آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم’’ تھینک یو نیوزی لینڈ‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے جھوم اُٹھیں۔ وہ میڈیا کے نمایندوں سے 8جون کی رات، بارہ بجے بات چیت کر رہی تھیں۔آخر جسینڈا آرڈرن نے نیوزی لینڈ کے باشندوں کا شُکریہ کیوں ادا کیا؟ اِس لیے کہ وہاں کے عوام، حکومت، ڈاکٹرز اور دیگر طبّی عملے نے مل کر کورونا کو شکست دے دی ہے، جس کے بعد 8 جون سے کووڈ ۔19 کی روک تمام کے لیے عاید کردہ تمام پابندیاں اُٹھا لی گئیں۔ ڈاکٹرز نے تصدیق کی ہے کہ اب مُلک میں کورونا کا ایک بھی ایکٹیو کیس موجود نہیں۔ نئے قوانین کے تحت اب سوشل ڈسٹینسنگ کی ضرورت نہیں۔عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں نہیں رہیں، البتہ غیرملکیوں کے لیے سرحدیں اب بھی بند رہیں گی۔ 

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم پاکستانی عوام میں بھی خاصی مقبول ہیں۔ دوسال قبل وہاں پیش آنے والے قتلِ عام کے واقعے کے بعد اُنہوں نے مسلم اقلیت کا جس طرح ساتھ دیا، اُن کے ساتھ کُھل کر ہم دردی کی اور زخموں پر مرہم رکھا، اُس نے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے دِل جیت لیے۔کچھ پاکستانیوں نے تو اُنہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی تھی۔ اُسی خاتون رہنما نے اپنے ملک سے کورونا کو مکمل طور پر شکست دینے کا کارنامہ صرف دو ماہ، دس دن میں انجام دیا۔پاکستان اور نیوزی لینڈ میں لاک ڈائون ایک دن کے فرق سے شروع ہوا۔یعنی نیوزی لینڈ میں 25 مارچ اور ہمارے ہاں 26 مارچ کو اس کا آغاز ہوا۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ حکومت نے کورونا کے لیول وَن کے خاتمے کے لیے 22 جون کی تاریخ مقرّر کی تھی، لیکن حکومت اور لوگوں کے بے مثال تعاون سے آٹھ جون کو یعنی سترہ دن قبل ہی خوشی کا دن آگیا۔ غالباً اِسی لیے جسینڈا نے اس موقعے پر خوشی کا علامتی ڈانس بھی کیا۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ’’ گو ہم آج محفوظ ہوچُکے ہیں، لیکن احتیاط جاری رہے گی۔ اب ہم اپنی معیشت کی بحالی پر پوری توجّہ مرکوز کر سکیں گے۔‘‘ ایک ٹرک ڈرائیور نے اپنی خوشی اِن الفاظ میں بیان کی’’ ہم بہت خوش ہیں، لیکن احتیاط جاری رکھیں گے کہ ہمیں اپنی قوم و مُلک عزیز ہے۔‘‘ جسینڈا ایک حکم ران کے طور پر کام یاب رہیں، لیکن اِس سے بھی بڑھ کر عوام نے ایک مقبول لیڈر کی طرح لاک ڈاؤن کے دوران اُن کی ہر بات توجّہ سے سُنی اور اُس پر عمل کیا۔

31 دسمبر کو چین کے شہر، ووہان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا، تو اُس کے بعد سے دنیا کو چَین نہیں آیا۔ اب تک ستّر لاکھ سے زاید افراد اِس وائرس کی لپیٹ میں آچُکے ہیں، جب کہ چار لاکھ سے زاید اموات ہوچُکی ہیں۔ ہر مُلک نے اِس وبا سے نمٹنے کے لیے اپنے حالات کے مطابق حکمتِ عملی اپنائی اور یوں مختلف ماڈلز سامنے آئے۔اِس میں چین جیسے سخت گیر مُلک کا فوری ری ایکشن، اٹلی جیسے سُست ردِعمل والے مُلک اور نیوزی لینڈ جیسی برق رفتار ریاستیں شامل ہیں۔میڈیا میں جس قسم کی خبریں آتی رہیں، اُس نے کئی ایک ممالک کو ہلا کر رکھ دیا۔کچھ بھی تو چُھپا نہ رہا۔ساری دنیا کو پتا چل گیا کہ سب سے زیادہ اموت اور کیسز عالمی سُپر پاور، امریکا میں سامنے آئے۔اُس کے بعد برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین اور برازیل جیسے مُمالک اسکور کارڈ کی طرح کیسز گنتے اور لاشیں اُٹھاتے رہے۔ 

