کراچی(امداد سومرو) ٹیگانی قبیلے کے سربراہ، سردار ٹیگھو خان ٹیگھانی کو امن ایوارڈ دینے کے خلاف ڈی آئی جی لاڑکانہ کے نوٹس کے بعد آئی جی سندھ مشتاق مہر نے ایس ایس پی کندھ کوٹ اور ایس ایس پی شکار پور کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرئیے ہیں، ٹیگانی قبیلے کے سربراہ کے خلاف سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
قبل ازیں ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے سردارٹیگانی کو دیئے جانے والے امن ایوارڈ کی کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے نوٹس جاری کیا تھا۔
علاوہ ازیں شہید ڈی ایس پی راؤ شفیع کے بیٹے راؤ احمد شفیع نے سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ملزم کے خلاف درخواستیں دائر کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مشکوک کردار کی شخصیت کو پولیس کی طرف سے امن ایوارڈ دیا گیا ہے جو کہ قانون کی توہین ہے۔
زرائع نے بتایا ہے کہ پولیس کی طرف سے امن ایوارڈ دیئے جانے کے بارے میں حکام بالا سے بغیر اجازت ایوارڈ دینے پر پولیس حکام کو ناراض کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے اظہار وجوہ نوٹس میں پوچھا ہے کہ ٹیگانی کی کونسی خدمات ہیں جس پر انہیں بلا اجازت ایوارڈ دیا گیا ہے۔
چیف منسٹر سندھ کے زرائع نے بتایا ہے کہ حکومت سندھ اس معاملے میں سخت اقدام کرنے والی ہے۔رابطہ کرنے پر سردار ٹیگانی کا کہنا تھا کہ وہ ایک مہذب شہری ہیں، قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں ان کا جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