مئی کے پہلے ہفتے سے شروع ہوا پیٹرول بحران تاحال جاری ہے، توانائی ماہرین کے مطابق ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی محدود سہولتوں کے باعث پاکستان نے زیادہ درآمد کی شکل میں سستی پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کا موقع ضائع کر دیا۔
ایک سابق ڈی جی آئل کے مطابق اوگرا نے ایسی نجی آئل کمپنیوں کو مارکیٹنگ کے لائسنس کیوں جاری کر رکھے ہیں جن کے پاس 20 روز کے لیے پیٹرول ذخیرہ رکھنے کی گنجائش ہی نہیں جو اوگرا کی طرف سے دیے گئے لائسنس کے مطابق لازم ہے، ڈی جی آئل ہر مہینے پروڈکٹ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتا ہے جسے سبھی کچھ معلوم ہوتا ہے۔
جیو نیوز کی تحقیق سے پتہ چلا کہ تین درجن سے زیادہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں سے پی ایس او ر صرف تین نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس 20 روز کی پیٹرولیم مصنوعات رکھنے کا ذخیرہ رکھنے کی سہولت موجود ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ صورت حال کو بھانپتے ہوئے مارچ کے آخر میں پیٹرول کی درآمد ایک ماہ کیلئے نہیں روکنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پیٹرول کی درآمد ہونے دیتی اور تیل کے یہ جہاز کھڑے رہنے دیتی۔
پیٹرولیم مصنوعات کا معیار چیک کرنے والا سرکاری ادارہ ایچ ڈی آئی پی اس وقت تک ان جہازوں میں موجود تیل کو کلیئر نہ کرتا جب تک آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ریفائنریز سے پیٹرول نہ اٹھاتیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح پیٹرول پمپس کو پیٹرول کی ترسیل متاثر نہیں ہونی تھی کیونکہ جہازوں سے تیل کو اتارنے میں تاخیر پر ہونے والے جرمانوں کی وجہ سے آئل ریفائنریز سے اٹھائے گئے تیل کی سپلائی پمپس کو جاری رہنی تھی۔
ماہرین کے مطابق ایک ماہ پیٹرول درآمد بند کرکے حکومت نے نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مستقبل میں منافع خوری کا جواز خود فراہم کیا اور آئل سپلائی چین ٹوٹ گئی۔
ماہرین نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ کچھ نجی کمپنیوں کے پاس پیٹرول کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہو اور حکومت اسے نکلوانہ سکے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے ایک سابق سربراہ کے مطابق ایک مرتبہ پیٹرول کی درآمد بند کر کے دوبارہ شروع کرنے میں کم ازکم تین سے چار ہفتے لگ جاتے ہیں چابی گھمانے سے پیٹرول درآمد شروع نہیں ہوتی۔