آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آخری دَم تک پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں

بات چیت :طلعت عمران

(عکّاسی: اسرائیل انصاری)

’’ گزشتہ برس جب مَیں نے کوریا میں ہونے والی ’’ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن شِپ‘‘ میں تیسری پوزیشن حاصل کی، تو پاکستان بَھر کے نیوز چینلز نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔ تب دل میں خیال آیا کہ اب مُلک میں ہر طرف میرے نام کی دُھوم مچے گی، لوگ مجھے میرے نا م سے پہچانیں گے، اپنی سر زمین پر قدم رکھوں گا، تو پُرتپاک استقبال ہو گا، مگر جب ایئرپورٹ پہنچا، تو یہ دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ وہاں مجھے ریسیو کرنے رشتے داروں کے علاوہ اور کوئی نہیں آیا تھا۔ تب مجھے لگا کہ شاید مَیں کوئی کارنامہ انجام دئیے بغیر ہی وطن واپس آ گیا ہوں۔ البتہ ،جب جِم پہنچنے پر میرے شاگردوں، دوستوں نے پُر تپاک استقبال کیا، تو احساس ہوا کہ مَیں نے عالمی ٹائٹل جیتا ہے۔ 

تاہم، مجھے زیادہ بُرا اُس وقت لگا، جب مَیں نے ایونٹ میں حصّہ لینے والے بھارتی تن سازوں کی تصویریں دیکھیں کہ اُن کا اُن کےمُلک میں کس قدر والہانہ استقبال ہوا، حالاں کہ انہوں نے چوتھی اور پانچویں پوزیشنز حاصل کی تھیں۔‘‘ یہ الفاظ ہیں، 40سالہ ،پاکستانی تن سازسیّد فضل الٰہی کے، جنہوں نے اپنے اِن احساسات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سرد آہ بھری ۔کسی دانا نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’انسان کی سوچ اُس کے حوصلے کے مطابق ہوتی ہے۔ لگن سچّی، عزم صمیم، ارادے مضبوط ہوں، تو مقاصد بھی ارفع ہوتے ہیں اور راستے میں آنے والا ہر پتّھر زینہ بن جاتا ہے۔‘‘ کراچی سے تعلق رکھنے والے تَن ساز، سیّد فضل الٰہی اس کی زندہ مثال ہیں، جنہوں نے اَن تھک محنت سے جسم کی تراش خراش کے ساتھ اپنی قسمت بھی سنواری۔ انہوں نے کراچی کے ایک غریب پشتون گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہوش سنبھالا، تو والد نے ہاتھ بٹانے کے لیے ہوٹل میں چائے، پراٹھے بنانے کی ذمّے داری سونپ دی۔ تاہم، فضل الٰہی کے اندر موجود ایک کھلاڑی کی رُوح نے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ سب سے پہلے توانہوں نے ایک فُٹ بالر کے طور پر جوہر دکھائے۔ پھر تحرّک و پُھرتی انہیں کراٹے کی جانب لے آئی۔ وہ کراٹے کی دُنیا میں نام کمانا چاہتے تھے، لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ 

آخری دَم تک پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں
صاحب زادے، فہد کے ساتھ

سووہ اتفاقاً باڈی بلڈنگ کی طرف آگئے اور انتہائی محدود وسائل میں اس کھیل میں نام بنایا۔فضل الٰہی نے ’’مسٹر ایسٹ‘‘،’’ مسٹر کراچی‘‘ اور’’مسٹر سندھ‘‘ کے ٹائٹلز جیتنے کے بعد نیپال میں ہونے والے’’ مسٹر سائوتھ ایشیا ‘‘کے ایونٹ میں کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا ۔ بعد ازاں، نومبر 2019ء میں جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والی’’ باڈی بلڈنگ ورلڈ چیمپئن شِپ ‘‘میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ وہ باڈی بلڈنگ کے عالمی ایونٹ میں کانسی کا تمغہ جیتنےوالے پہلے پاکستانی تن ساز ہیں۔ تاہم، اُن کی خواہش ہے کہ وہ مسٹر یونی وَرس اور مسٹر اولمپیا بن کر پوری دُنیا میں وطنِ عزیز کا نام روشن کریں۔

