آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی کارروائیاں

شہر میں کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک کے خلاف پولیس نے حالیہ دنوں میں کارروائیاں کرکے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ان ملزمان میں کالعدم داعش، لشکر جھنگوی اور گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔یہ ملزمان انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کے افسران کو ٹارگٹ کلنگ کر کے شہید کرنے ، سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ،گینگ وار کے مخالف گروپوں کے کارندوں کو قتل کرنے سمیت بھتہ خوری کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں، اس حوالے سے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ(ایس آئی یو) نے مختلف مقامات سے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

5مئی کواسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے ناگن چورنگی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے5ملزمان عبدالستار عرف کامریڈ ،صابر حسین عرف رئیس، عرفان علی، عبدالرسول عرف آدو اور لیاقت علی ڈنگا کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سےغیر قانونی اسلحہ،دو لاکھ روپے کی نقد رقم، شہریوں سے لوٹی گئی مختلف قیمتی اشیاء اور چوری شدہ دو موٹر سائیکلیں برآمد کر لیں۔ایس ایس پی ،ایس آئی یو عرفان بہادر کے مطابق گرفتار ملزمان بینکوں سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں کو ہی نشانہ بناتے تھے۔ ملزمان نے 100سے زائد وارداتوں میں کروڑوں روپے لوٹنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

گرفتار ملزمان کا ایک ساتھی بینک میں بڑی رقم نکلوانے والے شہری کی ریکی کرتا اور باہر موجود ساتھیوں کو آگاہ کرتا تھا جو مذکورہ شکار کو لوٹ کر فرار ہو جاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال تھانہ اورنگی ٹائون اور سائٹ اے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں ملزمان بینک سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں سے لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔ واردات کی CCTVفوٹیج میں ملزمان کے ساتھی کو بینک میں ریکی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ملزمان نے تفتیشی ٹیم کو 30 سے زائد وارداتوں کے مقامات کی نشاندہی کی ہےجس کی بناء پردیگر ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

8مئی کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے ملیر میں کارروائی کے دوران تین ملزمان زبیر خان عرف وزنی محمد ابرار اورعبدالعنرر کو گرفتار کر لیا۔ملزمان سے شہری سے لوٹی گئی ایک لاکھ پچاس ہزار روپےکی نقدرقم ، تین پستول اور گولیاں برآمد کر لی گئیں۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شہری سے لوٹ مار کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی،جس کے بعداسے شناخت کر لیا گیا۔ایس آئی یو نے تین ہٹی پر نوری شاہ بابا مزار کے قریب ایک اور کارروائی کے دوران پولیس کو درجنوں مقدمات میں مطلوب ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی کارروائیاں
ایس ایس پی ، ایس آئی یو،
 عرفان بہادر

گرفتار ملزم محمد سلیمان عرف مکی ولد محمد یونس سے غیر قانونی لوڈ پستول اور شہری سے لوٹی گئی رقم اور دیگر سامان برآمدکرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ملزم سلیمان عرف مکی کے خلاف دو روز قبل ڈکیتی کا مقدمہ نمبر 114/20 تھانہ ناظم آباد میں درج کیا گیا تھا۔ملزم نے شہری سے 15 ہزار 900 روپے کی نقد رقم ، 1 لاکھ 20 ہزار روپےکا چیک اور دیگر سامان لوٹا تھا جو برآمد کر لیا گیا۔گرفتار ملزم کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہیں۔

12مئی کوایس آئی یو نے وفاقی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے لشکر جھنگوی کے2 دہشت گردوں سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ایس ایس پی ،ایس آئی یو عرفان بہادر کے مطابق آپریشن کے دوران افغانستان سے تربیت یافتہ دو دہشت گردوں نبی گل اور محمد عقیل کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بمعہ ایمونیشن اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران 2008 میں برنس روڈ پر انٹیلی جنس بیورو کے دو افسران کو ٹارگٹ کلنگ کر کے شہید کرنے کا اعتراف کیا۔گرفتار ملزمان نے شہر بھر میں قتل سمیت دیگر سنگین نوعیت کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا۔ملزمان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے۔

عرفان بہادر کے مطابق ایک اور مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں کراچی کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں پولیس کو مطلوب لیاری گینگ وار کے سرگرم کارندے شہزاد عرف چھوٹو کو گرفتار کیا گیا، ملزم سے غیر قانونی اسلحہ اور ایمونیشن تحویل میں لے لیا گیا، ملزم نے دوران تفتیش شہر بھر میں 40سے زائد قتل کی وارداتوں کا اعتراف کیا۔ملزم نے عزیر جان بلوچ کی حکم پر ساتھیوں کی مدد سے شہر کے مختلف علاقوں میں بابا لاڈلا گروپ سے منسلک کارندوں سمیت سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور شہریوں کی چالیس سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی۔

30مئی کواسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کراچی اور وفاقی انٹیلی جنس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے داعش سے وابستہ دہشت گرد کوگرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم سکندر خان ولد کامل جان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بمعہ ایمونیشن اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران 2019 سے پہلے تحریک طالبان پاکستان سے وابستگی کا اعتراف کیا۔2013 میں ملزم کراچی میں دہشت گردی سمیت سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل بھیجا گیا جسے بعدازاں مردان جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔مردان جیل سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزا کاٹنے کے بعداس نے 2019 میں دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستہ ہو کر کراچی شہر میں ساتھیوں کی مدد سے بھتہ خوری شروع کر نے کا سلسلہ شروع کیا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے پی آئی بی تھانے کی حدود میں ڈاکٹر سراج کو بھتے کی پرچی بھیجی، بھتہ نا دینے پر ڈاکٹر سراج پر فائرنگ اور کلینک پر بم سے حملہ کر دیا۔ملزم کے خلاف تھانہ پی آئی بی میں مقدمہ نمبر 68/2020 اور 84/2020 دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔گرفتار ملزم نے تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود میں حلیم نامی شہری سے بھی بھتہ طلب کیا جس کا مقدمہ نمبر 288/2020 دہشتگردی سمیت بھتے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔گرفتار ملزم نے شہر بھر میں بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین نوعیت کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم سے برآمد ہونے والے اسلحہ دونوں وارداتوں میں ملنے والی گولیوں کے خول سے میچ کر گیا ہے۔

3جون کو ایس آئی یو نےکارروائی کے دوران شہر میں کروڑوں روپے بھتہ وصول کرنے والے ملزم شاہدکو مہران ٹائون کورنگی سے گرفتار کیا گیا۔گرفتار ملزم نے دوران تفتیش شہر کے مختلف تاجروں سے بھتہ وصول کرنے کا اعتراف کیا۔ گرفتار ملزم کے خلاف تھانہ نیو ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 147/2020 دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ ملزم نے تاجر محمد عمران سے ایک کروڑ روپے بھتہ طلب کیا تھا۔ملزم شاہد سے موبائل فون بھی برآمد کیا گیا جس سے بھتہ کیلئے پیغامات بھیجے جاتے تھے۔گرفتار ملزم نے شہر بھر میں بھتہ خوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید