کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر قوم کو ٹرکی بتی کے پیچھے لگادیاگیاہے‘تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے گذشتہ سال کی نسبت کم ریونیو جمع کیا‘ایف بی آر کی اس نااہلی کا خمیازہ صوبوں کو بھگتنا پڑتاہے۔
یہ وفاقی حکومت کی نااہلی ہے اور اپنی نااہلی پر حکومت کو کورونا مل گیا ہے‘وفاق نے ہماری آمدنی پر 229 ارب روپے کا ڈاکا ماراہے‘سندھ کو وفاق سے اس سال229ارب روپےکم ملیں گے‘اسے ڈاکانہ کہوں تو کیا کہوں‘ارلی لاک ڈاؤن‘اسمارٹ لاک ڈاؤن یا موٹالاک ڈاؤن کچھ نہیں ہوتا۔
لاک ڈاؤن صرف لاک ڈاؤن ہوتا ہے ‘انہوں نے وضاحت کی کہ پنشن میں بھی تنخواہوں کے تناسب سے اضافہ ہوگا‘صوبائی حکومت جو فیصلہ کریگی بلدیاتی انتخابات اس طریقے سے ہونگے‘این ایف سی میں خرابی نہیں ہے بلکہ وفاقی کلیکشن کی خرابی ہے‘ کلیکشن ہمیں دیں ہم کرکے دکھاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نےپوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال متوازن بجٹ پیش کیاتھا‘ہم بجٹ سے بہت زیادہ مطمئن نہیں‘وفاقی حکومت کواپنی نا اہلی نظرآرہی ہےلیکن یہ ماننےکوتیارہیں‘اپنی نا اہلی کو کرونا پر ڈالنا درست نہیں۔
وفاق کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کم کرنا پڑا ہے‘سوائے ہیلتھ کےکسی شعبے میں نئی اسکیم نہیں دی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کل کہا گیا یہ عام فلو ہے اب کہہ رہے ہیں خطرناک ہے، اب کہا جارہا ہے قوم جاہل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ وفاق کے اعلان کردہ اعدادوشمار بھی درست نہیں ہیں، وفاق نےابھی تک سندھ کو 606 ارب کے مقابلے میں553 ارب روپے فراہم کیے ہیں جبکہ سندھ کو کہا جارہا ہے کہ اگلے سال اسے 760 ارب روپے ملیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا متاثرین کو 23 ارب کیش ریلیف سہولت دیں گے، 5 ارب انڈسٹریز کی معرفت چھوٹے کاروبار کو قرضے دیں گے جو کورونا سے متاثرہوئے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ ہم نے وفاق سے مکمل طور پر تعاون کیا ہے، وزیراعظم کی حیثیت سے جوبھی فیصلے خان صاحب نے کئے ہم اس کے پابند ہیں، ہم نے ان کا احترام کیا۔