• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

علیحدہ سیکریٹریٹ ہی جنوبی پنجاب کے لوگوں کی مشکلات کم کرسکتا ہے

جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ دینے کا معاملہ بظاہر ابھی بھی ہنوز حل طلب ہے ،مگر یکم جولائی گزرگئی ،مگر اب کہا جارہا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتہ میں اس سیکرٹریٹ کو فعال کیا جائے گا ،ادھر وزیراعلیٰ پنجاب نے پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے عہدے داروں و اراکین اسمبلی سے ملاقات کی ، جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کے ناموں کا اعلان بھی کردیا گیا ،اب دیکھتے ہیں کہ یہ نیا وعدہ کس حد تک عملی جامہ اختیار کرتا ہے،کیسی عجیب بات ہے کہ نئے بجٹ کا اطلاق یکم جولائی کو ہوتا ہے ،اس ڈیڑھ ارب روپے کو منتقل کئے بغیر یکم جولائی سے علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کیسے کر دیا گیا؟

یہاں جب انتظامیہ کے نمائندوں سے پوچھا گیا کہ جنوبی پنجاب علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا کتنا امکان موجود ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس مقصد کے لیے جو بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ ٹریژری برانچ میں موصول ہی نہیں ہوا ،جب ہوگا، تو کوئی پیش رفت کی جائے گی، ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ بھی طے نہیں ہوسکا کہ علیحدہ سیکرٹریٹ کے اختیارات اور قواعد و ضوابط کیا ہوںگے ؟ کیا یہاں تعینات ہونے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی ،چیف سیکرٹری اور آئی جی کے مکمل اختیارات استعمال کر سکیں گے یا انہیں حتمی فیصلہ کے لیے پھر چیف سیکرٹری یا آئی جی کی منظوری لینا پڑے گی؟ 

اگر یہ صورتحال ہوئی تو پھر جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے’’ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ جیسی صورتحال پیدا ہوجائے گی کیونکہ لوگوں کو یہاں کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل آئی جی کے فیصلوں کے خلاف پھر چیف سیکرٹری اور آئی جی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا ،غالباً یہی وہ رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے یہ معاملہ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا، مگر سوال یہ ہے کہ صوبہ کے وزیر اعلی ایسے اعلان کیوں کرتے ہیں یا ایسے بیانات کیوں جاری کرتے ہیں کہ جن کے بارے میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، بہرحال اراکین اسمبلی اس بات پر بھی ناخوش ہے کہ ملتان کی بجائے بہاولپور میں سیکریٹریٹ قائم ہوگا گویا طارق بشیر چیمہ کی خواہش پوری ہوگئی ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ علیحدہ سیکریٹریٹ کے قیام سے ہی جنوبی پنجاب کےلوگوں کی مشکلات کم ہوسکتی ہے ۔ 

لوگ اس حکومت کی بڑی بڑی ناکامیاں دیکھ کر اس بات کی قائل ہو چکے ہیں کہ تحریک انصاف کوئی بڑا قدم اٹھانے سے قاصرہے ، خاص طورپر تیل کے معاملے میں حکومت کی بدترین ناکامی نے نہ صرف اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عوام کا اس پر اعتماد بھی متزلزل ہو گیا ہے ،کون نہیں جانتا کہ پیٹرول کی قیمت کم ہوئی تو اسے غائب کر دیا گیا اور حکومت اپنی تمام تر کوششوں اور قوت کے باوجود پیٹرول تک عوام کی رسائی کو ممکن نہ بنا سکی، بالآخر ایک ایسا فیصلہ دیکھنے میں آیا کہ جس کی پہلے کوئی مثال دیکھنے میں نہیں ملی، اوگرا سے منظوری اور یکم تاریخ کا انتظار کئے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حیران کن حد تک بڑھا دی گئیں ، ملتان اور جنوبی پنجاب جو پچھلے 25 دن سے پیٹرول کی عدم دستیابی کا شکار تھا، یکایک ایسا ہوا کہ قیمتیں بڑھتے ہی ہر جگہ پیٹرول دستیاب ہو گیا،گویا یہ بات بالکل واضح ہے کہ پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور اس کا مقصد حکومت کے اس فیصلے کو ناکام بنانا تھا۔ 

جو اس نے عوام کو کو ریلیف دینے کےکیا۔اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ موجودہ حکومت جس کی سربراہی عمران خان کے پاس ہے، کوئی ایسا فیصلہ کرنے پر قادر نہیں، جو عوام کو ریلیف دے سکے، بلکہ مافیاز اس سے زیادہ طاقتور ہیں ایسے ہر فیصلے کو اپنےہتھکنڈوں سے ناکام بنا دیتے ہیں، سو اب یہ بات عوام کے دل و دماغ میں بیٹھ چکی ہےکہ تحریک انصاف کی حکومت کے اعلانات پر یقین نہ کیا جائے، وہ چاہے جنوبی پنجاب میں علیحدہ سیکرٹریٹ کے اعلان کے ہوں یا پیٹرول، آٹا ،چینی سستا کرنے کےہوں ، البتہ مقامی انتظامیہ اور تحریک انصاف کے مقامی ارکان اسمبلی طفل تسلیوں کے ضمن میں عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ مفروضے گھڑتے رہتے ہیں، مثلاً ضلعی انتظامیہ سے علیحدہ سیکرٹریٹ کے بابت پوچھنے پر بتایا گیا کہ ہم نے اپنی طرف سے جوڈیشل کمپلیکس میں انتظامات کر رکھے ہیں،جبکہ وزیر اعلی کے ترجمان ایم پی اے محمد ندیم قریشی یہ کہتے پائے گئے کہ علیحدہ سیکرٹریٹ کے کام کرنے کے طریق کار کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونے والا ہے اور امکان ہے کہ دس جولائی سے سیکرٹریٹ کام شروع کر دے گا، دیکھیں’’ کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک‘‘ ۔ 

ادھرکورونا کا معاملہ ہنوز تباہی و بربادی کا نقشہ پیش کر رہا ہے ،نشتر ہسپتال ملتان میں اب تک 135 کے قریب اموات ہوچکی ہیں اتنے بڑے ہسپتال اور ملتان کے دیگر ہسپتالوں میں اس وقت صرف 22 وینٹی لیٹرز فعال ہیں جبکہ لاہور میں ان کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد ہے، اندرونی کہانی یہ ہے کہ نشتر ہسپتال اور محکمہ صحت کے پاس تقریبا 55 وینٹی لیٹرز جو این ڈی ایم اے اور دیگر تنظیموں کی طرف سے فراہم کیے گئے غیر فعال پڑے ہیں اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہیں چلانے کے لئے مستند اور تجربہ کار عملہ موجود نہیں، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملتان اس حوالے سے بارہا نشتر انتظامیہ اور صحت حکام سے ملاقات کرچکے ہیں مگر ہر بار ایک ہی بہانہ بنا کر اس معاملے کو لٹکایا جارہا ہے۔

حالانکہ کورونا کو آئے تین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، حیران کن امر یہ ہے کہ نشتر انتظامیہ ابھی تک اپنے عملہ کو تربیت نہیں دے سکی کہ وہ وینٹی لیٹرز کو چلا سکیں، اس کا کتنا بڑا نقصان ہو رہا ہے کسی کو اس کی پرواہ ہی نہیں ہے ،حکومت پنجاب کی جانب سے کورونا کے لیے جو خصوصی ڈاکٹر بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی تھی اس پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہو پا رہا ،چند ڈاکٹرز جو بھرتی کئے گئے انہیں تین ماہ سے تنخواہ ہی نہیں ملی، انسانی جانیں ضیائع ہورہی ہیں اور وینٹی لیٹرز موجود ہونے کے باوجود ان کی تنصیب نہیں ہو رہی، آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ؟

آخر کیوں محکمہ صحت و نشتر انتظامیہ وینٹی لیٹر ز خراب کرنے میں تساہل سے کام لے رہے ہیں اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے ۔ فوری نوٹس تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی لیا کہ جب انہوں نے نشتر ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے لیے حفاظتی سامان کی بڑی کھیپ بھیجی، سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا یہ سامان لے کر ملتان آئے اور انہوں نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی بیٹے ، ایم پی اے علی حیدر گیلانی کے سپرد یہ سامان کیا ،تاکہ وہ اسے نشتر انتظامیہ تک پہنچا سکیں ، اس میںحفاظی کٹس کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ سامان بھی موجود ہے ، سوال یہ ہے کہ جس طرح نشتر انتظامیہ کو مختلف ذرائع سے ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ وہ قیمتی وینٹی لیٹرز کو اپنے سٹور میں رکھ کر کورونا کے شدید حالت میں موجود مریضوں کو سہولت فراہم نہیں کر رہی۔سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان میں پریس کانفرنس کی ،اس میں ان کا مخاطب وہ قوتیں تھیں ،جو بقول ان کے ملک میں سیاہ و سفید کی مالک ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین