آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بوقلمونی اور تنوع انسانی معاشرے کا حسن ہے۔ کسی فرد یا جماعت کی سوچ اور نظریے سے مکمل اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ نظریاتی اَکھاڑے آباد رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ فکری دنگل اور علمی کشتیاں جاری و ساری رہنے میں کوئی قباحت نہیں مگر یہ سب مناقشے، مجادلے اور مباحثے تہذیب و شائستگی کیساتھ اس توقع سے ہونا چاہئیں کہ کوئی بات حرف آخر نہیں اور شعوری ارتقا کے نتیجے میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک فکری محاذ کے سپاہی کایا کلپ کے نتیجے میں فریق مخالف کا علم تھام کر اپنے سابقہ موقف پر نظر ثانی کرتے دکھائی دیں۔ زوال وانحطاط کے اس دور میں اگر کوئی شخص نظریاتی ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی نظریے سے کیوں نہ ہو، تو اس کی قدر کیجئے۔ آپ کے بدترین مخالفین بھی اگر صاحبِ کردار ہیں، موقع پرست نہیں اور اپنی اقدار و روایات اور افکار ونظریات پر صدقِ دل سے ایمان رکھتے ہیں تو اس بات کو عہدِ کم ظرف کی سب سے بڑی غنیمت خیال کیجئے۔ یہ سب خیالات تب سے دل و دماغ میں حشر بپا کئے ہوئے ہیں جب سے جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کے سانحہ ارتحال کی خبر موصول ہوئی ہے۔ یادوں کے ہجوم اور باتوں کی بھیڑ میں بھٹکتے کتنے دن گزر گئے۔ سید منور حسن کا شمار ہمارے معاشرے کے ان افراد میں کیا جا سکتا ہے جو کسی فکر اور سوچ کو اس کی مقبولیت کے باعث نہیں اپناتے، حالات کے تراشیدہ سانچوں میں نہیں ڈھل جاتے بلکہ اپنی قوتِ ارادی سے یہ سانچے بدل جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے شعبدہ باز وں اور منافقوں کی کوئی کمی نہیں، جو ہوا کا رُخ دیکھ کر اپنا قبلہ متعین کرتے ہیں اور وہ دعوت جس کی تبلیغ پوری دنیا کو کرتے ہیں، اپنے بچوں کو اس سے ایسے بچا کر رکھتے ہیں جیسے منشیات فروش اپنی اولاد کو دھندے کے اردگرد نہیں پھٹکنے دیتے۔ مگر سید منور حسن اس منافقت بھری دنیا کے انسان نہیں تھے۔ بائیں بازو سے دائیں بازو تک کے سفر کی روداد وہ خود سنایا کرتے تھے۔ منور حسن طلبہ تنظیم این ایس ایف سے منسلک تھے اور طے یہ ہوا کہ حریف طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ نوجوانوں کو ہدف بنا کر اپنی طرف راغب کیا جائے اور این ایس ایف کا ہر ایک کارکن تین طلبہ سے اپنا ’’ربط‘‘ رکھے۔ منور حسن کے روابط میں شامل دو طلبہ تو ترنوالہ ثابت ہوئے مگر تیسرا خود شکاری نکلا اور اس نے قائل ہونے کے بجائے اپنی طرف مائل کر لیا۔