دو ماہ کے عرصے میں ان تمام ممالک میں کورونا وائرس کا پیک آیا اور پھر گراف نیچے آنا شروع ہوا۔ وہاں کے حکم ران، ڈاکٹرز اور سائنس دانوں کی ہدایات پر عمل کرتے رہے۔شاید ہی کسی حکم ران نے یہ کہا ہو کہ’’ ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اِس وبا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں۔عوام خود ہی اِس سے نمٹ لیں اور نتائج بھگتیں۔‘‘ سب حکم رانوں پر شدید دبائو آیا، لیکن وہ عوام کو حوصلہ دیتے رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام نے لاک ڈاؤن کی تمام تر سختیاں برداشت کیں، احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ اِسی لیے اب کئی ممالک میں اسکولز کُھل رہے ہیں اور کاروبارِ زندگی معمول پر آ رہا ہے۔ یہی نہیں، ان ممالک نے اب کورونا کے خلاف دفاعی کی بجائے جارحانہ انداز اپنا لیا ہے۔ 

وہ اس کے سامنے بند باندھ کر اب ویکسین اور دوا بنانے کے آخری مراحل میں ہیں۔ اُن کی معیشت برباد ہوئی، لیکن اب وہ کورونا کے خلاف توانا قوموں کی طرح اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ معیشت کی بحالی شروع ہوچُکی ہے۔امریکا میں ہر ہفتے چار لاکھ سے زاید روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، حالاں کہ یہی وہ امریکا ہے، جس کے متعلق پیش گوئیاں کی گئیں کہ اس کا تو خاتمہ قریب ہے۔ وہاں قیامت کے آثار بتائے گئے۔ تاہم، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، البتہ ہم جیسی کم زور معیشت اور بُری گورنینس کے حامل ممالک ضرور مصیبت میں ہیں۔ یہ پہلے بھی بحرانوں میں لڑکھڑاتے تھے، مگر اب تو گرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ ان کے عوام اور حکومت، دونوں کنفیوزڈ ہیں۔

اب ذرا ایک نظر اُن ممالک پر ڈال لیتے ہیں، جہاں کورونا پسپائی پر ہے۔ سب سے پہلے جرمنی کی بات کریں گے، جو بلاشبہ معیشت کے لحاظ سے یورپ کا سب سے مضبوط مُلک ہے اور اس کے پاس سرمائے کی کوئی کمی نہیں، لیکن چانسلر، مرکل نے عوام کو جھانسے، تاریخیں دینے یا اپنے فلسفے بیان کرنے کی بجائے سب سے پہلا کام سخت لاک ڈائون سے شروع کیا۔پھر اگلے قدم کے طور پر اپنی بساط کے مطابق لوگوں کو ریلیف دیا۔اِس مقصد کے لیے کوئی نئی رضاکار فورس نہیں بنائی، بلکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے ہی کو ہنگامی صُورتِ حال کے لیے تیار کیا ۔اُسے سمت اور لیڈرشپ فراہم کی کہ ایک لمحہ ضایع کیے بغیر مشین کا ہر پرزہ اپنی جگہ کام شروع کر چُکا تھا اور پورا جرمنی عوام، ڈاکٹرز، حکومت اور ریلیف ایجینسیز سب ہی اپنے اپنے کام میں جُت گئے۔ مقصد صرف ایک تھا کہ ایک ایک شہری کی جان محفوظ رکھنی ہے۔

جرمنی کی حکم ران کو علم تھا کہ کورونا صرف چند ماہ کا معاملہ ہے۔لوگوں پر سختی کرنے کے علاوہ اُنھیں اسی مدّت میں سہولتیں بھی فراہم کرنی ہیں۔وہاں یہ کسی نے نہیں کہا کہ کورونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔مالکان کو پابند کیا گیا کہ وہ کورونا مریضوں سے اگلے سال تک کرائے نہیں لیں گے۔ مریضوں کے تمام ٹیکس معاف کردئیے گئے۔چھوٹے کاروبار کو اعتماد میں لے کر قرضے فراہم کیے گئے۔ عوام کی جانب سے امدادی کاموں کی حوصلہ افزائی کی گئی، بجائے اس کے کہ سارے کام وزراء تصاویر کھنچوانے کے لیے خود کریں۔ جرمن چانسلر نے اِس بات کو یقینی بنایا کہ حکومتی اہل کار انتہائی تیز رفتاری سے دن رات کام کریں۔جرمنی پہلا مُلک ہے، جو یورپ میں تیزی سے اقتصادی بحالی کی طرف جا رہا ہے۔ وہاں آہستہ آہستہ سب کچھ کُھل رہا ہے۔ ہمارے وزیرِ اعظم بھی جرمنی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ 

اٹلی کی بات کرنا بھی ضروری ہے، کیوں کہ ہمارے یہاں سب سے زیادہ اُسی کی تباہی اور بربادی کی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ اگر یہ سب درست ہوتیں، تو آج اٹلی کو یورپ کا قبرستان ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہے۔یورپ میں سب سے پہلے اٹلی میں کورونا پہنچا، جہاں سے وہ باقی یورپ میں پھیلا۔اٹلی معیشت کے لحاظ سے یورپ کا’’ مردِ بیمار‘‘ ہے۔عالمی اقتصادی بحران میں بھی اس کی صُورتِ حال دگرگوں ہوگئی تھی۔ بڑی مشکل سے سنبھالا لیا تھا کہ اُسے کورونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسپتالوں اور مُردہ خانوں کی ایسی ہول ناک رپورٹس سامنے آئیں کہ لوگ دیکھ اور سُن کر لرز گئے ۔شاید اسی لیے یہ سلوگن بنایا گیا’’ کورونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے۔‘‘ تاہم اب اٹلی کورونا پر قابو پاچُکا ہے۔گو کہ اُسے اپنے سُست ردّ ِعمل کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، لیکن آج اٹلی کُھل چُکا ہے اور زندگی معمول پر آرہی ہے۔وہاں کی حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ اُنہوں نے غلطی نہیں کی، تاہم اُنہوں نے اپنی غلطی کا ازالہ کیا۔شروع میں لوگوں نے کورونا سے متعلق غیر سنجیدہ رویّہ اپنایا، بعدازاں اپنی سُستی اور حکومت کی حماقت کی پاداش میں طویل اور سخت لاک ڈائون برداشت کیا۔

اسپین میں کورونا نے بہت تباہی مچائی۔وہاں بھی اٹلی جیسے حالات رہے، یہاں تک کہ اسپین کے خاتمے کی پیش گوئیاں تک کردی گئیں۔ تاہم، وہاں زبردست لاک ڈائون کیا گیا اور پھر یکم جون کو اسپین نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ’’ آج کورونا سے کوئی موت نہیں ہوئی۔‘‘ اب لاک ڈائون نرم کیا جارہا ہے۔ برطانیہ میں بھی کورونا کا گراف خاصا نیچے آچُکا ہے۔ لاک ڈائون کس قدر سخت تھا؟ اِس ضمن میں ہم ایک پاکستانی خاتون کا ذکر کرنا چاہیں گے۔ اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ’’ ماہِ رمضان میں پڑوسیوں کو افطاری بھجوانا ہماری روایت ہے۔تاہم اِس بار یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ افطار پیکٹ تیار کرنے کے بعد پڑوسی کو فون پر بتا دیا جاتا کہ ہم آرہے ہیں۔

