کراچی (ٹی وی رپورٹ)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزانے کہا ہے کہ حکومت اور قوم کو مل کر کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنا ہوگا، جولائی تک کورونا کے دس لاکھ کیسز ہوسکتے ہیں، احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو انتظامی طور پر یقینی بنایا جائے گا، کورونا کے ساتھ معیشت چلانے کیلئے ٹارگٹڈ ہاٹ اسپاٹس پر لاک ڈاؤن کرناہوگاکل سے دو تین گنجان آبادی والے علاقوں کا دو ہفتے کیلئے لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
وہ جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں میزبان شہزادا قبال سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں وزیرتعلیم سندھ سعید غنی، ماہر معیشت خرم شہزاد اور مزمل اسلم سے بھی گفتگو کی گئی۔ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کو اپنے پاس موجود وسائل کی منیجمنٹ ٹھیک کرنا ہوگی۔
کارپوریٹ ٹیکس اور سیلزٹیکس کم کرنے سے ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا۔سعید غنی نے کہا کہ ملک میں کورونا پھیلنے کے بعد اسمارٹ لاک ڈاؤن کی منطق سمجھ نہیں آتی، موجودہ صورتحال میں کم از کم پندرہ دن کیلئے کرفیو جیسا لاک ڈاؤن لگانا ہوگا، وزیراعظم پہلے خود حالات کی سنگینی کو سمجھیں پھر عوام سے گلہ کریں۔
معاشی گروتھ کے بغیر ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے، حکومت اخراجات کم کرنے کیلئے اپنے غیرترقیاتی اخراجات کم کرے، کارپوریٹ ٹیکس اور سیلزٹیکس کم کرنے سے ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا۔ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ حالیہ بجٹ پچھلے سال کے بجٹ کی کاربن کاپی ہے، نہ تنخوایں بڑھیں نہ پنشن بڑھی بلکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی کٹوتی کردی گئی ہے، کورونا کے بعد ایک کروڑ گھروں اور پچاس لاکھ ملازمتوں کو بھول جانا چاہئے۔
حکومت نجی شعبے میں زراعت، برآمدات اور کنسٹرکشن میں ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے کوشش کررہی ہے، ان سیکٹرز میں ملازمتیں پیدا ہونا ہی عوام آدمی کیلئے ریلیف ہوگا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتی اسی لئے کورونا کے متوقع اعداد و شمار سے آگاہ کردیا ہے،ہماری تحقیق کے مطابق جولائی تک کورونا کے دس لاکھ کیسز ہوسکتے ہیں، کورونا کے پھیلاؤ روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو انتظامی طور پر یقینی بنایا جائے گا۔
احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدآمد ہوگیا تو ان اعداد و شمار میں کافی کمی ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزاکا کہنا تھا کہ آج سے دو تین گنجان آبادی والے علاقوں کا دو ہفتے کیلئے لاک ڈاؤن کیا جائے گا، ہیلتھ کیئر کی استعداد بڑھانے کیلئے بھرپور تیاری کررہے ہیں۔
جون کے آخر تک صوبوں میں ایک ہزار سے زائد بیڈزکا اضافہ کریں گے، جولائی میں بھی اتنے ہی یا اس سے زیادہ بیڈز بڑھائیں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ایسا نظام بنارہے ہیں کہ آر ایم ایس کے ذریعہ اسپتالوں میں گنجائش کا علم ہوسکے گا، بڑے اسپتالوں کے چھوٹے اسپتالوں میں بھی مریضوں کو بھیجا جاسکتا ہے۔
اگر شہر کے اسپتالوں میں جگہ نہ ہو تو دوسرے شہر بھی مریض کومنتقل کرسکتے ہیں، حکومت وسائل، استعداد اور تجزیے کے مطابق چیزیں پلان کرتی ہے، پوری دنیا کا جائزہ لیں تو کورونا کا عروج پانچویں مہینے تک ہوتا ہے پھر استحکام اور پھر زوال شروع ہوتا ہے، کورونا کے ساتھ معیشت چلانے کیلئے ٹارگٹڈ ہاٹ اسپاٹس پر لاک ڈاؤن کرناہوگا۔