• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’بائیو ڈیزل‘ ماہرین اسے مستقبل کا ایندھن بنانے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں

عزیر احمد

گزشتہ چند برسوں سے بائیو ڈیزل متعددفوائد کی بدولت پوری دنیا میں متبادل توانائی کے طور پر مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔ماہر ین کے مطابق اس کے ذریعے زمین کو کچرے کے ڈھیر سے بچایاجاسکتا ہے ۔اس کے علاوہ فضا کو روایتی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور زہریلی بو سے بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق بائیو ڈیزل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پیٹرولیم یاکوئی دیگر فیول شامل نہیں ہے ۔یہ 100 ویجی ٹیبل آئل کی بنیا د پر بننے والا ایندھن ہے ۔بائیو ڈیزل میں تھوڑی بہت ردوبدل کرکے یا جوں جاتوں رکھتےہوئے بہ خوبی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں اسے روایتی ایندھن ڈیزل کے ساتھ بلینڈ کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں صورتوںمیں خطرناک اجزاء کے اخراج میں واضح کمی کی جاسکتی ہے۔اختصار کے ساتھ بلینڈز کی نشان دہی Bxx کی صورت میں کی جاتی ہے ،جس میں xx سے مراد مکسچر کے اندر بائیو ڈیزل کی مقدار ہے ۔مثلاً استعمال ہونے والا بلینڈ B20 ہے۔اس میں 20 فی صد بائیو ڈیزل اور 80 فی صد اسٹینڈر فیول ہوتاہے ۔اسی طرح جب B100 لکھا ہے تو اس سے مراد 100 فی صد بائیوڈیزل ہوتا ہے۔ 

تیکنیکی اعتبار سے بائیو ڈیزل فیٹی ایسڈ میتھائل ایسٹر (Fatty Acid Methyl Ester) ہے۔ اسے ویجی ٹیبل آئلز سے گلیسرین کی شکل میں گلیسرول مالیکیول الگ کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ جب آئل میں سے گلیسرین نکل جاتی ہے تو باقی بچنے والے مالیکیولز، ڈیزل انجنوں کے لئے پیٹرولیم ڈیزل فیول کی طرح استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان دونوں ایندھنوں میں بعض فرق نمایاں ہیں۔ بائیو ڈیزل کے مالیکیولزسادہ ہائیڈروکاربن کے زنجیری سلسلوں (chains) پر مشتمل ہوتے ہیں اور اس میں فوسل فیول کی طرح سلفر، زنگ مالیکیولز اور ارومیٹکس نہیں پائے جاتےبلکہ بائیو ڈیزل میں لگ بھگ 10 فی صد آکسیجن ہوتی ہے جو کہ اسے قدرتی oxygenated ایندھن بناتی ہے۔ 

چوںکہ بائیو ڈیزل میں زہریلے اجزاء نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ بھڑک کر جلتا ہے، اس لئے اس کی ا سٹوریج کا عمل بھی روایتی پیٹرولیم ڈیزل فیول کی نسبت زیادہ آسان ہے اور لاگت میں بھی یہ پیٹرولیم ڈیزل کے مقابلے میں کم ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیو ڈیزل سے بے شمار فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیںاور اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اسے پہلے سے موجود انجنوں اور فیول انجکشن آلات کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے کسی ردوبدل کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آپریٹنگ پرفارمنس پر کوئی منفی اثرپڑتا ہے۔ یہ ڈیزل کے برابر چلتا ہے اور بھاری بھرکم گاڑیوں کے لئے واحد متبادل فیول ہے ،جس کے لئے ڈسپنسنگ اورا سٹوریج کے خصوصی آلات کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ 

بائیوڈیزل کو ہر اس جگہ پر اسٹور اور فروخت کیا جاسکتا ہے جہاں روایتی ڈیزل رکھا اور بیچا جاتا ہے۔ اس کا فلیش پوائنٹ بہت بلند (300 درجے فیرن ہائٹ) ہے اور یہی چیز اسے سب سے زیادہ محفوظ اور متبادل ایندھن بناتی ہے۔ یہ واحد متبادل ایندھن ہے جو کہ اپنی لبریکیٹنگ خصوصیات کی بدولت انجن کی لائف بھی بڑھاتا ہے۔ یہ ایک ماحول دوست ایندھن ہے، جس کے جلنے سے ایسے زہریلے اجزاء خارج نہیں ہوتے جو ماحولیات کے لئے نقصان دہ ہوں۔ 

یہ واحد متبادل ڈیزل فیول ہے جو کہ ہماری فضا میں سے گرین ہائوس گیس کمپوننٹس کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بائیو ڈیزل کے استعمال سے کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون فارمنگ ہائیڈرو کاربنز، خطرناک ڈیزل پارٹیکولیٹ اور تیزابی بارشوں کا سبب بننے والے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور لائف سائیکل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں واضح کمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کواُمید ہے کہ یہ مستقبل میں بہترین ایندھن کے طور پر استعما ل ہوگا اور لوگ اس سے استفادہ بھی کریں گے۔

تازہ ترین
تازہ ترین