آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تاریخ شاہد ہے کہ وبائیں اور حادثات جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا موجب بنتے ہیں وہیں سماجی تبدیلی کا محرک بھی ہوتےہیں۔ 1346ء میں ’’کالی موت‘‘کی مشہور وبانے بحیرہ روم، فرانس اور شمالی افریقہ کے متاثرہ علاقوں کی آدھی آبادی کو نہ صرف موت کے منہ میں دھکیل دیا بلکہ اس وبا نے قرون وسطیٰ کے یورپی معاشرے پر گہرے سماجی ، معاشی اور سیاسی اثرات بھی چھوڑے ۔ اس وبا کی وجہ سے مغربی یورپ میں جاگیرداری نظام کو بہت بڑا دھچکا لگا جس نے اس علاقے کی ہیئت ہی کو بدل کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس وبا کی وجہ سے بہت سےکاشت کار موت کے منہ میں چلے گئے تھے اور یوں بچ جانے والے کاشت کاروں نے زیادہ معاوضے اور بہتر حالات زندگی کے حصول کے لئے تحریک کا آغاز کردیا ۔یورپ میں جاگیر داری رومی سلطنت کے زوال اور جرمن قبائل کی فتوحات کے نتیجے میں وجودمیںآئی تھی۔زمین کا مالک بادشاہ ہوتا تھا جو فوجی خدمات کے بدلے اراضی لارڈزکے حوالے کرتا تھا جو یہ زمین کاشت کاروں کو دے کر کئی قسم کے ٹیکس اور محاصل وصول کرتے تھے۔ کسان اسی زمین کے ساتھ نتھی رہنے کے پابند تھے اور اپنے لارڈز کی مرضی کے بغیر کہیں نہیں جاسکتے تھے۔ یہ جاگیر دار صرف زمین کے مالک ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ جج ، جیوری اور پولیس کا کام بھی کرتے تھے لیکن ’’کالی موت ‘‘کی وباکے باعث جب کسانوں کی بہت بڑی تعداد اس کا لقمہ اجل بن گئی تو اس نے جاگیرداری نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ آئن شام ایبی کے علاقوں میں کسانوں نے جرمانوں اور جبری مشقت کے خلاف ایک پرزور مہم کی ابتدا کردی جس نے رفتہ رفتہ پورے مغربی یورپ کے باقی علاقوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ تحریک کسانوں کو لازمی مزدوری سے نجات دلوانے کے ساتھ ساتھ معاوضوں میں بھی اضافے کا باعث بنی، مگر جلد ہی حکومت نے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے شروع کردیئے۔ بادشاہ نے آخر کار 1351 میں ایک حکم نامے کے ذریعے وبا سے پہلے والے طے شدہ معاوضے کی پابندی لازمی قرار دے دی اور آجر کی اجازت کے بغیر کام چھوڑنے پر قید کی سزا بھی نافذ کردی۔ لیکن بالآخر 1381میں کسانوں نے اس حکم نامے کے خلاف بغاوت کر دی اور باغیوں نے اپنے لیڈر واٹ ٹیلر کی رہنمائی میں آگے بڑھتے ہوئے لندن کے بیشتر علاقوںپر قبضہ بھی کر لیا ۔ اس تحریک اور کسانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں جاگیردارانہ مشقتی نظام ختم ہونے کے ساتھ انگلینڈ اور مغربی یورپ میں مزدوروں کے معاوضے میں بھی اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ مغربی یورپ کی طرح مشرقی یورپ میں بھی اس وبا کی وجہ سے کسانوں کی اموات اسی طرح ہوئیں لیکن اس وباکے نتیجے میں مشرقی یورپ میں جاگیرداری نظام مزید مستحکم ہوا۔ انہوں نے مزید زمینوں کو اپنے تسلط میں لے لیا مگر مشرقی یورپ کے جاگیرداروں کے مضبوط اور منظم ہونے کی اصل وجہ مشرقی یورپ کے کاشتکاروں کا غیر منظم ہونا تھا۔ تاریخ کے وسیع تر تناظر میں یہ فرق بہت چھوٹے لگتے ہیں لیکن انہی چھوٹے چھوٹے فَرقوں نے مشرقی اور مغربی یورپ کے سماجی ، اقتصادی اور سیاسی ارتقا میں اتنا اہم کردار ادا کیا کہ 1600ء تک یہ دونوں حصے الگ الگ دنیا بن چکے تھے۔ مغربی یورپ صنعتی ترقی کی طرف مائل تھا اور مشرقی یورپ جاگیرداری سے نبرد آزما تھا۔ دونوں علاقوں کی اس تشکیل میں ’’کالی موت‘‘ کی وبانے اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک وبا یا اہم واقعہ استحصالی اداروں کا زور توڑنے کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ معاشروں میں تحریکوں کا محرک بھی بن سکتاہے۔ آج امریکی سماج میں Covid19نے یہ ثابت کر دیا کہ سرمایہ داری نظام کا مقصد صرف اور صرف منافع کمانے سے ہے نا کہ مشکل وقتوں میں وبائوں اور مصیبتوں سے قوم کو محفوظ بنانے میں۔ کیونکہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں صحت کا بجٹ جی ڈی پی کا 18فیصد ہونے کے باوجود وہاں ماسک، وینٹی لیٹر اور دوسری بنیادی ضرورتوں کی شدید کمی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد افراد موت میں چلے گئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام میں ہر چیزکو ایک ’’جنس‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کیوبا اور انڈیا کی ریاست کیرالہ کی یہاں مثال دی جاسکتی ہے جہاں اس وبا سے معاشرے نے احسن طریقے سے نبٹا کیونکہ وہاں ریاست نے صحت کو اپنی مکمل ذمہ داری سمجھ رکھا ہے۔ جبکہ پاکستان میں حکومت نے دیہاڑی دار مزدور کا نام لے کر سرمایہ داروں ،صنعت کاروں اور بڑے مالکان کا تحفظ کرتے ہوئے لاک ڈائون کو غیر مفید قرار دیا جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی۔وبااس قدر پھیل گئی کہ ملک کے تمام اسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ نہ رہنے کے علاوہ بے روزگاری اور بھوک و افلاس بھی بڑھ گئی ۔اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے خلاف کوئی اجتماعی ردعمل بھی دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پاکستان میں تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ جو انجکشن بیس ہزار روپے کا پاکستانی عوام کو میسر ہونا چاہئے تھا وہ دو لاکھ روپے میں بھی کہیں نہیں مل رہا۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حکمران و سیاستدان ریاستی اداروں کو نئے سرے سے عوامی فلاح و بہبودکے اصول پر منظم کریں اور کچھ عرصے کے لئے صحت کا بجٹ کم از کم تیس فیصد مختص کریں۔

محض نصیحتوں اور تقریروں سے اس وبا کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، اس وبا کا مقابلہ سائنسی اصولوں اور بجٹ کا بہت بڑا حصہ صحت پر مختص کرنے میں ہی ہے ، چیریٹی اور انفرادی مدد سے نہ تو غربت کم ہوتی ہے اور نہ ہی سائلوں کی تعداد کم ہوتی ہے ، اس کے لئے صحت ، تعلیم ، روزگار اور ٹرانسپورٹیشن جیسی بنیادی انسانی ضروریات کو ریاست کو اپنی ذمہ داری میں لینا ہوگا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)