آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

10ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ڈیٹا منتقل کرنے والا پروٹوٹائپ تیار

سائنس دانوں نے ایک نظام تیار کیا ہے ،جس کےذریعے ایک سیکنڈ میں 10 ٹیرا بٹس کاڈیٹا ایک سے دوسری جگہ بھیجا جاسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس نظام کی تیاری میں ڈیٹا ٹرانسفر کی فریکوئنسی کو تبدیل کیا گیا ہے ۔فریکوئنسی بڑھانے کی وجہ سے عین اسی جگہ پر ڈیٹا کی گنجائش کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ڈیٹا کی منتقلی پر اثر پڑتا ہے اور اس کی غیرمعمولی مقدار ایک جگہ سے دوسرے جگہ پر آسانی سے بھیجی جاسکتی ہے ۔اس سے پہلے بھی ماہرین اس بات کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں کہ بلند فریکوئنسی کے اسٹرکچرکو بڑھا کر ڈیٹا کی بڑی مقدارکو سنبھالا یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ 

لیکن اب رہوڈ آئی لینڈ کی براؤن یونیورسٹی کے ماہرِ طبیعیات ڈینیئل مٹل مین نے اس مسئلے کو کم ازکم نظری حد تک ضرور حل کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ڈیٹا کی بڑی مقدار میں منتقلی عین ممکن ہے۔ لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔اس کے لیے عین وہی اصول استعمال کئے گئے ہیں جن کے تحت ہم ڈی ایس ایل سروسز حاصل کرتے ہیں۔ یعنی عام فون لائن پر براڈ بینڈ رابطے کے ذریعے چند میگاہرٹز کی فریکوئنسی کو بڑھا کر 200 گیگا ہرٹز تک لے جانا ممکن ہوسکے گا۔اس کے لیے ماہرین نے ایک پروٹوٹائپ بھی تیار کیا ہے۔

اس نظام کے ذریعے تاروں کو باندھ کر حساب کتاب لگایا گیا تو تین میٹر کی دوری پر10ٹیرابٹس کاڈیٹا پہنچ رہا تھا جب کہ 15 میٹر کی دور ی پر 30 گیگا بٹس کا ڈیٹا پہنچنا چاہیے تھا ۔ماہرین نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تار کی لمبائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا ضائع ہونے کی شرح بڑھ رہی تھی ۔ اسی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی اب تک کم فاصلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکتی ہے یعنی کسی عمارت اور ڈیٹا سینٹر میں اندرونی رابطوں کو تیز کرسکتی ہے۔لیکن ڈیٹا کو مزید دور تک بھیجنے کے لیے تحقیق اور ہارڈویئر پر کام کی مزید ضرورت ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید