آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سلیم کاوش

سنا ہے استانیاں کنجوس ہوتی ہیں

بڑے سے پرس میں چوٹی چیزیں سنبھالنے والی خواتین نما لڑکیاں فل اسکیپ سائز کے کاغذ کو پرس میں رکھنا انہیں خوب آتا ہے۔

اچھے خاصے نئے اور فریم کرانے والے نوٹ کی بھی تین ،چار تہیں کر کے زپ والی چھوٹی جیب میں رکھتی ہیں ۔کیا مساواتی مزاج پایا ہے ۔

مختلف علاقوں کے سفری اخراجات کرایوں کی تفصیلات اور نرخ ان کے پوروں پر ہوتے ہیں۔

جتنی یہ میٹنگز اٹینڈ کرتی ہیں، اگر وزارت کی بنیاد ان پر ہو تو وزیر اعلٰی سے کم درجے کی مستحق نہیں،بلکہ وزیر ان کے سامنے نائب قاصد لگیں۔

ان کے پاس سے ہر گزرنے والے کو یہ کام کہہ دیتی ہیں۔کئی دفعہ بعد میں معذرت کر لیتی ہیں۔ ’’سوری انکل میرا خیال تھامیرا بچہ میرے پاس سے گزرا ہے۔‘‘

کلاتھ مارکیٹوں کا گوگل اور کلیئرنس سیل کی تازہ ترین معلومات ان سے بہتر کوئی نہیں رکھتا۔

بے فکری کی نیند سونے کی عمر سے فکرمندی اور ذمہ داری سے جاگنا ان کی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے۔

گھریلو حالات یا تعلیمی ضروریات کے پیش نظر تدریس کے شعبہ سے منسلک ہوں یا شوقیہ اور وقت گزاری کے لیے، ان میں احساس ذمہ داری، خود انحصاری اور قابل انحصار ، قابل اعتبار و انحصار خصائل کا پیدا ہونا قدرتی ہو جاتا ہے۔

اوائل عمری کی فطری رونق اور میک اپ کے ساتھ اسکول جانا، ساتھی معلمات کے مثبت اور منفی رویوں کو برداشت کرنا، افسران بالا کی بے موقع اور کبھی کبھی بے تکی سرزنش کو تحمل سے صرف اس لئے سننا کہ مالی اخراجات پورے کرنے میں تعطل نہ آئے۔ یہ معمولی بات نہیں۔

قبل از وقت ذہنی پختگی ان کی پیشانی اور چہرے پر اپنے نقوش چھوڑ دیتی ہے۔

صنف نازک ہو کر جب یہ اپنی پنشن تک کا حساب کتاب کرتی ہیں تو میرے جیسا مضبوط آدمی بھی ان کے عزم و ہمت کے سامنے ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔

مجبور و لاچار استانیاں جب اپنی ملازمت کے تقاضوں کے تحت رنگ برنگے لباس پہن کر نکلتی ہیں تو ان کے اندر کی پریشانیاں ان سب رنگوں کو پھیکاکر دیتی ہیں۔یہ پھیکے رنگ صرف حساس لوگوں کو نظر آسکتے ہیں یا پھر مجھے

ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی معاشی ضروریات ان کو تھکنے یا سست ہونے نہیں دیتیں۔

استانیوں کی ایک بدقسمتی یہ ہے ان کی تعلیم اور ملازمت ان کی انتہائی پر کشش صلاحیت ہونے کے باوجود ان کے رشتے میں مشکلات کا باعث بنتی ہے۔

میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جہیز اور نکاح نامے کے ساتھ ساتھ ایک اقرار نامہ بھی ان کے ساتھ سسرال جاتا ہے، جس کے تحت یہ اس گھر میں باقاعدہ مالی ذمہ داریوں میں شراکت کرتی ہیں اور گھر کا ایک معاشی ستون ثابت ہوتی ہیں۔

ان کی دوسری بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی تعلیم اور ملازمت کے باوجود خاندان کے اندر اور باہر نکمے ، نکھٹو، سست اور کاہل لڑکوں کے رشتے آتے ہیں۔

شادی کے بعد ان کی محنت مردوں سے دو گنا اور ان کی عزت کسی گھریلو عورت سے بھی آدھی رہ جاتی ہے ۔ان کے لیے چوبیس گھنٹوں میں 48 گھنٹوں کا شیڈول بنایا جاتا ہے۔

گھر،اسکول، بچے اور خاندان میں ہونے والی تقریبات کا گھن چکر اور بنی یہ صنف نازک!!

میں نے ان استانیوں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے اپنی تنخواہ اسکیل اور عہدہ بڑھانے کے لیے بچوں کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت بھی بڑھائی۔

پئرنٹس ٹیچرز میٹنگ کی تاریخ بچوں کی ماؤں کی بجائے والد حضرات کو زیادہ یاد رہتی ہیں۔

ہمیں یہ تو فخر ہوتا ہے کہ ہماری بیوی ڈاکٹر ، پروفیسر یا بینکر ہے،کبھی یہ بھی سوچا کہ کسی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کن حالات میں گھر سے نکل کر ہمارے بچوں کو پڑھاتی ہیں؟

استانیاں، اگر معاشرے کے برے ماحول سے دلبرداشتہ ہو کر شعبہ تدریس میں نہ آتیں تو آج ہمارے گھروں میں جہالت ہوتی۔

ہماری بچیوں اور خواتین کو پڑھانے کے لیے دوسروں کی خواتین گھروں سے باہر آئیں اور انہوں نے جتنا وقت دیا ہمیں اتنا نہیں تو تھوڑا وقت ضرور لوٹانا چاہیے۔

اپنی باصلاحیت خواتین کو معاشرے میں خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے ضرور موقع فراہم کرنا چاہیے۔

آئیے عہد کریں کہ استانی کسی بھی جگہ پر ہو ہمارے بچوں کو پڑھائیں یا نہ پڑھائیں ،ان کا احترام کرتے ہوئے انہیں ایک محفوظ اور با عزت ماحول دیں۔

استاد یا استانی کا احترام ہی ہمیں با ادب نئی نسل اور اس کا روشن مستقبل دے سکتا ہے۔