سوڈان کی ایک عدالت نے دہشت گردی کے الزام میں 22 شہریوں کو سزائے موت سنادی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری وکلاء کے سربراہ نے بتایا کہ 'خرطوم کی شمالی عدالت کے جج نے جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے 22 شہریوں کو سزائے موت سنادی ہے، تمام مبینہ ملزمان کا تعلق دارفور کے علاقے میں بخت عبدالکریم داباجو کی برابری کی تحریک سے بتایا گیا ہے، جس نے اپریل 2013 میں سوڈانی حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے بعد سرکاری فوج نے اس تحریک کے کارکنوں کو غیر مسلح کرتے ہوئے ان کے کیمپوں کو ختم کردیا تھا جبکہ اس دوران ہی گزشتہ فروری میں سوڈانی انسپکٹرز نے مذکورہ شہریوں کو گرفتارکیا تھا۔ان افراد پر ریاست کے خلاف جنگ ، قانون شکنی اور دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ملزمان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ ان کی جانب سے اپیل دائر کیے جانے سے ایک ہفتے قبل ہی ان کے موکلوں پر دہشت گردی کے الزامات کو مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
خیال رہے کہ مذکورہ سزائے موت کو خرطوم اور جنوبی سوڈان کے علاقے دارفور کے درمیان موجود خراب تعلقات کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