آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سرجری کے منتظر مریضوں کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا سلسلہ شروع

راچڈیل (نمائندہ جنگ)کورونا وائرس لاک ڈائون کے باعث برطانیہ میں مختلف امراض میں مبتلا سرجری کے منتظر مریضوں کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، ماہرین صحت کے مطابق آنے والے وقت میں انتظار کرنے والے مریضوں کو ترجیحی بنیادوں پر سرجری کیلئے وقت دیا جا سکتا ہے مگر یہ محدود پیمانے پر ہوگا ،ہسپتالوں میں انفیکشن کے پیش نظر سخت اقدامات لاگو کرنا ہوں گے، مارچ کے وسط میں کورونا وائر س کے باعث ہنگامی حالات کے پیش نظر ہزاروں مریضوں کی سرجری کو التوا رکھا گیاتھا، حالات میں بہتری کے امکانات شرو ع ہونے پر مریضوں کی سرجری کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے، توقع ظاہر کی جا رہی ہے آئندہ چند ماہ کے دوران این ایچ ایس کو مریضوں کی سرجری کیلئے دبائو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔معروف برطانوی آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما پروفیسر فلپ ٹرنر نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ہپ اور گھٹنے کی تبدیلی سمیت دیگر آپریشنز کے مریضوں کو ترجیح دی جا رہی ہے ایسے مریض جنہیں طویل عرصہ سے سرجری کیلئے انتظار کا سامنا ہے، کی مشکلات کا ازالہ ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مریض چھ ماہ سے بھی زائد عرصہ سے باری کے منتظر ہیں تاہم معمول کی خدمات دوبارہ شروع کرنے کیلئے دو سال تک کا وقت درکار ہوسکتا ہے۔ این ایچ ایس کے اعدادو شمار کے مطابق 2019کے مقابلے میں ایک سال سے زائد عرصہ سے انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد میں دس گنا تک اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔رائل کالج آف سرجنز کے صدر پروفیسر ڈیریک الڈرسن نے کہا کہ زیر التواء مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ باعث تشویش ہے، مریضوں کی بڑی تعداد آرتھوپیڈک تبدیلیوں کی خواہشمند ہے مگر علاج کیلئے انہیں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نفیلڈ ٹرسٹ کے تھنک ٹینک کے چیف ایگزیکٹو نائجل ایڈورڈز نے کہا کہ مریضوں کو معمول کے طریقہ کار کیلئے 18ہفتوں سے زائد انتظار نہیں کرنا چاہیے، آرتھو پیڈک سرجنز کو اپنے زیر التواء مریضوں کی فہرست پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ برٹش آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے اعدادوشمارکے مطابق اپریل میں آرتھو پیڈک طریقہ کار کے تحت علاج کرنےوالے مریضوں کی تعداد میں پہلے سے موجود دبائو کے باعث 80فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔

یورپ سے سے مزید