آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈاکٹر صنوبر الطاف

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ اسکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا آئیڈیل شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

شاید وہ ماں جس نے ساری عمر خود کی نفی کی ایک لمحہ بھی اپنے لیے نہ جی اور اپنی زندگی شوہر اور خاندان کے نام وقف کردی۔ا سکول کی وہ استانی جو کہنے کو تو ورکنگ لیڈی تھی لیکن اس کی ساری عمر اسکول کی نصابی کتابوں اور بیٹی، بیوی، ماں اور بہو کے رشتے سنبھالتے گزر ی تھی۔ دنیا کی نظر میں اس نے ایک آئیڈیل گھریلو پلس ورکنگ لائف گزاری لیکن وہ جانتی ہے کہ اس کی زندگی اسکول سے گھر اور گھر سےا سکول کی نذر ہوگئی۔ ڈائجسٹ کی وہ ہیروئن اور اس کا ہیرو تو کبھی حقیقی دنیا میں تھے ہی نہیں۔ 

ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک بہترین عورت کی تعریف میں یہی دو تین خصوصیات ہونی چاہئیں اور اسی کے گرد اس کی زندگی گھومنی چاہیے۔پچھلے بیس سالوں میں معاشرہ کم از کم شہری سطح پر یک دم بدل گیا ہے اور نئی نسل کی عورت بھی۔ وہ ایسے نئے چیلنجوں، سوالوں اور مسئلوں کی زد میں ہے جن سے پچھلی عورت نے سامنا ہی نہیں کیا تھا۔ 

دور دراز سے شہروں سے آئی یا شہروں میں پلی بڑھی، یونیورسٹیوں سے پڑھی اور نوکریاں کرتی، حالات کے تھپیڑے کھاتی، کہیں اپنا اور کبھی اپنے گھر والوں کا بوجھ اٹھانے والی یہ نئی عورت باطنی اور خارجی منظر نامے سے نبردآزما ہے۔ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیے نوکریوں اور سماجی معاشی ذمہ داریاں سنبھالے، ہاسٹلوں، گھروں اور دفتروں میں جوانی کے باقی ماندہ دن گزار رہی ہے۔ ایسی لڑکی نما عورت کا ماڈل تو ہمارے سماج میں ابھی وجود میں ہی نہیں آ یا۔ کیوں کہ ماں، استانی اور ڈائجسٹ کا منظرنامہ تو شہری زندگی سے غائب ہو چکا ہے۔ زندگی کے نئے شعور اور نئے تناظر میں شادی، شوہر اور سسرال سمیت روایتی اہداف کی جگہ ایک خودمختار زندگی کا ماڈل شاید ابھی اسی نسل نے تشکیل دینا ہے۔ 

یہ جنگ بھی اسی نے لڑنی ہے اور زخم بھی اسی نے سہنے ہیں۔ہماری مائیں، استانیاں اور ڈائجسٹ یہ تو سکھاتے رہے ہیں کہ لڑکیوں نے اپنا لڑکپن، اپنی جوانی کیسے گزارنی ہے، شادی کے بعد شوہر و سسرال کے گھر میں کیسے رہنا ہے لیکن کیا ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ شادی نہ ہونے کی صورت میں یا نہ کر پانے کی صورت میں زندگی کیسے گزارنی ہے؟ کیوں کہ ہمارے ذہنوں میں عورت کی زندگی کا کوئی ایسا تصور موجود ہی نہیں ہے۔ 

یہاں ہم غیر شادی شدہ کے ساتھ یا ان طلاق یافتہ اوربیواؤں کو بھی شامل کر سکتے ہیں جو اپنے نئے شعور کے باعث روایت کے ساتھ ایڈجسٹ نہ ہو سکیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے اپنے مطابق گزارنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ایک تلخ مردانہ وار پیچیدہ شہری زندگی یا کسی دکھ بھرے ازدواجی تجربے کے بعد خود اپنی بنیادوں پر جینے کا فیصلہ اتنا آسان بھی نہیں۔ کیوں کہ ایسی اکیلی عورت کے لیے ہمارے ”بے چارے“ معاشرے کے پاس کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔

معاشی آزادی کا حق تسلیم، لیکن ہم معاشی آزادی کے ساتھ ساتھ ذہنی و جذباتی آزادی کو نظر انداز کیوں کردیتے ہیں۔ آخر یہ تنہا عورتیں معاشرے میں اس قدر بھی با اعتماد کیوں نہیں ہو سکتیں جتنی ایک شادی شدہ بچوں والی عورت ہوتی ہے۔ ہم اس کی اس غیر ازدواجی حیثیت کو قبول کیوں نہیں کر سکتے؟ لوگ پہلے ہمدردی کرتے ہیں، آپ کو ان ”ضروریات“ سے آگاہ کرتے ہیں جن کی تسکین ان کے نزدیک معیشت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ آپ کو شک بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کے کردار اور خاندانی حالات پر تحقیق کی جاتی ہے اور پھر فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے ڈر سے ہی عورتیں اپنے اکیلے ہونے کے مختلف جواز گھڑتی ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ ہم نئی عورتوں کے پاس معاصر زندگی کا کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔

ہم سے ترقی یافتہ معاشروں میں عورت کی آزادی کا مطلب ملازمت دینا نہیں ہے۔ آزادی کی روح کو سمجھتے ہوئے وہاں کی خواتین ادیبوں نے اس آزادی کو تھیورائز کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے کئی ناول، کتابیں اور مضامین ہیں جہاں عورت اور اس کی زندگی کے ہر پہلو پر توجہ دی گئی ہے۔ کیا ہمارے ہاں ایسا ہوا ہے؟ کیا فیمینسٹ ہونے کا مطلب عورتوں کے لیے شاعری اور افسانے لکھنا ہے۔ ہمارے ہاںایسی کئی عورتیں ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اپنی شرطوں پر جی ہے۔ لیکن کیا اس جدوجہد آزادی کی بنیاد پر کوئی عہد نامہ یا کوئی منشور ایسا ہے جو سرہانے تلے رکھا جاسکے۔ 

ان منفرد عورتوں اور ان کی تحریروں کو نئی زندگی کے لیے بطور حوالہ دیکھا جاسکے۔ لیکن شاید ایسے نہیں ہوتا کہ زندگی کا ہر آنے والا مرحلہ زندگی کی نئی تشریح اور نیا ماڈل مانگتا ہے۔ جب تک معاصر زندگی کوئی عہد نامہ، کوئی منشور، کوئی ضابطہ تیار نہیں کرتی نئی عورت کو اپنا رول ماڈل خود ہی بننا پڑے گا۔ ہر کسی کا امتحان اور راستہ منفرد ہے لیکن یہ اچھا ہوگا کہ ہم اس راستے میں ایک دوسرے کا ہاتھ اور قلم تھام کر چلیں۔