• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جان بولٹن کی کتاب میں ان کے ازلی مخالف حلقوں کی گہری دلچسپی

نیویارک (عظیم ایم میاں) صدر ٹرمپ کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جان بولٹن، سابق ری پبلکن صدر جارج بش (جونیئر) کے دور میں اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر کے طور پر بھی رہے ہیں اور سخت قدامت پرست ری پبلکن ہیں اور لبرل حلقے اورڈیموکریٹ لیڈروں کی تنقید بلکہ مخالفت کا شکار رہے ہیں لیکن اب چند دنوںمیں ان کی ریلیز ہونے والی کتاب لبرل حلقوںمیں سب سے زیادہ دلچسپی اور مانگ کا باعث ہے۔ 

جان بولٹن نے اپنی اس کتاب میں اپنے تجربات مشاہدات اور حقائق کو بیان کرتے ہوئےصدر ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور دیگر معاونین کے بعض ریمارکس بھی شامل اشاعت کئے ہیں لہٰذا صدر ٹرمپ نے اس کتاب پر پابندی عائد کرنے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔ 

صدر ٹرمپ کی عدالت سے پابندی کی درخواست نے جان بولٹن کی اس کتاب کی نہ صرف ڈیمانڈ بڑھادی ہے بلکہ جان بولٹن کے مخالف اور تنقید کرنے والے حلقوںمیں بھی اس کتاب کے ریلیزہونے سے قبل ہی اس کتاب کے چرچے ہیں۔ 

امریکی میڈیا کے بعض اخبارات نے کتاب کے ریلیز ہونے سے قبل ہی کتاب کی کاپی حاصل کرکے صدر ٹرمپ پر تنقیدی الفاظ پر مبنی اقتباسات شائع کردیئے ہیں۔ 

جان بولٹن کے جنگ/جیو سے خصوصی انٹرویوز ریکارڈ کاحصہ ہیں۔ انہوں نے یہ انٹرویوز صدر ٹرمپ کی نامزدگی والے ری پبلکن کنونشن اور اس سے قبل نمائندہ جنگ/جیو کو دیئے۔

تازہ ترین