آپ آف لائن ہیں
پیر12؍ذی الحج 1441ھ 3 اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مکہ مکرمہ گورنریٹ نےحج سے متعلق صحت ضوابط جاری کردیے


مکہ مکرمہ گورنریٹ نے وبائی مرض کورونا کے دور میں ہونے والے حج سے متعلق صحت ضوابط جاری کردیے، 28 ذی القعد سے12ذی الحج تک منی، مزدلفہ، عرفات میں بغیر اجازت جانا منع ہوگا۔

مسجدالحرام، منی، عرفات، مزدلفہ اور قیام طعام سےمتعلق جاری کیے گئےضوابط میں حج پر جانے والوں اور حج کرانے والوں کو حفاظتی ماسک اور دستانے پہننا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا شامل ہیں۔

عازمین رابطے کے وسائل، ملبوسات، سر کے بال تراشنے، مونڈنے، داڑھی بنانے والے آلات اور ایک دوسرے کے تولیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: حج سے پہلے عازمین کا مکمل طبی معائنہ ہوگا، سعودی وزیر

باجماعت نمازکی اجازت ہوگی تاہم نماز کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا، نمازی ایک دوسرے سےدو میٹر فاصلے کی پابندی کریں گے۔

لفٹ استعمال کرتے وقت سماجی فاصلہ رکھنا ہوگا، مسجد الحرام، منی، عرفات اور مزدلفہ میں کولرز ہٹا دیے جائیں گے، پانی پینے یا زمزم کیلئے ڈسپوزیبل بوتلیں، ڈبے استعمال کئےجائیں گے، کھانےپینے کے برتن دوبارہ استعمال کرنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

حج ضوابط کے مطابق بسوں میں مسافروں کی تعداد متعین ہوگی، پورے سفر کیلئے ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی، کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈرائیوروں، مسافروں کو بس میں سفر کے دوران ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

میدان عرفات اور مزدلفہ میں مخصوص مقامات پر قیام کی پابندی کرنا ہوگی، عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی، حاجی حضرات کو بند پیکٹوں والے کھانے پیش کیے جائیں گے۔

طواف کے لیے مطاف جانے والوں کی قافلہ بندی ہوگی، طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا، صفا و مروہ کی سعی ہر منزل سے ہوگی، سعی کے دوران سماجی پابندی کرائی جائے گی۔

حج ضوابط میں یہ بھی شامل ہے کہ خانہ کعبہ یا حجر اسود کو چھونا منع ہوگا، مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور نہ ہی خارجی صحنوں میں کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

طواف کی جگہ، صفا و مروہ کے علاقے کو حاجیوں کے ہر کارواں کے بعد سینیٹائز کیا جائے گا، مسجد الحرام سےقالین اٹھا لیےجائیں گے، اپنی جائےنماز استعمال کرنےکی تاکید کی جائے گی، جمرات کی رمی کے لیے پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے رواں برس کورونا وائرس کے پیش نظر حج کے شرکا کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سلطنت میں مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر محدود تعداد میں سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کا موقع دیا جائے گا۔‘

سعودی وزارت حج و عمرہ نے بیان میں مزید کہا کہ ’کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں پانچ لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں اور 70 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’کورونا کی وبا اور روزانہ عالمی سطح پر اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ طے کیا گیا ہے کہ رواں برس 1441ھ کے حج میں سعودی سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے عازمین کو محدود تعداد میں شریک کیا جائے گا۔‘

بین الاقوامی خبریں سے مزید