آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسلام نے خواتین کومردوں کے مقابلے میں نہ صرف برابری کے حقوق دیئے ہیں بلکہ ماں ، بہن اور بیٹی ہونے کے ناتے انہیں نمایاں رتبہ عطا کیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں، خاص کر سندھ میں زمانہ جاہلیت جیسے فرسودہ قوانین رائج ہیں جن کے تحت معاشرے میں مردوں کی حاکمیت قائم ہے اور مردوں کے معاشرے میں عورتوں کو کمتر مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں آج 73سال بعدبھی عورتوں کے ساتھ فرسودہ روایات پر مبنی جاہلانہ برتاؤ کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے۔

قبائلی اور برادری کے قواانین میں پسند کی شادی اور خاندانی روایات سے انحراف قابل سزا جرم سمجھا جاتا۔ان ’’گناہوں ‘‘ کی مرتکب خواتین ،برادری یا قبائلی سرداروں کے حکم پرا ن کے ہی عزیز و اقارب کے ہاتھوں بہیمانہ طور سےموت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں جب کہ انکے قاتل قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں اور بالفرض وہ گرفتار بھی ہوجائیں تو اثررسوخ کا استعمال کرکے چند روز میں بری ہوجاتے ہیں۔

اندرون سندھ خواتین کے ساتھ ظالمانہ اوربہیمانہ رسم و رواج کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔ان میں کاروکاری ،چراورونی سمیت دیگر غیرانسانی رسموں اورجابرانہ سوچ اور رویوں نے 21ویں صدی میں بھی اپنے دہشت ناک پنجے گاڑے ہوئے ہیں ، ملک کے بڑے شہروں کے عوام کی اکثریت کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ’’کاروکاری ‘‘کی رسم کیا ہے۔ کسی بھی خاتون پر بدکرداری کا الزام لگا کرپنچایت کے فیصلےپرماورائے قانون موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے جب کہ مذکورہ خاتون کی بے گناہی کے لیے برادری کے سرکردہ افراد کسی بھی قسم کی تحقیق و تفتیش کرنا گوارہ نہیں کرتے۔

پاکستان خاص کر سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین کوآگ لگا کریا تیزاب پھینک کر زندہ جلانے کے واقعات بھی عام ہیں۔9جون 2016 میں میںسینیٹ کے اجلاس میں اس وقت کے چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے خواتین کو زندہ جلانے کے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ تیزاب اور آگ لگا کر جلانے کے واقعات کو پاکستان پینل کوڈ میں سنگین جرم کے طور پر شامل کیا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے یہ معاملہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کوبھی بھجوایا تھا لیکن اس قبیح جرم کے انسداد کے لیے آج تک کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

چند روز قبل پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے نام سے منسوب شہر ، شہید بے نظیر آباد میں خواتین کو زندہ جلانےکے دو واقعات رونما ہوئے۔ان واقعات کی شکار خواتین موت و زیست کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اپنے ہی شوہروں کے ہاتھوں تیزاب اور پیٹرول سے جلائی گئی مذکورہ خواتین زندہ تو بچ گئیں لیکن اان کی حالت مردے سے بھی بدتر ہے۔ جس طرح سے ان کےجسم جھلسے ہیںاسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بدقسمت خواتین اگر زندہ بھی رہیں تو زندہ درگور ہوجائیں گی۔پہلا واقعہ رفیق ٹاؤن کے قریب کچی آبادی میں پیش آیا جہاں شوہر نے بہن کی شادی میں شرکت کے لئے اصرار کرنے پر اپنی بیوی جوکہ دو بچیوں کی ماں تھی، زندہ جلانے کی کوشش کی۔ تیزاب گردی سے اس کا چہرہ اور جسم کا زیادہ تر حصہ جھلس گیا۔ 

