آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اکبر ایس بابر کو دھمکیاں مل رہی ہیں: وکیل احمد حسن

پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کو دھمکیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اکبر ایس بابر کی درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران ان کے وکیل احمد حسن نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے مؤکل کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے مؤقف اختیار کیا کہ لگتا ہے کہ کمیٹی اسکروٹنی کرنا نہیں چاہتی، بہتر ہے کہ الیکشن کمیشن ہی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کرے۔

انہوں نے کہا کہ 2 سال سے یہ پتہ نہیں چل رہا کہ ایک اکاؤنٹ میں باہر سے پیسے آئے ہیں، ہم تو کہہ رہے ہیں کہ کہاں سے پیسے آئے ذرائع بتائیں؟

اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے کہا کہ میرے مؤکل کو دھمکیاں مل رہی ہیں، انہیں بے بنیاد کیسز میں الجھایا ہوا ہے، کیس واپس لینے کے لیے اکبر ایس بابر کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مثالیں ہیں کہ جہاں عدالت کی جانب سے درخواست گزار کو تحفظ دیا گیا، اکبر ایس بابر پر بدنامی کا پرچہ کٹوا دیا، اس پر مجھے تھانے کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن میرے مؤکل کو تحفظ فراہم کرے، ایف آئی اے کو خط لکھ چکا ہوں کہ دھمکیاں آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں مسلسل چل رہی ہیں، رک نہیں رہیں، میرا مؤکل واحد شخص رہ گیا ہے جو پارٹی میں شفافیت کے لیے کام کر رہا ہے۔

احمد حسن نے کہا کہ دھمکی کی جہاں شکایت درج کرا سکتا تھا وہ کرا دی ہے، اگر کوئی مجھے کیس واپس لینے کے لیے دھمکی دے، تو میں کمیشن کے پاس ہی آؤں گا۔

یہ بھی پڑھیئے: اکبر ایس بابر کے خلاف دائر دعوے کی سماعت ملتوی

انہوں نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ میرے مؤکل کے خلاف پرچہ ہو تو اسے واپس لیں، میرے مؤکل کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے یہ استدعا بھی کی کہ 5 سال گزر گئے ہیں، کمیشن اب خود غیرملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کرے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ کمیشن کے سامنے 11 درخواستیں ہیں، بہترہے کہ ایک ایک کرکے پہلے تمام کیسز کو نمٹا دیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے اپنے مؤکل کو دھمکیوں کی بات کی ہے، ہم دیکھیں گے کہ دراخوست قابلِ سماعت ہے کہ نہیں۔

قومی خبریں سے مزید