اسلام آباد(اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، یکساں نصاب تعلیم کو مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔
مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصاً مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کو ہنرمند بنانے کے حوالہ سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کے حوالہ سے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔
کورونا کی صورتحال کے پیش نظر تمام صوبائی وزراءتعلیم کی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے ضمن میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالہ سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالہ سے تحفظات کو دور کرنے کے حوالہ سے بھی حکمت عملی وضع کی جائے۔
دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو اسلام آباد میںنیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر ( این سی او سی ) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کیخلاف متوازن انداز میں اقدامات اٹھائے ہیں‘ہر کسی کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ہمیں آئندہ دو ماہ متحد و منظم ہو کر وباء کیخلاف لڑنا ہوگا۔
ہمارے اقدامات بحران کی نوعیت اور مفاہمت کے ذریعے رد عمل کی کامیابی کا تعین کریں گے‘مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔ اسپتالوں میں ادویات،آکسیجن اور بستروں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل طورپر یکجہتی قائم کی جائے،تمام پاکستانی عمر رسیدہ اور بیمار افراد کو محفوظ بنائیں،خاص طور پر ایسے افراد جو دل اور شوگر کے امراض میں مبتلا ہیں۔