اسے نازک حالت میں نواب شاہ کےسرکاری اسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں مناسب سہولتیں دستیاب نہ ہونے کے باعث کراچی کے سرکاری اسپتال کے برنس وارڈ بھیج دیا گیا جہاں وہ موت وزیست کی کشمکش میںمبتلا ہے۔ جھلسنے والی خاتون ثمینہ کے رشتہ داروں کے مطابق اس نے اپنے شوہر شہزاد یوسف زئی سےبہن کی شادی میں شرکت کے لیے میکے جانے کی اجازت مانگی تھی۔ شہزاد نے اسے شادی میں شرکت سے منع کیا جس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا۔ شہزاد نے اشتعال میں آکر اس پر تیزاب پھینک کر نہ صرف زندہ جلادیا بلکہ مجروح خاتون کو انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی بچیوں کے ساتھ کمرے میں قید کردیا ۔ 

زخموں سے تڑپتی ثمینہ بچیوں کے ساتھ بھوکی پیاسی کمرے میں قید پڑی رہی۔ اس واقعے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ثمینہ کی ساس ،سسر سمیت گھر میں موجود کسی شخص کو بھی اس پر رحم نہیں آیا ۔ محلے کے افراد کو جب اس واقعے کی بھنک ملی تو انہوں ثمینہ کے والدین کو مطلع کیا جنہوں نےایئرپورٹ تھانے میں پولیس کواطلاع دی۔ پولیس نے چھاپہ مار کر زخمی خاتون کو بازیاب کرکے اسپتال پہنچایا۔ پولیس کے مطابق ملزم شہزاد نے جھگڑے کے دوران ثمینہ پر پہلے پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی لیکن ناکامی کے بعد اس نے اس پر تیزاب پھینک کر جھلسے ہوئے بدن کے ساتھ کمرے میں بند کردیا ۔ پولیس نے ثمینہ کے شوہر شہزاد اور واقعے میںمعاونت کرنے پر ساس اور سسر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد انہیں گرفتار کرلیا۔

اس واقعہ کا درد ناک پہلو یہ بھی ہے کہ زخمی ثمینہ کو پیپلز میڈیکل اسپتال میںداخل کیا گیا لیکن اسے وہاں منابسب علاج معالجہ میسر نہیںآیا اور اسے تشویش ناک حالت میں کراچی بھیج دیا گیا۔ ایک ارب روپیہ سے زائد فنڈز کا حامل ایسا اسپتال جہاں ضلع شہید بے نظیر آباد کے علاوہ سانگھڑ ،نوشہرو فیروز ،داد،مٹیاری کے علاوہ دیگر اضلاع کے مریض بھی علاج کے لئےآتے ہیں، وہاںآگ یا تیزاب سے جھلسنے والے افراد کے لیے برنس وارڈ موجود نہیں ہےاور جلنے والے بیشتر افراد کراچی منتقلی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔شوہر کی طرف سے بیوی کوزندہ جلانے کا دسرا واقعہ سٹھ میل تھانہ کی حدود میں پیش آیا۔ گوٹھ غلام حیدر مری میں شوہر نے اپنی بیوی کو ذہنی طور سے قبول نہ کرنے کی وجہ سےپیٹرول چھڑک کر آگ لگا کر مارنے کی کوشش کی۔

روزنامہ جنگ کوموصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دو بچوں کی ماں مریم مری کواس کے شوہرذاکر مری نےپیٹرول چھڑک کر آگ لگا کر قتل کرنے کی کوشش۔ذاکر مری اپنی بیوی کو نازک حالت میں تڑپتا چھوڑ کر موقع واردات سے فرار ہوگیا۔اسے بھی پیپلز میڈیکل اسپتال میںعلاج معالجہ ہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے کراچی منتقل کیا گیا۔ مریم کے جسم کا بیشتر حصہ بری طرح جھلس چکا ہے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ نواب شاہ جیسے بڑے شہر کے مرکزی اسپتال میں برنس وارڈ کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید