آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آٹے جیسی انتہائی اہم بنیادی ضرورت کی قیمت کا گزشتہ 21ماہ کےدوران 65فیصد بڑھ جانا، ایک زرعی ملک کیلئے بلاشبہ تشویشناک ہے، ستمبر 2018ء سے اب تک 20کلوآٹے کے تھیلے پر 430روپے اضافہ دیکھنے میں آیا۔جبکہ گزشتہ چار ہفتوں میں اس تھیلے پر 31فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 810روپے سے 1070روپے کا ہو گیا۔حیران کن امر یہ ہے کہ محکمہ خوراک نے 6.9ملین میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کر رکھی تھی اور آٹے کا تھیلا ستمبر 2018ء میں 640روپے (ایکس ملز قیمت) کا تھا۔ اب یہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں 1050روپے سے 1074روپے تک جبکہ خیبرپختونخوا میں 1100روپے سے لیکر 1150روپے میں بک رہا ہے۔ دوسری جانب ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 2019-20میں مہنگائی کی اوسط شرح 10.74فیصد رہی جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے، ادارے کی رپورٹ کے مطابق روزانہ استعمال کی ہر قابل ذکر شے کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔ اس امر کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت نے حالات پر قابو پانے کی مقدور بھر کوششیں کی ہیں تاہم بہ اعتبار مہنگائی پاکستان کا ایشیا میں نمایا ں مقام پر ہونا اس امر کا غماض ہے کہ حکومتی اقدامات ثمربار نہیں ہورہے۔بھوک اور بیروزگاری کو کورونا سے بھی زیادہ خطرناک قرار دینے والوں کی بات کو بھی اس لئے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ یہی عوام معاشرے میں بے یقینی و اضطراب کے پھیلائو میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ خالی پیٹ کو کوئی وعدہ، دلاسایا خوشنما نعرہ نہیں بھرسکتا اس کےلئے روٹی درکار ہوتی ہے اور یہ روٹی حکومت کو عوام کی دسترس میںلانے کیلئے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا کہ یہ اس کا فریضہ بھی ہے۔گندم اگر پہلے سے وافر مقدار میں موجود تھی تو پھر آٹے کی قیمتوں میں اضافہ چہ معنی دارد؟ حکومت فوری طور پر اس کا نوٹس لے اور آٹے کی قیمتیں کم کروائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998