِھریں، ہمیں عید کی دِلی خوشی محسوس نہیں ہوگی۔

مدیحہ رضوی:سنجیدہ ٹی وی فن کارہ مدیحہ رضوی کا خیال ہے کہ اصولاً تو ہمیں یہ عید منانی ہی نہیں چاہیے کہ کورونا وائرس کے سبب آبادی کی ایک کثیر تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے،کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہے کہ اُن کے پیارے جب سفرِ آخرت پر رخصت ہورہے تھے، تو وہ انہیں کندھا تک نہیں دے سکے۔ بہرحال، مَیں سب سے یہی کہوں گی کہ عید پر اپنے اور اہلِ خانہ کےلیے بہت زیادہ اہتمام کی بجائے سادگی اختیار کریں اور جتنا ہوسکے ضرورت مند نادار افرادکی مدد کریں۔ اور اپنے بچّوں میں خاص طور پر جذبۂ انسانیت بیدار کرنے کی کوشش کریں۔

علی سفینہ: اداکار علی سفینہ نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کے ہاتھوں کئی قیمتی جانیں ضایع ہو رہی ہیں، بھلا کوئی کیسے عید کی بَھرپور تیاریاں کرسکتا ہے۔سو،مَیں نے بھی عید کی کوئی تیاری نہیں کی۔عید تو تب ہی ہوگی ناں، جب غریب کے پیٹ میں کھانا جائے گا۔اس وقت لوگ معاشی طور پر بہت پریشان ہیں،کئی آرٹسٹ تنگ دستی کا شکار ہیں،تو ہم سب کو متحد ہو کر ان سب کے لیے سوچنا ہی نہیں،کچھ کرنا بھی ہے۔ایک بہت مشہور کہاوت ہے،’’ نیکی کر، دریا میں ڈال‘‘، تو مجھ سے جس قدر ہورہا ہے، اپنی نیکیاں دریا میں ڈال رہا ہوں۔اپنے پرستاروں کوبھی یہی پیغام دینا چاہوں گا کہ اس کڑےوقت میں اللہ کی ذات سے پُر اُمید رہیں اور اپنی ذہنی صحت متاثر نہ کریں۔

شہریار منوّر صدیقی:فلم، ٹی وی کے اداکار، پروڈیوسر شہریار منوّر صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کا تو وبا پھوٹنے سے پہلے ہی بُراحال تھا، اب صُورتِ حال مزید بگڑ گئی ہے،تو ایسے میں اگر ہم سب سادگی سے عید منالیں، تو کوئی حرج نہیں۔ عید کا موقع ہے، خوش رہیں،مگر نادار افراد کو بھی ضرور یاد رکھیں۔اللہ نے ہمیںنوازاہے،تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ مستحقین کی مدد کریں،مگر نمود و نمایش نہ کریں ۔

حماد فاروقی:ابھرتے ہوئے فن کار حماد فاروقی نے طبّی عملے کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس ہمّت اور لگن سے طبّی عملہ مریضوںکا علاج معالجہ کررہا ہے، وہ قابلِ ستایش ہے۔ رہی بات عید کی تو مَیں اور میری فیملی بہت سادگی سے عید منارہے ہیں، وجہ یہ نہیں کہ ہم شاپنگ نہیں کرسکتے تھے،بلکہ جو لوگ معاشی تنگ دستی کا شکار ہیں، ان کی تکالیف دیکھ کر دِل شاپنگ کی طرف مائل ہی نہیں ہوا۔ہمیشہ عید الفطر پر گھر گھررونقیں اورخوشیاں ہوتی تھیں،مگر اب کہیں رزق کی تنگی ہے، تو کہیں بےروزگاری کا غم کلیجہ چھلنی کررہا ہے۔تو ایسے میں اپنے گھر میں چراغ روشن کرنا سنگ دِلی ہی ہے۔کئی فن کاربھی اپنی سفید پوشی کا بَھرم رکھنے کے لیے کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرسکتے،تو ہمیں اُن کی اورایسے دیگر خاندانوں کی خبر رکھنی چاہیے اور ایسے طریقے سے ان کی مدد کرنی چاہیے کہ ان کی انا اور خودداری کو ٹھیس نہ پہنچے۔

فاطمہ آفندی:باصلاحیت اداکارہ فاطمہ آفندی نے کہا کہ ہم ہر سال کی طرح ہی عید منارہے ہیں،البتہ مَیں نے اس بار کوئی خاص تیاری نہیں کی کہ ہم سیلبریٹیز کے لیے تو عموماً مختلف برانڈز ہی اپنی تشہیر کے لیے ملبوسات وغیرہ بھجوا دیتے ہیں، تو ہم عموماً وہی استعمال کرتے ہیں۔ عید الفطر ہمارا دینی تہوار ہے،جس کی خوشیاں منانی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ہماری یہ بھی ذمّے داری ہے کہ اس خوشی کے موقعے پر مستحقین کو نہ بھولیں اور حسبِ توفیق انہیں بھی اپنی خوشیوں میں ضرور شریک کریں۔