گزشتہ دِنوں تن سازی کے ذریعے دُنیا بَھر میں ’’اپنی مدد آپ کے تحت‘‘ پاکستان کی نمایندگی کرنے والے باڈی بلڈر، سیّد فضل الٰہی سے ہماری بات چیت ہوئی، تو انہوں نے اپنے ابتدائی حالاتِ زندگی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’میرے والد کا قائد آباد میں چائے کا چھوٹا سا ہوٹل تھا، جہاں میں پراٹھے بنایا کرتا تھا۔ معاشی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد ہی والد کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا اور پھر اُن سے چُھپ چُھپا کر انٹر کیا۔ مجھے بچپن میں کراٹے مین بننے کا بہت شوق تھا۔ کراٹے کے کئی قومی سطح کے مقابلوں میں کام یابی حاصل کرنے کے بعد جب مَیں بین الاقوامی مقابلےمیں حصّہ لینے کی تیاری کررہا تھا، تو میرے ٹرینر نے مشورہ دیا کہ ’’تمہارا وزن کم ہے، تم کچھ عرصے کے لیے جِم جوائن کر لو۔‘‘ تب میری عُمر کم و بیش 24برس تھی۔ حالاں کہ جِم جوائن کرنے کی بنیادی وجہ کراٹے کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی راہ ہم وار کرنا تھی ۔ 

تاہم، وہاں انسٹرکٹر ،غلام طاہر نے میری جسامت دیکھتے ہوئے مجھے باڈی بلڈر بننے کا مشورہ دیا۔ اُن کے بے حد اصرار پر نہ چاہتے ہوئے بھی مَیں نے باقاعدہ تن سازی شروع کر دی۔ تب میرے پاس جِم جانےکا کرایہ تک نہیں ہوتا تھا، تو باڈی بلڈنگ کی باقاعدہ ڈائیٹ کیسے لیتا،ایسے میں انسٹرکٹر ہی میرے لیے خصوصی خوراک، یعنی پروٹین شیکس وغیرہ کا بندوبست کرتے تھے۔‘‘ باڈی بلڈنگ کے مقابلوں میں شرکت کے حوالے سے فضل الٰہی نے بتایا کہ ’’مَیں نے 2006ء میں لاہور کے الحمرا ہال میں منعقد ہونے والے قومی مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ 

اس ایونٹ میں میرا نام جونیئر کیٹیگری میں شامل تھا، لیکن میرے مسلز دیکھ کر بعض بد خواہوں نے میرا نام سینئر کیٹیگری میں شامل کروا دیا، ورنہ مَیں پہلے نمبر پر آتا۔ بہر حال، اس کے بعدمَیں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا اور مسٹر کراچی، مسٹر سندھ اور مسلز مینیا پاکستان کے ٹائٹلز جیتنے کے بعد جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والے مسٹر ایشیا کی تیاری شروع کردی۔ یہ ایونٹ 2017ء میں سیئول میں منعقد ہوا، جس میں، مَیں نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں، نیپال میں ہونے والے مسٹر سائوتھ ایشیا کے مقابلوں میں تیسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ پھر نومبر 2019ء میں جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والی ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن شِپ میں حصّہ لیا اور تیسری پوزیشن حاصل کی، جو نہ صرف میرے ،بلکہ پورے پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

مَیں نے اتنے مقابلے جیتے ہوئےہیں کہ میرے پاس موجود میڈلز، شیلڈز اور ٹرافیز دیکھ کر اکثر افراد حیران رہ جاتے ہیں۔‘‘ تن سازی ایک منہگا مشغلہ ہے اور بین الاقوامی معیار کا باڈی بلڈر بننے کے لیے سخت کسرت، عمدہ و متوازن خوراک، صاف سُتھرے ماحول اور تناؤ سے دُور رہنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور ان تمام تقاضوں پر پورا اُترنے کے لیے فضل الٰہی کو اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ ’’عالمی معیار کا تن ساز بننے کے لیے مَیں نے بہت مشکلات کا سامناکیا۔ ایونٹ میں شرکت کے لیے کم و بیش 6 ماہ تک سخت ٹریننگ کرنا پڑتی ہے، مختلف اقسام کی ڈائیٹ لینا ہوتی ہے اور صرف گوشت کی مد ہی میں یومیہ 1500سے 2000 روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ پھر ایونٹ میں شرکت کے لیے آمدورفت پر اُٹھنے والے اخراجات الگ ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے لیے تمام اخراجات مَیں خود اٹھاتا ہوں، جو لاکھوں میں ہوتے ہیں۔ حکومت یا باڈی بلڈنگ فیڈریشنز نے کبھی مالی معاونت نہیں کی۔ مَیں نے تمام ٹائٹلز اپنی مدد آپ کے تحت ہی جیتےہیں۔یہاں تک کہ مجھے قرض بھی لینا پڑا، جب کہ خود کو مینٹین رکھنے کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے خرچ کرتا ہوں۔‘‘

