آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جارج فلوئیڈ کی زندگی اہمیت رکھتی تھی،ڈچز آف سسیکس کا پیغام

لندن (پی اے) ڈچز آف سسیکس نے جارج فلوئیڈز کی موت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جارج فلوئیڈ کی زندگی اہمیت رکھتی تھی، لاس اینجلس میں اپنے سابق اسکول سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے میگھان نے کہا کہ یہ انتہائی اندوہناک واقعہ ہے۔ انھوں نے اس موقع پر 1992 میں نسلی فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ اپنے ویڈیو پیغام میں انھوں نے نوجوانوں اور طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سب متحد ہو کر معاشرے کی تعمیر نو کریں۔ 25 مئی کو منی پولس میں سیاہ فام امریکی جارج فلوئیڈ کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کی ایک لہر شروع ہوگئی ہے۔ْ اس موت کے ذمہ دار تصور کئے جانے والے 4 پولیس اہلکاروں کو چارج کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ 9 دن کے دوران ہونے والے زیادہ تر مظاہرے پر امن رہے ہیں لیکن بعض پرتشدد بھی ہوگئے۔ متعدد شہروں میں کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے۔ جارج فلوئیڈ کی موت کے حوالے سے برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ میگھان نے اپنی ورچوئل تقریر کی ویڈیو میں ہرٹ ہائی اسکول کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سابقہ ہفتوں کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے خود کو نروس محسوس کرتی ہوں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جارج فلوئیڈ کی زندگی اہمیت رکھتی تھی۔ افریقن امریکن فیمیل میگزین ایسنس میں پہلی مرتبہ رپورٹ ہونے والی اس ویڈیو میں میگھان نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ سے اس بات پر معذرت کی ہے کہ ہم دنیا کو ایسی جگہ نہیں بنا سکے جس کے آپ مستحق تھے۔ انھوں نے تمام گرلز اسکول کی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہتے ہوئے نروس محسوس کر رہی ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جارج فلوئیڈ کی زندگی بریونا ٹیلر کی زندگی اور فلنڈو کا سٹائل کی زندگی اور ٹیمر رائس کی زندگی اور ان جیسے اور بہت سوں کی زندگی، جن میں سے بہت سوں کو ہم جانتے ہیں اور بہت سوں کو نہیں جانتے، اہمیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے 1992 کے فسادات کا حوالہ دیا ہے، جب پولیس افسران کی روڈ نے کنگ کو پیٹتے ہوئے فلم بنائی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ میری عمر 12-11 سال رہی ہوگی۔ یہ لاس اینجلس کے فسادات تھے، جو نسل پرستی کے جنونی عمل کی وجہ سے پھوٹ پڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت کرفیو لگا دیا گیا تھا اور اس کے بعد مجھے اپنی گھر واپسی بھی یاد ہے۔ گھر واپسی کے وقت میں نے راستے میں آسمان سے راکھ جھڑتے اور عمارتوں سے دھواں اٹھتے دیکھا اور مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک گاڑی میں لوگوں کو بندوقیں اور رائفلیں تانے بیٹھے دیکھا تھا، میں نے مکانوں کو منہدم ہوتے اور وہاں موجود درختوں کو جل کر بالکل کوئلہ بنتے دیکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ یادداشتیں ذہن سے محو نہیں ہوتیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ طلبہ کو اس سے کچھ مختلف صورت حال نظر آرہی ہوگی، بعض باتیں آپ سمجھ رہے ہوں گے اور بعض باتیں آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی ہوں گی، مجھے افسوس ہے کہ ہم دنیا کو ویسا نہیں بنا سکے جس کے آپ حقدار تھے۔ انھوں نے اس بات کا خاص طورپر ذکر کیا کہ بے چینی کے باوجود لوگ آپ کے ساتھ یکجہتی کیلئے کھڑے ہیں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اس یکجہتی کا حصہ بنیں۔ ڈچز نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ یہ وہ گریجویشن نہیں ہے جس کا آپ نے تصور کیا تھا لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس طرح کے واقعات آپ کی تعمیر نو کریں گے، تاکہ آئندہ آپ کو اس طرح کے واقعات نہ دیکھنا پڑیں۔ اب آپ کو معاشرے کی تعمیرنو کا حصہ بننا چاہئے، ہمیں تعمیر نو کی کوششیں اس وقت تک جاری رکھنی ہیں جب تک حقیقی معنوں میں تعمیر نو نہ ہوجائے۔ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مظاہرے نیویارک، لاس اینجلس، میامی، واشنگٹن ڈی سی، سائوتھ کیرولینا اور ہیوسٹن تک پھیل چکے ہیں، بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جن میں پولیس نے آنسو گیس کے علاوہ ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاستوں کے گورنروں کو مظاہرین سے زیادہ سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے۔ مظاہروں کا یہ سلسلہ اب امریکہ سے نکل کر برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ لندن میں بدھ کو ہزاروں افراد نے سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہم ہے نامی گروپ کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کی۔ ڈچز آف سسیکس شاہی فیملی کی فرد کی حیثیت سے ذمہ داریوں سے مستعفی ہونے کے بعد اب اپنے ایک سالہ بیٹے آرچی کے ساتھ لاس اینجلس میں مقیم ہیں۔
یورپ سے سے مزید