• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناموس کے لغوی واصطلاحی معنیٰ کی تحقیق (گزشتہ سے پیوستہ)

تفہیم المسائل

علامہ علی القاری نزول وحی والی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :ترجمہ:’’(ورقہ بن نوفل نے کہا)یہ وہ ناموس ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑپر نازل کیا ہے ، ایک قول یہ ہے : ناموس کسی شخص کے رازداں کو کہتے ہیں ،جو اُس کے داخلی اُمور پر مُطّلع ہو اور اہلِ کتاب جبرائیل امینؑ کو بھی ناموس کہتے تھے، ماہرینِ لُغت نے کہاہے: خیر کے رازداں کو ناموس اور شَر کے رازداں کو جاسوس کہتے ہیں ،ایک قول کے مطابق جبرائیل امینؑ کو ناموس اس لیے کہاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں وحی پہنچانے کے لیے خاص طورپر رازداں بنایا ،(مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:9، ص:3733)‘‘۔

محمد عبداللہ خان خویشگی لکھتے ہیں ناموس:عصمت، عفت، ناموری، نیک نامی، تدبیر ،سیاست، قاعدہ ، دستور، پوشیدہ، حیلہ،فرشتے،احکام الٰہی،جمع : نوامیس،(فرہنگ عامرہ:ص:492)۔

فیرزاللغات : ص:1347 میں ہے:’’ناموس:آبرو،شہرت،عزت،صاحب راز،حضرت جبرائیلؑ کا لقب، فرشتہ،احکام الٰہی،ناموس اکبر:حضرت جبرائیلؑ کا لقب، شریعت، قاعدہ،دستور بزرگ ‘‘۔ غرض عربی زبان میں اہلِ کتاب کی اصطلاح کے مطابق ناموس جبرائیل ِ امینؑ کے لیے بولا جاتاہے ، اُنہیں ناموسِ اکبر بھی کہتے ہیں، اس کے معنیٰ رازداں کے بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ جبرائیلِ امین وحیِ ربانی کے امین تھے اور وحیِ ربانی یقیناً اللہ تعالیٰ کا راز ہے ،جو جبرائیلِ امینؑ کے ذریعے انبیائے کرامؑ تک پہنچایا جاتارہاہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ:’’ اور بے شک، یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتاراہواہے ، (اے رسولِ مُکرمﷺ!) اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام ) نے آپ کے قلبِ (مبارک ) پر فصیح عربی زبان میں نازل کیا تاکہ آپ ڈر سنانے والوں میں سے ہوجائیں ، بے شک، اس کا تذکرہ پہلے انبیاء کی کتابوں میں بھی ہے ، (الشعراء: 192-96)‘‘۔’’ہم ناموسِ رسالت مآب ﷺ کی اصطلاح فارسی معنیٰ کے اعتبار سے استعمال کرتے ہیں ، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی عصمت، عزت ، حُرمت ،آبرواور نیک نامی ہے‘‘۔

تازہ ترین