جماعت اسلامی میں کئی بار اس حکمت عملی پر بات ہوئی کہ اگر ارتجائی تحریک کے نتیجے میں معاشرتی تبدیلی برپا کرنا ہے تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی فکر کے حامل افراد کو تیار کرنا ہوگا۔ کئی بار یہ طے کیا گیا کہ ترجیحاً اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے والے طلباء و طالبات کو سول سروس، میڈیا، جوڈیشری اور دیگر شعبہ جات کے لئے تیار کیا جائے تاکہ جب یہ تربیت یافتہ لوگ ہر طرف سرایت کر جائیں تو انقلاب کی راہ ہموار ہو جائے۔ منور حسن اس فلسفے اور سوچ کے شدید مخالف رہے۔ ان کا خیال تھا کہ جو لوگ مولانا مودودی کی تحریک کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ سب کچھ چھوڑ کر تحریک کو اپنا ’’کیریئر‘‘ بنائیں۔ آپ اسے شدت پسندی کہیں یا پھر مثالیت پسندی قرار دیں مگر وہ ایسے ہی تھے سیاسی مصلحتوں سے کوسوں دور، اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے انسان۔ وہ انتخابی سیاست کے بجائے انقلابی حکمت عملی پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں معذرت خواہانہ انداز اور لب و لہجہ پسند نہ تھا۔ جس بات کو ٹھیک سمجھتے اسے ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کے قائل تھے۔ کاٹ دار لہجے میں لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے والے سید زادے سے متعلق جماعت اسلامی کے حلقوں میں یہ بات مشہور تھی کہ کارکن ضائع ہوتا ہے تو ہو جائے مگر جملہ ضائع نہ ہو۔ ایک تقریب میں آمنا سامنا ہوا تو کئی افراد کی موجودگی میں اچانک سوال داغ دیا، ’’ارے بھائی! آپ کیوں لکھتے ہیں کالم؟‘‘میں نے جواب دیا ’’بس جناب! عِلت ہے لکھنے کی ‘‘۔ کھلکھلا کر ہنس دیئے اور کہنے لگے، بالکل، ایسے سوال کا تو ایسا ہی جواب دیا جا سکتا ہے۔ نت نئی ایجادات نے روابط کے انداز واطوار بدل دیے مگر منور حسن نے قلم و قرطاس سے رابطہ برقرار رکھا۔ جب قیم جماعت تھے تو میں نے اپنی کتاب ارسال کی۔ ٹیلیفون کرنے کے بجائے چند روز بعد خط لکھ کر اپنی رائے سے نوازا۔

سید منور حسن کے خیالات سے سینکڑوں نہیں ہزاروں اختلافات ہو سکتے ہیں مگر میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ وہ اپنے عہد کے سقراط تھے جنہیں اصحابِ جماعت نے مقتدر حلقوں کی ناراضی کے خوف سے زہرکا پیالہ پینے پر مجبور کر دیا۔ مارچ 2014ء میں نئے امیر جماعت کے انتخاب کا موقع آیا تو باقاعدہ مہم چلائی گئی اور پولیٹکل انجینئرنگ کے ذریعے اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ سید منور حسن کو مسترد کر دیا جائے۔ مولانا مودودی کے بعد میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد اس وقت تک جماعت اسلامی کے امیر رہے جب تک انہوں نے معذرت نہ کر لی۔ سید منور حسن نے بھی پیرانہ سالی کاعذر پیش کرتے ہوئے انتخابات سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی۔ اگر یہ پیشکش قبول کر لی جاتی تو تب بھی بھرم رہ جاتا مگر حالات کی دہلیز پر سجدہ نشین تقویٰ کے پہاڑ لرز گئے اور انہوں نے سید زادے کے افکار و نظریات کا بوجھ اُٹھانے سے انکار کر دیا۔ وہ چاہتے تھے تو ’’یو ٹو بروٹس‘‘ کی آواز لگا سکتے تھے مگر انہوں نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ پانچ ہزار ارکان کے بیلٹ پیپر کیوں موصول نہیں ہوئے؟ جب یہ اعلیٰ ظرف انسان چپ چاپ منصورہ سے رخصت ہو رہا تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ ’’صبح منور شام منور، روشن تیرا نام منور‘‘ کے نعرے لگانے والے کیا ہوئے؟

سید منور حسن کے سانحہ ارتحال کو کئی روز گزر گئے۔ وہ جو منور تھا، نہیں رہا مگر اپنے دوست آصف محمود کے الفاظ مستعار لوں تو میں ابھی تک اس ادھیڑ بن میں ہوں کہ کس سے تعزیت کی جائے؟ کسے پرسہ دیا جائے؟ ان اصحابِ جماعت سے جنہوں نے آستینوں میں بت چھپا رکھے تھے؟ جنہوں نے اپنی جماعت کے سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیا؟