آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہسپتالوں میں میتیں حوالے نہ کئے جانے کی شکایات، لواحقین کے جھگڑے

راولپنڈی (ناصر چشتی، خصوصی نمائندہ) راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے جاں بحق ہونے کے بعد لواحقین اور ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ جھگڑے اور توڑ پھوڑ کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ وفات پانے والے اکثر افراد کے لواحقین کا موقف ہے کہ ہمارے عزیز کا کورونا ٹیسٹ منفی ہونے کے باوجود میت عزیز و قارب کے حوالے نہیں کی جاتی۔ گزشتہ روز ہولی فیملی اور بے نظیر ہسپتال میں بھی ایسے دو واقعات ہوئے۔ لواحقین کا موقف ہے کہ کورونا ٹیسٹ 72گھنٹہ کے بعد ملتا ہے اس دوران اگر مریض جاں بحق ہو جائے تو اس کو کورونا کا مریض کہہ کر میت لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتی۔ اکثر مریضوں کے لواحقین کا موقف ہے کہ جب مریض کو کسی اور بیماری میں لے کر جاتے ہیں تو مریض کو کورونا وارڈ میں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ ہولی فیملی میں گزشتہ روز ایک شخص کورونا سے وفات پا گیا مگر اس کے لواحقین کا موقف تھا کہ اس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے میت ہمیں دی جائے۔ ایم ایس ہولی فیملی ڈاکٹر شہزاد نے جنگ کو بتایا کہ مریض کا 20مئی کو ٹیسٹ منفی آیا اس کے حالت سیریس تھی اس لئے ہسپتال میں رکھا گیا27 مئی کو اس کا ٹیسٹ مثبت آگیا اور دو دن بعد وہ انتقال کر گیا ہم کیسے پروٹوکول پورا کئے بغیر میت لواحقین کے حوالے کر دیں، اس طرح کے منفی پراپیگنڈے سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کے حوصلے پست کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز بے نظیر ہسپتال میں بھی مانسہرہ سے تعلق رکھنے والا شخص کورونا سے جاں بحق ہو گیا اس کو ہسپتال جب لایا گیا تو اس کی حالت سیریس تھی مگر ان کے لواحقین نے پھوڑ کی اور ڈاکٹروں اور نرسز کو ہراساں کیا جس پر ایف آئی آر بھی درج کرا دی گئی۔ لواحقین کا موقف ہے کہ مثبت رپورٹ کے آنے تک میت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے کیونکہ اکثر مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ منفی آجاتی ہے مگر وہ رپورٹ آنے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں وائس چانسلر سےکوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔
اسلام آباد سے مزید