آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بدھ کے روز لندن میں بپھرے ہوئے مجمع نے بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہزاروں افراد ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے’’میرا دم گھٹ رہا ہے، میرا دم گھٹ رہا ہے‘‘۔ یہ پچھلے ہفتے امریکہ میں مارے جانے والے اُس افریقی نسل کے امریکی کے آخری الفاظ تھے جس کی گردن کو ایک بے رحم پولیس والے نے اپنے گھٹنے سے دبا رکھا تھا اور اُس وقت تک دبائے رکھا جب تک وہ ادھ موا نہیں ہوا۔ 

اسے اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ مر گیا۔ اس کا نام جارج فلویڈ تھا۔ آج دنیا کے لاکھوں افراد کے لبوں پر جارج فلویڈ کا نام ہے۔ ہر ایک کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے ہلاک کرنے والے پولیس مین کو سزا دی جائے، اور اس کی ہلاکت کی کارروائی کے تماش بین تین پولیس والوں کو شریکِ جرم قرار دیا جائے۔ 

اس ایک واقعے پر پہلے پورے امریکہ میں زبردست احتجاج شروع ہوا جو پھیلتا گیا اور دیکھتے دیکھتے تشدد، آتش زنی اور لوٹ مار کی شکل اختیار کر گیا۔ 

اس قیامت خیز احتجاج میں شدت آتی گئی اور ایک مرحلے پر یوں لگا جیسے مظاہرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیام گاہ وائٹ ہاؤس پر چڑھائی کر دیں گے۔ اس وقت یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ صدر کو وائٹ ہاؤس کے تہ خانے میں پناہ لینا پڑی۔

مظاہرین کی شدید برہمی کا نشانہ صدر ٹرمپ یوں بھی بن رہے تھے کہ انہوں نے جذبات کی آگ ٹھنڈی کرنے کے بجائے شروع ہی سے سختی اختیار کرنے کی بات کی اور جلد ہی فوج طلب کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے لگے۔ اس پر پہلے تو عام لوگ برہم ہوئے اس کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ محکمۂ دفاع کے اربابِ اختیار نے سخت رویہ اختیار کیا اور بالآخر امریکی وزیر دفاع نے صاف صاف کہہ دیا کہ حالات ایسے نہیں کہ فوج کو بلایا جائے۔ 

دفاع سے تعلق رکھنے والے کچھ دوسرے لوگوں نے برملا کہا کہ امریکہ کوئی میدانِ جنگ نہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکی فوج کو اپنے ہی عوام کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔

مظاہرین کا رویہ غور طلب ہے۔ ان کا مقبول نعرہ ہے’ ’سیاہ فاموں کی بھی کوئی حیثیت ہے‘‘۔ امریکی معاشرے میں یہ بات منوانے کی کتنی تحریکیں چل چکی ہیں۔ بے شمار احتجاج اور مظاہرے ہو چکے ہیں، لوٹ مار کی نوبت کئی مرتبہ آ چکی ہے۔ قانون بدلنے اور بنانے کی باتیں ہزار بار ہو چکی ہیں لیکن آج جو اشتعال دیکھنے میں آرہا ہے اس کا سبب سیدھا سادہ ہے۔ 

ماضی میں سیاہ فام نسل پر جب بھی ظلم ہوا اور پولیس نے جتنی مرتبہ زیادتی کی، مجرم کوئی نہ کوئی جواز بنا کر آزاد کر دیے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاہ فام صدر براک اوباما کے طویل دورِ اقتدار میں بھی ایسے قانون نہ بن سکے جن سے افریقی نسل کے امریکی باشندوں کو کسی قسم کا تحفظ مل سکے۔ ظلم کی یہ تاریخ اب تو بہت پرانی ہو چلی ہے۔ 

جب یہ سیاہ فام زنجیروں میں جکڑ کر افریقہ سے لائے جاتے تھے، اسی وقت سے ان کے ساتھ کبھی کبھی تو وحشیانہ سلوک کی بھی حدیں پار کی گئیں۔ صدیاں گزر جانے کے بعد اب اس نسل کے باشندے امریکی معاشرے میں گھل مل گئے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں مگر اس سلسلے میں پولیس کا رویہ عجب ہے۔ 

اس کی اصلاح کی بہت تدبیریں کی گئیں، تربیت کے بڑے اہتمام ہوئے، ان پر معاشرتی دباؤ بھی ڈالا گیا لیکن یہی کہا جا سکتا ہے کہ نسل اور رنگ کا فرق مارے ڈالتا ہے اور سفید فاموں کا نام نہاد احساسِ برتری اس معاشر ے کو کھائے جا رہا ہے۔ 

اس تازہ احتجاج کا ایک پہلو بہت ہی گمبھیر اور غور طلب ہے جسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ وہ یہ کہ اس وقت جب پورے امریکہ پر کورونا وائرس کا بھرپور حملہ ہو رہا ہے اور لندن میں بھی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، ان مظاہرین کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جنہیں حکم ہے کہ ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں، ہاتھ نہ ملائیں، گلے نہ ملیں اور اپنے درمیان کم سے کم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں ورنہ سمجھ لیں کہ موت سروں پر منڈلا رہی ہے۔ 

ایسی سخت جکڑ بندی کو ٹھوکروں میں اڑا کر یہ اَن گنت لوگ مجمع کی شکل میں یکجا ہوئے اور ایک نے دوسرے کو کتنے وائرس منتقل کیے ہوں گے اس کا قیاس کرنا مشکل نہیں۔ لیکن میں نے مظاہرین کو یہ کہتے سنا کہ ’بس بہت ہوگیا‘۔ یعنی انہیں پروا نہیں۔ تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ بپھرے ہوئے جوشیلے جوان اپنا موقف منوانے کے لیے جان پر بھی کھیل جائیں گے۔ 

یہ بڑی بھاری قیمت ہوگی لیکن وہ جو جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں ان کا مطالبہ بھی بڑا بھاری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت کو سمجھتے ہیں، نومبر کے صدارتی انتخابات جیتنے کی خاطر وہ کیا کر بیٹھیں، کہنا دشوار نہیں، بہت ہی دشوار ہے۔

ابھی ایک ہی لاش گری ہے، اب اگر کورونا کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا تو احتجاج کرنے والوں کو کہیں بھاری قیمت نہ چکانا پڑ جائے۔ امریکہ میں تو پہلے ہی لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں۔ آنے والے دن کیا منظر دکھائیں گے، آنکھیں انہیں دیکھنے کی متحمل نہیں ہو پائیں گی۔

چلئے اس سنجیدہ گفتگو کو ایک خوشگوار نوٹ پر ختم کریں۔ یہاں لندن میں ہمارے پڑوسی کا دو سال کا بیٹا ہیری ہے۔ ہیری اور میری بیوی کی بہت دوستی ہے۔ کل جب میری بیوی گھر سے باہر نکلی، ہیری بھی اپنے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ 

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میری بیوی مارے محبت کے ہیری کو سینے سے لگانے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ ہیری چلّایا: میرے قریب نہ آؤ، پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو۔

یہاں یہ بات واضح کر دوں کورونا کا بس یہی ایک موثر علاج ہے۔