آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اب تو طوطا مینا کی کہانیوں میں چھپے اشاروں میں سیاست کے احوال جاننے اور بیانیے کا زمانہ ہے۔ اور اس دور کا سب سے بڑا کہانی کار ہمارے دوست سہیل وڑائچ کے سوا کوئی ہے بھی نہیں۔ خوابوں، طلسماتی پرندوں، خودکلامی اور فرضی قصوں کے سہارے کوئی ان سے ابلاغ کا سبق سیکھے تو کیسے۔

پژمردہ ماڈل اور حالات کی بے بساطی میں کوئی اُمید کے دیے ٹمٹمائے بھی تو اُس کی لَو سے کچھ نظر آنے والا نہیں۔ پھر ہمارے ملامتی دوست ہیں جو پچھلوں کو کوستے ہیں کہ اگلے سے پریشان ہیں۔ اور میڈیا پہ وہ اُودھم مچا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اصل سوال اوجھل کیے جا رہے ہیں اور مضحکہ خیز بیانیے ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں۔ ’’مائنس وَن‘‘ کی شُرلی چھوڑنے والوں سے کوئی پوچھے کہ اب اس آپشن کے پلے رہا کیا ہے۔

دو کو مائنس کرکے ایک کو لایا گیا تو اُسے مائنس کر کے بچے گا بھی تو کیا۔ آخر پٹھو گرم بھی تو کھیلنا ہے۔ اس لیے کوئی ایک پٹھو گرم بنے یا دوسرا ہوگا تو پٹھو گرم۔

اب پٹھو گرم کا کھیل جمہوری تماشے کا تماشہ نہیں تو کیا ہے۔ اس میں بیچاری مرحومہ مسمات جمہوریت کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جوں جوں روایتی سول سروس اور اس کے مضمحل ڈھانچے حالات کی تاب نہیں لا پا رہے، ویسے ویسے مستعد اور تازہ دم دستے اُن کی جگہ لے رہے ہیں۔

کورونا خوفناک وبا میں بھلا ایک منہنی سی وزارتِ صحت نے کیا کرنا تھا لہٰذا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (NCOC) نے ہنگامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ نام بھی بڑا اور کام بھی۔ اب پانچ ہزار لوگوں کے مرنے پہ شادیانے نہ بجائے جائیں تو کیا کیا جائے کہ خدانخواستہ ابھی پچاس ہزار اموات تو نہیں ہو گئیں۔ ’’گروہی مدافعت‘‘ کا نظریہ اگر کام نہیں بھی آیا تو کیا ہوا، مالتھس کے نظریۂ آبادی کی تسکین کا کچھ اہتمام تو ہوا۔

پچھلے برس سے ٹڈی دل کے حملے کے انتباہ سُننے میں آرہے تھے اور پاک معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت کی حفاظت کے لیے ذرائع تھے نہ ساز و سامان۔ محکمہ ہائے زراعت، موسمیات اور انسانی خوراک کی سلامتی کی وزارت والے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہ گئے۔

ٹڈی دل کا ایک حملہ جاری ہے اور دوسرے کی آمد کا انتظار ہے۔ اب چنائو صرف یہ ہے کہ ٹڈی دل کو مارو یا قحط سالی کی بھینٹ چڑھ جائو۔ آخر انسانی سلامتی کا بوجھ بھی اُنہی پہ ڈال دیا گیا جنہوں نے کورونا کے خلاف جنگ کی کمان سنبھالی تھی۔ خیر سے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) نے اب ٹڈی دل کے خلاف مورچہ سنبھالا ہے۔

یادش بخیر جب گزشتہ زلزلہ آیا تھا اور بعد ازاں بدترین سیلاب تو نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) وجود میں لائی گئی تھی اور اس کے تجربات اتنے ’’گراں قدر‘‘ تھے کہ اب نومولود اتھارٹیز کے کام آ رہے ہیں۔

نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) ہو، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یا پھر سی پیک اتھارٹی (اسٹیل ملز، پی آئی اے وغیرہ کا تو ذکر ہی کیا۔) ان سے زیادہ تجربہ کار، مشاق اور توانا ادارے کہیں ہیں جو چراغ لے کے ڈھونڈنے سے بھی ملنے سے رہے۔

لگتا یہی ہے کہ جمہوریت کے انہدام کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ منہدم ہو گیا ہے۔ پولیس کا نظام ہو یا پھر عدالتی نظام سب کے سب گڈ فار نتھنگ ہو چکے۔ کراچی میں جب امن مستقلاً تباہ ہو گیا تو کام تو رینجرز ہی آئے۔ دہشت گرد تھے کہ عدالتوں سے چھوٹتے جاتے تھے تو جمہوریت پسندوں کو ملٹری کورٹس کی کڑوی گولی کھانی پڑی تھی۔

اب اگر عدالتی تعیناتیوں پہ انگلیاں اُٹھ رہی ہیں اور احتساب عدالتوں کے ججوں کی بھد اُڑ رہی ہے تو کسی کو کہیں نہ کہیں قومی ذمہ داریاں پوری کرنے کی فکر تو ہوگی۔ اب حزبِ اختلاف والے اٹھارہویں ترمیم اور ساتویں نیشنل فنانس کمیشن کے دفاع میں کیسے ہی لگے رہیں۔ ریاست کے ہر میدان میں سویلین ڈھانچوں کی ناکامی کے خلا کو کسی نے تو پورا کرنا ہے۔ احتساب کے اس دور میں حکومت جس طرح مافیائوں کو للکار کر پسپا ہوئی ہے تو کیا مافیاز یونہی کھل کھیلتی رہیں گی۔

اب بھلے عمران خان جتنے جتن کر لیں اور اپنے افسروں اور وزیروں کی ناختم ہونے والی بریفنگ سے تنگ آ کر اُنہیں کارکردگی دکھانے کی دھمکیاں دیں، مافیاز کے فتنے اُن سے سنبھلنے والے نہیں۔ آخر کہیں تو صبر کا پیمانہ لبریز ہوگا۔ جب معیشت کا پہیہ چلے گا نہ ٹیکس وصول ہوگا تو ہماری سلامتی کے نگہبان ہاتھ ملتے تو نہیں رہ جائیں گے۔

خان صاحب بھول جاتے ہیں کہ وہ ’’پٹھو گرم‘‘ کے کھیل کے پٹھو ہیں اور پٹھو کا تو کام ہی ہے کہ اُسے مار پڑتی رہے۔ لیکن لگتا ہے کہ کپتان کی کوئی زیادہ ہی پٹائی ہو رہی ہے۔

شاید اس لیے بھی کہ وہ بغیر ٹیم کے کپتان ہیں اور جو ٹیم اُن کے کام آ رہی ہے اور قومی فرائض کی بجاآوری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی وہ اس کے کپتان نہیں۔ اُس ٹیم کا کپتان وہی ہے جو محاورے کے مصداق جس کا کام اُسی کو ساجھے تو پھر ہمارے وزیراعظم کے پلے رہا کیا کہ اُن کا پٹھو گرم ہوتا رہے۔ اس سے زیادہ کردار اور ہو بھی کیا سکتا ہے؟ ایسے میں کوئی قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف سے پوچھے کہ بہت سی بیماریوں اور کمر کی تکلیف کے باوجود کیا وہ اپنا پٹھو گرم کروانا چاہیں گے؟

یہی سوال آصف علی زرداری صاحب سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اُن کی تو اب حالت جیسی ہے وہ کم از کم پٹھو گرم کروانے والی نہیں۔ مزاح سے قطع نظر پٹھو گرم کے کھیل میں بچے کھچے جمہوریت پسندوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ پٹھو گرم کے کھیل میں بچی کھچی عزتِ سادات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ لگے رہو منا بھائی، اور پٹھو گرم کرتے رہو۔ ہمیں اس سے کیا غرض!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)