ایک لکڑی کی ٹرے پر افطاری رکھ دی جاتی۔چھے فِٹ کا فاصلہ برقرار رکھا جاتا۔ پڑوسی ٹرے لے کر چلا جاتا۔ماسک، دستانے اور دیگر تمام احتیاطی تدابیر پر بھی سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔یہاں تک کہ عید پر نئے کپڑے نہیں بنائے گئے۔‘‘ کورونا پر قابو پانے کے حوالے سے ڈاکٹرز مطمئن ہیں، جس پر حکومت ایک خاص سطح تک کاروبار ہی نہیں، اسکولز بھی کھول چُکی ہے۔ اب تیزی سے معیشت بحال کی جارہی ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے لاک ڈائون کے دوران ہی مکمل منصوبہ بندی کر لی تھی۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ مُسلم ممالک میں کورونا وائرس پسپائی اختیار کر رہا ہے، لیکن وہاں یک سوئی سے ایک پالیسی جاری ہے اور حالات بہرحال قابو میں ہیں۔ اِس پر اُنہیں داد دینی پڑتی ہے کہ اُنہوں نے کورونا وائرس کو صرف اور صرف ایک بیماری کے طور پر لیا اور اسی طرح اس سےنمٹے رہے ہیں۔ اسے مذہب یا کسی قسم کا معاشی اور سیاسی مسئلہ نہ سمجھا۔اِس ضمن میں عرب ممالک نے رہنما کا کردار ادا کیا۔اُنھوں نے لاک ڈائون ہی نہیں، بلکہ جہاں ضرورت ہوئی، کرفیو تک نافذ کیے رکھا۔خلیج کے ممالک کے لیے دو چیلنجز تھے۔ایک طرف تیل کی قیمتوں کا کریش ہونا، جس نے اُن کی معیشت ہلا کر رکھ دی۔دوسری طرف، سعودی عرب کے لیےحج اور عُمرے پر پابندیاں اور مسلمانوں کے مقدّس ترین مقامات میں عبادات کو محدود کرنا ، ایک سخت فیصلہ تھا۔ 

تاہم، اُنہوں نے لوگوں کی جان کی حفاظت کو سب سے مقدّم سمجھا اور اسی کے لیے برق رفتاری سے اقدامات کیے۔ خلیجی ممالک نے بہت سے سخت معاشی فیصلے کیے، لیکن روتے پیٹتے نہیں پِھرے۔تیل کی کم قیمت کا دبائو برداشت کیا۔ یہ بھی یاد رہے، پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر مُلکی وہاں ملازمت کر رہے تھے، تواُن کی جان کی حفاظت کی ذمّے داری بھی کوئی آسان کام نہ تھا، خاص طور پر ایسے ممالک کے لیے ،جن کا نظامِ صحت بھی زیادہ مضبوط نہ ہو۔لیکن اللہ کا شُکر ہے کہ وہ اِس مشکل سے آہستہ آہستہ اور احتیاط سے نکل رہے ہیں۔ہمارے لیے یہ اِس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا معاملہ ہے۔ ایمپریل کالج، لندن کو پاکستان میں ایک معتبر ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ایک تازہ تحقیق میں اُس کا کہنا ہے کہ’’ سخت لاک ڈائون کی وجہ سے صرف یورپ میں 32 لاکھ زندگیاں بچالی گئیں۔‘‘ ہم پاکستان کے حوالے سے صرف اِتنا ہی کہیں گے کہ وزیرِ اعظم، عمران خان کی اِس بات میں وزن ہے کہ لاک ڈائون میں غریبوں کو ریلیف ملنا چاہیے، لیکن جو وارننگ عالمی ادارۂ صحت نے حکومت کو دی ہے، اُس کے منفی اثرات کو مشیرِ صحت کا یہ کہہ کر نظر انداز کرنا کہ’’ ایسے پریس ریلیز آتے رہتے ہیں‘‘ سمجھ سے بالاتر ہے۔ 

