• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (طارق بٹ) کووڈ 19 نے چند سے کچھ زیادہ نئے معمولات میں اضافہ کیا ہے جو وبائی مرض سے متاثر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کیلئے پہلے نا معلوم تھے۔ نئے معمولات میں سے بعض تو خاص و عام سب کیلئے واقعی میں ذہنی اذیت کا باعث ہیں۔

ایک انتہائی پریشان کن نیا معمول یہ ہے کہ قریبی رشتہ داروں کیلئے اپنے پیاروں کی نماز جنازہ تک میں شرکت کرنا ممکن نہیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ اگر کوئی اپنے عزیز یا دوست کی تقریب جیسے کہ شادی میں نہ جائے تو اسے معاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں میت جیسے افسوسناک موقع پر ذاتی طور پر تعزیت کرنے اور جنازوں میں شرکت کرنے سے دور رہنا ناقابل قبول ہوتا ہے۔

خاص طور پر قریبی لوگوں کی عدم موجودگی کو ناگوار سمجھا جاتا ہے۔ کووڈ 19 کے پھیلنے کا خوف اتنا خوفناک، وسیع اور درست ہے کہ جن کے والد ، والدہ ، بیٹا یا بیٹی انتقال کر جائیں تو وہ خود اپنے قریبی خاندانی افراد کے ساتھ ساتھ دوستوں سے بھی جنازے کی رسم کا حصہ نہ بننے کو کہتے ہیں۔

ایسے غمزدہ افراد ان سے یہ گزارش بھی کرتے ہیں کہ وہ تعزیت کے لئے ان کی جگہوں پر نہ آئیں۔

تازہ ترین