اخراجات پورے کرنے کے حوالے سے فضل الٰہی نے بتایا،’’اب میرا اپنا جِم ہے، اس کے علاوہ مَیں ٹرینر کے طور پربھی خدمات انجام دیتا ہوںاور یہی میرا ذریعہ آمدن ہے، کیوں کہ جب بھی کبھی متعلقہ حُکّام سے مدد کے لیے رجوع کیا، انہوں نے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔یہ متعلقہ ادارے باڈی بلڈرز کے لیے ملنے والا فنڈ تن سازوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے خود ہڑپ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی مقابلوں میں شریک غیر مُلکی باڈی بلڈرز کو سرکاری سطح پر ہر قسم کی سہولت فراہم کی جاتی ہےاور ہمیں ٹریک سوٹ تک اپنے پلّے سے خریدنا پڑتا ہے۔ پھر اُن کے ساتھ ٹرینرز اور آفیشلز مستقل موجود ہوتے ہیں،جب کہ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس سب کے باوجود ہم اپنے مُلک کا نام روشن کرنے میں کوشاں ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت کام یابیاں سمیٹ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فضل الٰہی کا کہنا تھا کہ ’’مَیں باڈی بلڈنگ ورلڈ چیمپئن شِپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والا پہلا پاکستانی ہوں۔ مجھ سے قبل بعض پاکستانی تن سازوں نے اس ایونٹ میں حصّہ لینے کی کوشش کی، لیکن اُن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آگیا، جب کہ مَیں نے تین مرتبہ عالمی مقابلوں میں شرکت کی اور ایک مرتبہ بھی ڈوپ ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’عاطف انور میرے پسندیدہ باڈی بلڈر ہیں، جنہوں نے اپنے بل بُوتے پر مختلف عالمی مقابلوں میں کام یابی حاصل کی اور اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ 

میری کام یابیوں میں عاطف انور کا اہم کردار ہے اور وہ اب بھی میری رہنمائی کرتے ہیں۔‘‘ فضل الٰہی نے بتایا کہ ’’مجھے آسٹریلیا اور افغانستان کی طرف سے نمایندگی کی پیش کش کی جا چُکی ہے، لیکن مَیں نے انکار کر دیاکہ میری پہچان صرف میرا وطن ہے۔ مگر یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتاہے کہ 2017ء میں نیپال میں منعقدہ ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے افغان باڈی بلڈر کو اُن کی فیڈریشن کی جانب سے 10ہزار ڈالرز انعام کے طور پر دئیے گئے، جب کہ میری حوصلہ افزائی کے لیے کسی نے دوبول تک نہ بولے۔ اس وقت کئی پاکستانی باڈی بلڈرز دوسرے ممالک کی نمایندگی کر رہے ہیں، لیکن میں آخری دَم تک صرف پاکستان ہی کی نمایندگی کروں گا کہ میرا مُلک ہی میری پہچان ہے۔‘‘مُلک میں باڈی بلڈنگ کے مستقبل کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فضل الٰہی کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان میں ہاکی اور اسکواش کی طرح باڈی بلڈنگ کے لیے بھی حالات سازگار نہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مَیں نے پاکستان کے لیے اتنا بڑا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کی، مگر سرکاری سطح پر کسی نے میری پذیرائی نہیں کی۔ 

حالاں کہ جب مَیں نے یہ ٹائٹل جیتا، تو اُس وقت باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری نے میرے ساتھ کھڑے ہو کر خُوب تصویریں کھنچوائیں۔ تمام نیوز چینلز نے بھی خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا ۔ مجھے تو لگتا تھا کہ موجودہ حکومت، جس کے سربراہ عمران خان ،خود ایک اسپورٹس مین ہیں، ضرور میری پذیرائی کرے گی، مگر ایسا نہ ہو ا۔‘‘