دنیا کے ہر عالمی ادارے اور مُلک نے ہمارے قرضے مؤخر کیے، صرف اِس لیے کہ ہم کورونا سے نمٹنے کی عالمی پالیسی پر عمل پیرا رہیں، لیکن ہم ابھی تک اپنے ہی فلسفوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔اب صُورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا بڑھتا چلا جارہا ہے۔مُلکی معیشت میں قرضوں کے علاوہ کچھ نہیں رہا، تو ایسے میں ایک کورونا زدہ مُلک سے کون تجارت کرے گا؟ اس کے وفود کون قبول کرے گا؟ عام پاکستانیوں کے بیرونِ مُلک سفر کا کیا ہوگا؟ کیا ہمیں یاد نہیں کہ پولیو کیسز کی وجہ سے ہمیں کیسی کیسی سفری پابندیاں بھگتنا پڑتی ہیں، جب کہ اس کی ویکسین بھی موجود ہے۔ہمیں دنیا کے معیارات فالو کرنے ہوں گے، نہ کہ دنیا کو ہمارے’’ نادر فرمودات۔‘‘ خلیج کے مسلم ممالک بھی ایک دو ماہ بعد ہمارے شہریوں کو لینے سے انکاری ہوں گے کہ کہیں اُن کے مُلک میں بھی دوبارہ کورونا نہ آجائے۔

معیشت کی بہتری کی باتیں اور غربت کم کرنے کے بیانات اپنے مُلک کے کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے تو شاید متاثرکُن ہوں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دو ماہ بعد عالمی منظر نامے میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے، جب دنیا کورونا فِری ہوکر کُھل چُکی ہوگی اور ہم لاکھوں کورونا مریضوں کے باوجود پیک کے انتظار میں اس فلسفے پر جی رہے ہوں گے کہ’’ کورونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔‘‘ اور کچھ نہیں، تو تارکینِ وطن کی ملازمتوں ہی کا سوچ لیا جائے، جو مُلکی رِ مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ کہنا مکمل سچائی نہیں کہ کورونا کا علاج موجود نہیں ہے۔امریکا نے’’ Remdesivir‘ نامی ایک اینٹی وائرل دوا کورونا وائرس کے علاج کے لیے منظور کی ہے۔ یہ ایک مستند دوا ہے، جو ایبولا وائرس کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایجینسی نے اس کے انسانی ٹرائلز کے بعد کورونا کے علاج کی اجازت دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں دو خصوصیات ہیں۔ایک یہ کہ کورونا علاج کا دورانیہ گھٹا کر پندرہ دن سے گیارہ دن کردیتی ہے اور دوسری بات یہ کہ انسانی جسم میں موجود کورونا کے بڑھنے کی صلاحیت ختم کردتی ہے۔یعنی کورونا کو غیرمؤثر کردیتی ہے۔اب یہ دوا برطانیہ، فرانس، جاپان اور خود پاکستان میں بھی موجود ہے۔اِسی طرح ہائیڈروکسی کلورو کوئن، جو اینٹی ملیریل ہے، بہت سے ممالک میں کام یابی سے استعمال کی گئی۔

یہ بہت سَستی دوا ہے، تاہم اس کے سائیڈ ایفیکٹس زیرِ بحث ہیں اور یہ ڈاکٹرز میں استعمال کے لیے متنازع ہے۔ برطانیہ کی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دو اینٹی باڈیز کی مدد سے کورونا کے علاج کی دوا تیار کی ہے، جو کام یاب ہے اور اس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی بہت کم ہیں۔اس کی تیاری شروع کردی گئی ہے اور جلد ہی متعلقہ اداروں کی اجازت کے بعد ڈاکٹرز کے پاس ہوگی۔اسی طرح کم ازکم 17 مختلف ویکسینز تیاری کے بعد استعمال کی اجازت کی منتظر ہیں۔ان میں آکسفورڈ ویکسین کا بہت شہرہ ہے۔

یہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونی ورسٹی میں تیار کی گئی ہے۔اس پر چھے ہزار انسانی ٹیسٹس ہوں گے، جو تقریباً مکمل ہونے کو ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ویکسین کی تیاری شروع کردی ہے اور سردیوں سے قبل تین کروڑ ڈوز تیار ہوچُکی ہوں گے۔امریکا کے علاوہ چین میں بھی اس حوالے سے زبردست کوششیں ہو رہی ہیں۔ مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیں کہ ویکسینز ٹرائلز کے مختلف مراحل میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ویکسین اور کورونا وائرس کے علاج کی دوا تیار کرنے کا مقابلہ ہو رہا ہے، لیکن یہ دوڑ مثبت ہے کہ اِس میں پیش رفت اور کام یابی پوری انسانیت کی کام یابی ہوگی ۔