فضل الہٰی مسٹر یونیورس اور مسٹر اولمپیا بننے کے خواہش مند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سلسلے میں میرا بیٹا، فہد میری خاصی مدد کرتا ہے۔ وہ میرا ٹرینٹر بھی ہے، نیوٹرشنسٹ بھی اور موٹیویشنل اسپیکر بھی، چوں کہ میری اتنی استطاعت نہیں کہ مَیں پروفیشنلز کی خدمات حاصل کر سکوں، تو میرا بیٹا ہی میرے لیے تمام خدمات انجام دے رہا ہے۔ مَیں روزانہ صبح و شام کے اوقات میں ڈیڑھ گھنٹا واک اور تین گھنٹے کسرت کرتا ہوں۔ ہر تین گھنٹے بعد کھانا کھاتا ہوں، جس میں گوشت، مچھلی اور چاول شامل ہیں، جب کہ روٹی اور مسالے دار اشیا سے دُور رہتا ہوں، کیوں کہ ان کی وجہ سے کھال موٹی ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، میرے لیےآٹھ گھنٹے کی پُر سکون نیند بھی ضروری ہے کہ اسی دوران مسلز نمو پاتے ہیں،وگرنہ دن بھر کی محنت ضایع ہو جائے۔‘‘ سیّد فضل الٰہی کا کہنا ہے کہ ’’ اس وقت کراچی کے تقریباً75 فی صد ٹرینرز میرے تربیت یافتہ ہیں، جن میں سے متعدد مسٹر کراچی، مسٹر سندھ اور مسٹر پاکستان تک کا ٹائٹل حاصل کر چُکے ہیں۔‘‘ فضل الٰہی اگلے کئی برسوں تک باڈی بلڈنگ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی حوالے سے اُن کا کہنا ہےکہ ’’عالمی ایونٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے سے پہلے مَیں خاصا مایوس تھا کہ میری ساری زندگی باڈی بلڈنگ کرتے گزری، لیکن مجھے اس کا کوئی ثمر نہیں ملا۔ نام کمایا اور نہ ہی پیسا۔ 

مگر یہ ٹائٹل ملنے کے بعد بے حدخوش ہوںکہ اب مجھے دُنیا بَھر کے باڈی بلڈرز میں ایک شناخت مل گئی ہے۔‘‘ اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے علاوہ اہلیہ اور پانچ بچّوں کی کفالت کی ذمّے داری بھی فضل الٰہی کے کاندھوں پر ہے۔ اور انہوں نےاپنے بچّوں کو تعلیم بھی دلوائی ہےاور ان کی بہتر پرورش بھی کی۔ وہ ’’پروشو ‘‘نامی عالمی ایونٹ میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد سینٹ ماریو، آرنلڈ کلاسک، مسٹر یونی وَرس اور مسٹر اولمپیا کا مرحلہ آتا ہے۔ ان مقابلوں کے لیے عُمر کی کوئی قید نہیں۔ بس ہر مرحلے میں پہلی تین پوزیشنز میں سےکوئی ایک پوزیشن حاصل کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر سرکاری سطح پر میری سرپرستی کی جائے، تو مَیں مسٹر یونی وَرس اور مسٹر اولمپیا کا ٹائٹل بھی جیت سکتا ہوں۔‘‘

’’والد اعلیٰ تعلیم یافتہ باڈی بلڈر کے رُوپ میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘،فہدفضل

سیّد فضل الٰہی کے سب سے بڑے صاحب زادے 19سالہ فہدکو بھی باڈی بلڈنگ کا شوق ہے، مگر انہوں نے تن ساز ی کی بجائے ٹرینر بننے کو ترجیح دی۔ وہ والد کے علاوہ اپنے جِم میں آنے والے دیگرباڈی بلڈرز کی بھی تربیت کرتے ہیں۔ فہد کا کہنا ہےکہ ’’ مَیں والد کی وجہ سے باڈی بلڈنگ کی جانب راغب ہوا، البتہ میں باڈی بلڈنگ کی بجائے دوسروں کو ٹریننگ دیتا ہوں۔ چُوں کہ میں اسی فیلڈ میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں، لہٰذا ہیلتھ اینڈ فزیکل سائنسز میں گریجویشن کا ارادہ ہے، جب کہ والد مجھے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ باڈی بلڈر کے رُوپ میں دیکھنا چاہتے ہیںکہ جس کے پاس ڈگریز بھی ہوں اور ٹائٹلز بھی۔‘‘